Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو آپ کا یہ مشورہ بہت پسند آیااور آپ نے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز کے لیے بلانے کا حکم ارشاد فرمایا۔([1])

اذان کے جواب کی فضیلت:

مدینے کے تاجدار ،  ہم غریبوں   کے غمگسار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بار ارشاد فرمایا:   ’’ اے عورتو! جب تم بلال کو اذان واقامت کہتے سنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہو کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لیے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں   لکھے گا اور ایک ہزار درجات بلند فرمائے گا اور ایک ہزار گناہ مٹائے گا۔ ‘‘   خواتین نے یہ سن کر عرض کی:   ’’ یہ تو عورتوں   کے لیے ہے ،  مردوں   کے لیے کیا ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ مردوں   کے لیے دگنا۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت پر قربان! اس نے ہمارے لیے نیکیاں   کمانا ،  درجات بڑھوانا اور گناہ بخشوانا کس قدر آسان فرمادیا ہے۔ اگر کوئی اسلامی بہن روزانہ پانچوں   اذانوں   اور اقامتوں   کا جواب دے تو اسے روزانہ ایک کروڑ باسٹھ لاکھ نیکیاں   ملیں   گی ،  ایک لاکھ باسٹھ ہزار درجات بلند ہوں   گےاور ایک لاکھ باسٹھ ہزار گناہ معاف ہوں   گے۔جبکہ اسلامی بھائی کو دگنا یعنی تین کروڑ چوبیس لاکھ نیکیاں   ملیں   گی ،  تین لاکھ چوبیس ہزار درجات بلندہوں   گے اور تین لاکھ چوبیس ہزار گناہ معاف ہوں   گے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نواں باب

فاروقِ اعظم کے غزوات وسرایا

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔

غَزْ وَۂ  بَدْر اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْ وَۂ اُحَد  اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْ وَۂ بَنُو نَضِیْر اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْ وَۂ  بَدْرُ المَوْ   عِدْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

 غَزْ وَۂ   بَنِی مُصْطَلِقْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْ وَۂ   خَنْدَقْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ حُدَیْبِیَّہ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ خَیْبَر اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ فَتْحِ مَکَّہ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ حُنَیْنْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ طَائِفْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

غَزْوَۂ تَبُوْکْ اور  سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

سیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی جنگ مہم  ،  جَیْشِ ذَاتُ السَّلَاسِلجیش اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورسیدنا  فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  

فاروقِ اعظم کے غَزْوَات وسَرَایا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابتدائے اسلام میں   سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کفار سے جنگ کرنا حرام تھا ،  کفار سے جنگ کا حکم صفر المظفر کی ۱۲ تاریخ سن ۲ہجری کو نازل ہوا ،  اِس اِجازت سے قبل ستر ۷۰ سے زائد آیات مبارکہ جنگ کی ممانعت میں  نازل ہوتی رہیں   ،  جنگ کی ممانعت کی زیادہ تر آیات مکہ مکرمہ میں   نازل ہوئیں  ۔ جہاد کی اجازت کا یہ حکم اِنتہائی مناسب وقت پر نازل ہوا کیونکہ مکہ مکرمہ میں   مسلمان قلیل تعداد اورمشرکین کثیر تعداد میں   تھے۔ اگر وہاں   جنگ کا حکم نازل ہوتا تو مسلمانوں   کوسخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا۔ جب مکہ مکرمہ میں   کفار کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی ،  وہاں   سے تمام مسلمانوں   کو نکال دیا گیا اور مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شہید کرنے کی سازشیں   کی جانے لگیں   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بھی مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے۔صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی وہیں   جمع ہوگئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نصرت وحمایت پر کمربستہ ہوگئے ،  مدینہ منورہ دارُالاسلام بن گیا اور مسلمانوں   کے لیے قلعے کا کام دینے لگا تو جہاد کا بھی حکم دیا۔([3])

 ’’ غزوات ‘‘   و ’’ سرایا ‘‘   کسے کہتے ہیں  ؟

 



[1]    بخاری ،  کتاب الاذان ،  باب بدء الاذان ،  ج۱ ،  ص۲۲۰ ،  حدیث:  ۶۰۴ ملتقطا۔

[2]    کنزالعمال ،  کتاب الصلاۃ ،  آداب المؤذن ،  الجزء: ۷ ،  ج۴ ،  ص۲۸۷ ،  حدیث:  ۲۱۰۰۵۔

[3]    شرح الزرقانی علی المواھب ،  کتاب المغازی ،  ج۲ ،  ص۲۱۸ ملخصا ،  سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۱۴۳۔



Total Pages: 349

Go To