Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…جتنے بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے ہجرت کی کفار قریش کے ظلم وستم سے تنگ آکر اور ان سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر ہجرت کی اور کافروں   کو اس بات کا علم نہ ہونے دیا جبکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چھپ کر نہیں   بلکہ اعلانیہ ہجرت کی اور باقاعدہ کفار کے پاس جاکر ان کے علم میں   یہ بات لائے کہ میں   ہجرت کرکے جا رہاہوں   جس نے جو کرنا ہے کرلے ،  یہ انداز ہجرت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جراءت وبہادری اور عظیم الشان شجاعت کا واضح ثبوت ہے۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا اندازِ ہجرت دیکھ کر گویا یوں   محسوس ہوتاہے کہ آپ نے ہجرت مدینہ فقط اس لیے کی کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہجرت کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی

Description: C:Userskfmmr568DesktopCapture.PNG

سیرتِ طیبہ سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی حیات طیبہ کا مدار   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع پر تھا ۔ایک مرتبہ آپ نے دوران طواف حجراسود کو چوما تو اسے مخاطب کرکے یہی ارشاد فرمایا کہ میں   تجھے اس لیے چوم رہا ہوں   کہ تجھے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چوما ہے۔٭… مسلمان کفار کے ظلم وستم سے اتنا تنگ آچکے تھے کہ انہیں   ہجرت کرتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا تھا کہ کہیں   کفار ان کا پیچھا کرکے کوئی نقصان نہ پہنچائیں   لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی اس جراءت مندانہ ہجرت نے دیگر مسلمانوں   کے حوصلے بلند کردیے اور آپ کے پیچھے پیچھے دیگر مسلمان بھی ہجرت کرنے لگ گئے۔

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں   رہائش:

عہدِ رسالت میں   مدینہ منورہ ایک چھوٹا سا رہائشی علاقہ تھا ،  اس کے مختصر رقبے کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب مدینہ منورہ میں   مسجد نبوی شریف جتنے رقبے پر بنی ہوئی ہے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ہجرت کے وقت پورا مدینہ منورہ اتنے ہی رقبے پر آباد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے جب کوئی صحابی ہجرت کرکے آتا تو وہ مدینہ منورہ کے اطراف کے علاقے قبا وغیرہ میں   قیام کرتا ،  مدینہ منورہ کے اطراف کے علاقوں   کو  ’’ عوالی المدینہ ‘‘   بھی کہا جاتا تھا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب ہجرت کرکے تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی اسی علاقے میں   رہائش اختیار فرمائی۔صحیح بخاری کی ایک روایت میں   بالکل واضح طور پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ



Total Pages: 349

Go To