Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کی رہائش کا عوالی المدینہ میں   ہونے کی صراحت موجود ہے۔البتہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے اور مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَزواج مطہرات وچند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے گھر مسجد نبوی کے ساتھ ہی تعمیر فرمائے۔ ان میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گھر بھی تھا۔([1])

فاروقِ اعظم کا رشتہ مؤاخات:

واضح رہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مابین دو مرتبہ رشتہ مؤاخات قائم فرمایا تھا ،  ایک تو مکہ مکرمہ میں   اور ایک مدینہ منورہ میں  ۔ مکہ مکرمہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ رشتہ مؤاخات قائم فرمایا تھا اور جب سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے تو وہاں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک روایت کے مطابق سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے ساتھ رشتہ مؤاخات قائم فرمایا اور دیگر روایات میں   حضرت سیِّدُنا عویمر بن ساعدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عتبان بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ بن عفراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر بھی ہے۔([2])

فاروقِ اعظم نے رسول اللہ سے پہلے  ہجرت کیوں   کی؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   قبول اسلام کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سفر وحضر کے ساتھی تھے ،  واقعی یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے ہجرت کیوں   کی؟ حالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چاہتے تو سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بھی ہجرت کرسکتے تھے۔ اس کی چند نفیس وجوہات ہیں  :

٭…پہلی وجہ تو وہ ہے جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے بیان کی ،  فرماتے ہیں  :   ’’ ھجرت نمود  بسوئے مدینہ قبل از آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وتمھید وتوطیہ ساخت برائے قدوم وے صلی اللہ علیہ وسلم یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے ہجرت کی ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کے لیے وہاں   کی فضا کو مناسب و ہموار کیا۔ ‘‘  ([3])

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قبل ہجرت کرنے کی حقیقی وجہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت ہے۔

٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِعلانیہ ہجرت دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی ہجرت کے ذریعے کفار کے عزائم کو جاننا چاہتے تھے کہ میری اِعلانیہ ہجرت پر ان کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔جیسا رد عمل ہوتا آپ کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا دیگر مسلمان ویسا ہی قدم اٹھاتے۔

فاروقِ اعظم کی بارگاہِ رسالت میں   حاضری کا معمول:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ چلے گئے اور بعد میں   حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تشریف لے گئے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے پڑوسی صحابی حضرت سیِّدُنا عتبان بن مالک انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتے تھے ان کے ساتھ مشاورت کرکے یہ معمول بنا لیا تھا کہ ایک دن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضری دیتے اور دوسرے دن وہ حاضری دیتے اور دونوں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین کو اپنے ذہن میں   محفوظ کرلیتے اور ایک دوسرے کو بتاتے۔([4])

فاروقِ اعظم کے مشورے سے مؤذن کا تقرر:

جب تمام مسلمان ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے اور کفار قریش کے شر سے تقریباً محفوظ ہوگئے تو تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب سے پہلے اس بات کی طرف توجہ فرمائی کہ اب مسلمانوں   کے لیے اسلام کے فرائض وارکان وغیرہ کی تعیین کی جائے۔اب تک اذان کاکوئی خاص طریقہ متعین نہیں   ہوا تھا۔ سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بات کا مشورہ دیا کہ اذان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا جائے جو نماز کے لیے مسلمانوں   کو بلائے۔ چنانچہ ،  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :  ’’ جب مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کرکے آگئے تو نماز کی ادائیگی تو ہوتی تھی لیکن اذان نہیں   دی جاتی تھی تو ایک دن اس پر مشاورت کی گئی ،  بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ناقوس بجانے کا مشورہ دیا جس طرح نصاریٰ اپنی عبادت کے لیے بجاتے تھے ،  بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بوق (بِگل)بجانے کا مشورہ دیا جس طرح یہودی بجایا کرتے تھے۔لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا:   ’’ اَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ایسا کیوں   نہ کیا جائے کہ ایک شخص کو مقرر کردیا جائے جو نماز کے لیے بلایا کرے؟ ‘‘   شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    بخاری ،  کتاب العلم ،  باب التناوب فی العلم ،  ج۱ ،  ص۵۰ ،  حدیث: ۸۹ ماخوذا۔

[2]    طبقات کبری ، ذکر ھجرۃ عمر بن۔۔۔الخ ، ج۳ ، ص۲۰۶۔

[3]    ازالۃ الخفاء ، ج۳ ،  ص۱۶۰۔

[4]    بخاری ،  کتاب العلم ،  باب التناؤب فی العلم ،  ج۱ ،  ص۵۰ ،  حدیث:  ۸۹۔ ارشاد الساری ،  کتاب العلم ،  باب التناؤب۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۳۲۹ ،  تحت الحدیث: ۸۹ وغیرھا۔



Total Pages: 349

Go To