Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

خوشخبری دی کہ ان کے لیے بھی اتنا ہی ثواب ہے جتنا اس میں   شامل ہونے والوں   کا ہے ،  یہ حضرات چونکہ غنیمت اور ثواب کے لحاظ سے اِس میں   شمولیت کرنے والوں   کی مانند ہیں   لہٰذا علمائے کرام نے اِنہیں   اُن میں   شمار فرمایا ہے۔

٭…یہ وہ پہلا غزوہ ہے جس میں   انصار حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نکلے اِس سے قبل کسی غزوہ میں   وہ شریک نہ ہوئے تھے۔ اِس غزوہ میں   کفار کا لشکر کثیر تعداد میں   گھوڑوں   ،  تلواروں   اور سامان حرب سے لیس ایک ہزار فوجیوں   پر مشتمل تھا ،  جبکہ مسلمانوں   کے پاس سامان ،  گھوڑوں    ،  زادِ راہ اور اسلحہ کی قلت اتنی تھی کہ پورے لشکر میں   دو گھوڑے اور آٹھ تلواریں   تھیں   ،  اس کے باوجود   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور مؤمنوں   کو فتح ونصرت سے نوازا ،  کفار میں   سے ستر مقتول ہوئے اور ستر قیدی ہوگئے ،  مسلمانوں   کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ،  جس کی تفصیل حدیث وسیرت کی کتابوں   میں   موجود ہے۔بہرحال اس جنگ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بڑے بڑے فضائل حاصل ہوئے ،  تفصیل درج ذیل ہے:

فاروقِ اعظم کو قرآنی تائید حاصل ہوگئی:

ملکِ شام سے کفار کا ایک قافلہ سازوسامان کے ساتھ آرہا تھا ،   سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اَصحاب کے ساتھ اُس قافلے سے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے ،  اُدھر جب کفار مکہ کو معلوم ہوا تو ابوجہل بھی قریش کا ایک بڑا لشکر لے کر ملک شام سے آنے والے قافلے کی مدد کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ لیکن جب اُس قافلے کو معلوم ہوا کہ مسلمان اُن کے مقابلے کے لیے آرہے ہیں   تو اُنہوں   نے وہ راستہ تبدیل کردیا اور سمندی راستے کسی اور راہ نکل گئے۔ ابو جہل کو جب یہ معلوم ہوا تواُس کے ساتھیوں   نے کہا کہ قافلہ تو صحیح سلامت دوسرے راہ نکل گیا لہٰذا واپس مکہ مکرمہ چلتے ہیں   لیکن اُس نے واپس جانے سے اِنکار کردیااور مسلمانوں   سے جنگ کرنے کے لیے مقام بدر کی طرف چل پڑا۔اِدھر نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو معلوم ہوا تو آپ نے اپنے اَصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا:  ’’ اللہ تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کُفّار کے دونوں   گروہوں   میں   سے ایک پر مسلمانوں   کو فتح عطا

 فرمائے گا خواہ وہ ملک شام والا قافلہ ہو یا مکہ مکرمہ سے آنے والے کفار قریش کا لشکر۔ ‘‘  قافلہ چونکہ نکل چکا تھا لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بدر کی طرف جانے کا اِرادہ فرمایا۔ بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کی:  ’’ ہم باقاعدہ جنگ کی تیاری سے نہیں   آئے تھے ،  لہٰذا ابو جہل کے لشکر سے اِعراض کرکے اُسی ملک شام والے قافلے کا تعاقب کرنا چاہیے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جیسا آپ کے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو حکم فرمایا ہے ویسا ہی کیجئے یعنی بدر کی طرف تشریف لے چلیے۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ(۵)) (پ۹ ،  الانفال: ۵)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ جس طرح اے محبوب تمہیں   تمہارے ربّ نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بے شک مسلمانوں   کا ایک گروہ اُس پر ناخوش تھا۔ ‘‘  بعد اَزاں   تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بدرجانے پر اِجماع (اتفاق)ہوگیا اورغزوۂ بدر کا وقوع ہوا۔([1])

فاروقِ اعظم کا ایمان افروز جواب:

کچھ روایات میں   یوں   بھی ہے کہ غزوۂ بدر کے لیے جاتے ہوئے راستے میں   جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقام  ’’ رَوْحَاء ‘‘   سے روانہ ہو کر مقام  ’’ صَفْرَاء ‘‘   کے قریب پہنچے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ خبر ملی کہ مشرکین مکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے جنگ کی تیاری کرکے مکہ مکرمہ سے نکل آئے ہیں  ۔ یہ خبر سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مہاجرین واَنصار تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ فرمایا کہ  ’’ مشرکین سے جنگ کے لیے پیش قدمی کی جائے یا نہیں  ؟ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا مقداد بن اَسود کندی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نہایت ہی خوبصورت اور عمدہ جواب دیتے ہوئے عرض کیا:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہم حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرح آپ کو یہ نہیں   کہیں   گے :  (فَاذْهَبْ

اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(۲۴))  (پ۶ ،  المائدۃ: ۲۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’  تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں   لڑو ہم یہاں   بیٹھے ہیں   ۔ ‘‘   بلکہ ہم تو آپ کی بارگاہ میں   یہ عرض کرتے ہیں   کہ چلیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور آپ کا رب جنگ فرمائیں   ہم آپ کے ساتھ جنگ میں   شریک ہوں   گے ،  ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   ،  بائیں   ،  آگے ،  پیچھے لڑنے کے لیے تیار ہیں  ۔ ‘‘   یہ جواب سن کر حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بہت مسرور ہوئے اور خوشی سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا چہرۂ مبارکہ منور ہوگیا۔([2])

فاروقِ اعظم کی غیرت ایمانی:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جنگ بدر میں   اپنے اَصحاب سے فرمایا:   ’’ میں   جانتا ہوں   کہ بنو ہاشم اور دیگر قبائل کے چند مردوں   کو کفار جنگ میں   مجبور کرکے لائے ہیں   ،  انہیں   ہمارے ساتھ لڑنے کی کوئی چاہت نہ تھی ،  اس



[1]    تفسیربیضاوی ،  پ۹ ،  الانفال ،  تحت الآیۃ:  ۵ ،  ج۳ ،  ص۸۹ مختصرا ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۹۷ ،   الصواعق المحرقۃ ،  ص۱۰۰۔

[2]    دلائل النبوۃ للبیھقی ،  باب ذکر سبب خروج النبی۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۳۴۔



Total Pages: 349

Go To