Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

قریش کے گروہ سے مذکورہ گفتگو فرما کر با ہر تشریف لے آئے اور کسی کافر کو آپ کے پیچھےآنے کی جرأت نہ ہوئی۔ البتہ چند کمزور لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے آگئے تو آپ نے ان کو سکھایا  ، کامیابی کا راستہ بتلایا ۔پھر مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔  ([1])

فاروقِ اعظم کے رفیق ہجرت:

حضرت سیِّدُنا ابن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رفیق ہجرت حضرت سیِّدُنا عیاش بن ابی ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے ،  ان دونوں   نے اکٹھے ہجرت کی۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے خود بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   کہ ہجرت کا ارادہ کرکے میں   ،  عیاش بن ابی ربیعہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )اور ہشام بن عاص بن وائل (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) تینوں   مکہ مکرمہ سے باہر نکلے اور قبیلہ بنو غفار کے قریب مقام  ’’ تَنَاضِب ‘‘   پر اکٹھے ہوکرمشورہ کیا کہ کل صبح ہم تینوں   یہاں   پہنچ جائیں   گے۔ اگر تینوں   میں   سے کوئی نہ آیا تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اسے روک لیا گیا ہے۔ لہٰذا باقی دونوں   ہجرت کرجائیں   گے۔ ‘‘   فرماتے ہیں  :   ’’ اگلے دن میں   اور عیاش بن ابی ربیعہ تو پہنچ گئےلیکن ہشام بن عاص بن وائل کو روک لیا گیا۔بہرحال ہم مدینہ طیبہ ہجرت کرگئے۔ ‘‘  ([2])

ہجرت فاروقِ اعظم کا مدنی قافلہ:

حضرت سیِّدُنا عیاش بن ابی ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تو وہ تھے جنہوں   نے باقاعدہ مشاورت کے ساتھ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی معیت میں   ہجرت مدینہ کی ،  البتہ ان کے علاوہ بھی کئی ایسے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تھے جنہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ہجرت کی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بھی ہجرت کی:

(1) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھائی حضرت سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  (2)حضرت سیِّدُنا عمرو بن سراقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   (3)اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سراقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ    (4)حضرت سیِّدُناخنیس بن حذافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  (5) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بہنوئی حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  (6)حضرت سیِّدُنا واقد بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (7)حضرت سیِّدُنا خولی بن ابی خولی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  (8)حضرت سیِّدُنا ہلال بن ابی خولی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (9)حضرت سیِّدُنا عیاش بن ابی ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (10) حضرت سیِّدُنا خالد بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (11)حضرت سیِّدُنا ایاس بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (12)… حضرت سیِّدُنا عاقل بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہجرت کرکے جب یہ مدینہ منورہ پہنچے تو یہ تمام حضرات قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے صحابی حضرت سیِّدُنا رفاعہ بن منذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں   تشریف فرما ہوئے۔([3])

بعدہجرت تیسرے نمبر پر مدینہ منورہ پہنچے:

حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے والوں   میں   ہمارے پاس سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اوران کے بعد نابینا صحابی حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پہنچے اور یہ دونوں   لوگوں   کو قرآن پڑھاتے تھے۔ ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ پہنچے۔ ہم نے عرض کیا:   ’’ مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہجرت نہیں   کی؟ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ هُوَ عَلٰى اَثَرِيْ یعنی وہ ہمارے پیچھے پیچھے تشریف لا رہے ہیں  ۔ ‘‘   پھر چند دنوں   کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ تشریف لے آئے۔ حضرت سیِّدُنا براء بن عاذب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :  ’’ فَمَا رَاَيْتُ اَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی میں   نے مدینے والوں   کو اتنا خوش پہلے کبھی نہ دیکھا تھا جتنا خوش رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف آوری پر دیکھا تھا۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کے بیٹے سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی ہجرت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد ہجرت کی۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عقبہ بن حریث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے ہجرت کی تھی یا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے والد سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ لَا بَلْ ھُوَ ھَاجِرٌ قَبْلِیْ وَھُوَ خَیْرٌ مِّنِّیْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے پہلے ہجرت کی تھی اور وہ دنیا وآخرت دونوں   میں   مجھ سے بہتر ہیں  ۔ ‘‘  ([5])

ہجرتِ فاروقی سیرتِ فاروقی کا ایک روشن باب:

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی ہجرت آپ کی سیرت کا ایک ایسا روزشن باب ہے جس کے ہر پہلو سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عشق ومحبت اور آپ کی واضح شان وشوکت نمایاں   نظر آتی ہے۔ مثلا:

 



[1]    اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۴۔

[2]    اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،   ج۴ ،  ص۱۶۴۔

[3]    تھذیب الاسماء ،  عمر بن الخطاب۔۔۔الخ  ،   ج۲ ،  ص۳۲۶ ،  اسد الغابۃ  ، عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۴۔

[4]    بخاری ، کتاب مناقب الانصار ،   مقدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم  ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۶۰۰ ،  حدیث: ۳۹۲۵۔ اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۴ ملخصا۔

(4)…سب سے پہلے قاضی بننے والے:

  • (5)…سب سے پہلے ’’ دُرَّہ ‘‘ بنانے والے:

  • (6)…سب سے پہلے ہجری تاریخ کی ابتدا کرنے والے:

  • ایک اہم وضاحت:

  • (7)…سب سے پہلے راتوں کودورہ کرنے والے:

  • (8)…سب سے پہلے خلیفہ جن کے دور میں بے شمار فتوحات ہوئیں :

  • (9)…سب سے پہلے درازیٔ عمر کی دعا دینے والے:

  • (10)…سب سے پہلے تائید الہی کی دعا دینے والے:

  • (11)…سب سے پہلے ہجوکرنے پرسزا دینے والے:

  • (12)…سب سے پہلے جلا وطنی کی سزا دینے والے:

  • (13)…سب سے پہلے اہل عرب کی عدم غلامی کا قاعدہ مقرر کرنے والے:

  • (14)…سب سے پہلے یہود کو عرب سے نکالنے والے:

  • (15)…سب سے پہلے وارث بننے والے دادا:

  • (16)…سب سے پہلے وارث بننے والے آقا:

  • (17)…سب سے پہلے امام جنہوں نے شہادت پائی:

  • فاروقِ اعظم کی مذہبی اَوّلیات

  • (18)…سب سے پہلے جمع قرآن کا مشورہ دینے والے:

  • (19)…سب سے پہلے جماعتِ تراویح قائم کرانے والے:

  • (20)…سب سے پہلے نمازجنازہ کی چار تکبیرات پر اجماع قائم کرانے والے:

  • (21)…سب سے پہلے اذان کے الفاظ میں اضافہ کرنے والے:

  • (22)…سب سے پہلے اصحابِ فرائض میں  مسئلۂ عَول ایجاد کرنے والے:

  • (23)…سب سے پہلے شراب پر اَسی کوڑے لگانے والے:

  • (24)…سب سے پہلے مال کوملکیت میں رکھ کر صدقہ کرنے والے:

  • (25)…سب سے پہلے ائمہ ومؤذنین کی تنخواہیں جاری کرنے والے:

  • (26)…سب سے پہلےمسجد حرام کی توسیع وکشادگی کرنے والے:

  • (27)…سب سے پہلے مسجد حرام کی بیرونی دیوار بنانے والے:

  • (28)…سب سے پہلے مسجدوں کو روشن کرنے والے:

  • (29)…سب سے پہلے مسجد نبوی کا فرش پکا کرانے والے:

  • (30)…سب سے پہلے مسجد میں  چٹائیاں بچھانے والے:

  • (31)…سب سے پہلے مسجد نبوی کی توسیع کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی فلاحی اَوّلیات

  • (32)…سب سے پہلے نہریں کھدوانے والے:

  • (33)…سب سے پہلے شہروں کو تعمیر کرانے والے:

  • (34)…سب سے پہلے مفتوحہ ممالک کو تقسیم کرنے والے:

  • (35)…سب سے پہلے مردم شماری کرانے والے:

  • (36)…سب سے پہلے معلموں اورمدرسوں کے مشاہرے مقرر کرنے والے:

  • (37)…سب سے پہلے گورنروں کی تنخواہیں  مقرر کرنے والے:

  • (38)…سب سے پہلے لوگوں کے لیے وظائف مقرر کرنے والے:

  • (39)…سب سے پہلے شیر خواربچوں کے وظائف مقرر کرنے والے:

  • (40)…سب سے پہلے لاوارث بچوں کی پرورش کا انتظام کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی اِدارتی اَوّلیات

  • (41)…سب سے پہلے بیت المال قائم کرنے والے:

  • ایک اہم وضاحت:

  • (42)…سب سے پہلے دیوان بنانے والے:

  • (43)…سب سے پہلے جیل خانہ قائم کرنے والے:

  • (44)…سب سے پہلے پولیس کا محکمہ قائم فرمانے والے:

  • (45)…سب سے پہلے مسافر خانے اور گودام بنوانے والے:

  • (46)…سب سے پہلے شہروں میں  مہمان خانے قائم کرنے والے:

  • (47)…سب سے پہلےخبر رسانی کا نظام بنانے والے:

  • (48)…سب سے پہلے شورائی نظام قائم فرمانے والے:

  • (49)…سب سے پہلے شہروں میں قاضی مقرر کرنے والے:

  • (50)…سب سے پہلے عمال کے کاموں کو بیان کرنے والے:

  • (51)…سب سے پہلے عمال کا احتساب مکتب بنانے والے:

  • (52)…سب سے پہلے جنگلات کی پیمائش کرانے والے:

  • (53)…سب سے پہلے پہاڑوں کی پیمائش کروانے والے:

  • فاروقِ اعظم کی معاشی اَوّلیات

  • (54)…سب سے پہلے مصر سے مدینہ اَناج منگوانےوالے:

  • (55)…سب سے پہلےدریائی قیمتی مال پر محصول مقرر کرنے والے:

  • (56)…سب سے پہلے اسلامی سکے رائج کرنے والے:

  • (57)…سب سے پہلے حربی تاجروں پرعشرمقرر کرنے والے:

  • (58)…سب سے پہلے تجارت کے گھوڑوں پر زکوۃ مقرر کرنے والے:

  • (59)…سب سے پہلے بنو تغلب کے عیسائیوں سے محصول وصول کرنے والے:

  • (60)…سب سے پہلے کتابیوں سے بطریق معیشت جزیہ لینے والے:

  • فاروقِ اعظم کی جنگی اَوّلیات

  • (61)…سب سے پہلے فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے والے:

  • (62)…سب سے پہلے فوجیوں کی گھروں سے جدائی کی مدت معین کرنے والے:

  • (63)…سب سے پہلے جنگی گھوڑے کا حصہ نافذ کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی اُخروی اَوّلیات

  • (64)…سب سے پہلے نامۂ اَعمال دائیں ہاتھ میں دیے جانے والے:

  • سترہواں باب

  • وصالِ فاروقِ اعظم

  • فاروقِ اعظم کا آخری حج:

  • فاروقِ اعظم اور شہادت کی دعا

  • مدینہ منورہ میں شہادت کی دعا:

  • فاروقِ اعظم کی شہادت کی دعا:

  • تورات میں فاروقِ اعظم کی شہادت کا ذکر:

  • اللہچاہے تو شہادت سے نواز سکتاہے :

  • شہادت فاروقِ اعظم پر لوگوں کو اطلاع

  • سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری کا خواب:

  • سیِّدُنا حذیفہ اورذکرِ شہادتِ فاروقِ اعظم:

  • اجنبی شخص اور شہادت فاروقِ اعظم :

  • فاروقِ اعظم اور شہادت کی خبر

  • فاروقِ اعظم نے اپنی شہادت کی خبر دی:

  • جن اور شہادت فاروقِ اعظم کی خبر:

  • فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ

  • ابولؤلؤ کا فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ:

  • قاتل نے خود کشی کرلی:

  • امیر کی اطاعت میں ہی بہتری ہے:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کو گھر لایا گیا:

  • فاروقِ اعظم کا قاتل کون تھا؟

  • فاروقِ اعظم کاشکر ادا کرنا:

  • سیِّدُنا کعب کی شہادت کی یاددہانی:

  • عبدالرحمن بن عوف نے نماز فجر پڑھائی:

  • ہماری عمریں بھی فاروقِ اعظم کو لگ جائیں :

  • فاروقِ اعظم نے نماز فجر ادا کی:

  • تین دن تک نماز ادا فرمائی:

  • عیاد ت کےلیے لوگوں کی بے تابی:

  • انتقال کے وقت بھی فکر آخرت:

  • اللہ کا حکم پورا ہو کر رہے گا:

  • شہادت سے قبل چند وصیتیں :

  • موت مؤخر کرنے کی دعاکی درخواست:

  • فاروقِ اعظم اور بنی اسرائیل کا عادل بادشاہ:

  • فاروقِ اعظم جنتی ، مولاعلی کی گواہی:

  • رب تعالی فاروقِ اعظم کو عذاب نہ دےگا:

  • قیامت کے دن گواہی دو گے؟

  • فرشتے غصہ کرتے ہیں :

  • میت پر رونے سے میت کو عذاب:

  • میت کو عذاب دیے جانے کی وجوہات:

  • جنازے کو جلدی لے کرچلنے کی وصیت:

  • جنازے کے ساتھ آگ وعورت کی ممانعت:

  • رخسار زمین سے ملا دینے کی وصیت:

  • قرض کی ادائیگی کی وصیت:

  • انتخابِ خلیفہ کے لیے مجلس شورٰی کا قیام

  • اِنتخاب خلیفہ میں فاروقِ اعظم کی خواہش:

  • رسول اللہ کی سنت پر عمل :

  • فاروقِ اعظم کی خلیفہ کو وصیت:

  • فاروقِ اعظم کی قبر اَنورکی کھدائی:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی شہادت

  • مغفرت نہ ہوئی تو ہلاکت ہے:

  • شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولاعلی

  • فاروقِ اعظم محبوب شیر خدا:

  • مولاعلی کی پسندیدہ شخصیت:

  • رسول اللہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب:

  • فاروقِ اعظم کا غسل مبارک

  • فاروقِ اعظم کو کس نے غسل دیا؟

  • کتنی بار اور کس پانی سےغسل دیا گیا؟

  • مشک سے غسل کی ممانعت:

  • فاروقِ اعظم کا کفن مبارک

  • کن کپڑوں میں تکفین کی گئی؟

  • کتنے کپڑوں میں تکفین کی گئی؟

  • فاروقِ اعظم کی نماز جنازہ

  • رسول اللہ کی چارپائی پر جنازہ:

  • چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ:

  • فاروقِ اعظم کا جنازہ پڑھانے والے صحابی:

  • قبر ومنبر کے درمیان جنازہ:

  • جنازے کے بعد مدح وثناء:

  • فاروقِ اعظم کی تدفین

  • سیدہ عائشہ سے تدفین کی اجازت:

  • چار صحابہ نے قبر میں اتارا:

  • قبر میں فاروقِ اعظم کا جسد مبارک:

  • فاروقِ اعظم کا پاؤں مبارک ظاہر ہوگیا:

  • شہادت کے بعد آپ کے اصحاب کے تاثرات

  • مسلمانوں پر سب سے بڑی مصیبت:

  • آپ کی شہادت میں بدترین مخلوق کا ہاتھ :

  • فاروقِ اعظم ، اسلام کا مضبوط قلعہ:

  • فاروقِ اعظم کے چاہنے والے کتے سے محبت:

  • اِسلام آج کمزور ہوگیا:

  • حق واہل حق دور نہ ہوتے تھے:

  • گویا قیامت قائم ہوگئی:

  • دنیا سے تہائی علم چلا گیا:

  • اِسلام آگے بڑھنے والاتھالیکن۔۔۔:

  • ہرگھر میں نقص داخل ہوگیا:

  • امیر المؤمنین کی وفات کالوگوں پراثر:

  • مولاعلی اور خلفائے راشدین:

  • مولاعلی اور افضلیت شیخین:

  • صحابہ کرام کی فاروقِ اعظم سے محبت:

  • وصالِ فاروقِ اعظم اور جنات

  • فاروقِ اعظم کی وفات پر ایک جن کے اشعار:

  • فاروقِ اعظم کی وفات پردو غیبی اَشعار:

  • تدفین کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ کاپردہ کرنا:

  • سیدہ عائشہ صدیقہ کا عقیدۂ حیات النبی:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی عمر اور زمانۂ خلافت:

  • فیضانِ مزارات ثلاثہ

  • تینوں قبور مبارکہ کی اندرونی کیفیت :

  • تینوں قبور مبارکہ کی بیرونی کیفیت :

  • تینوں قبور مبارکہ کی وضع وساخت:

  • چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے:

  • سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تدفین:

  • سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سبز عمامہ شریف میں :

  • پانچ کونوں والی دیوار:

  • سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار:

  • مقصورہ شریف کی وضاحت:

  • رسول اللہ کی قبر انور کی موجودہ تصاویر:

  • مزارات پر حاضری دینا سنت ہے:

  • شفاعت واجب ہوگئی:

  • سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی روضۂ رسول پر حاضری:

  • سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ کی روضۂ رسول پر حاضری:

  • سیِّدُنا انس بن مالک کی روضہ رسول پر حاضری:

  • سرکار کا سلام عطّار کے نام:

  • اٹھارہواں باب

  • فضائل فاروقِ اعظم بزبان اولیاءِ امتِ

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام جعفر صادق

  • میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں :

  • جو ابوبکروعمرکی فضیلت نہیں جانتاوہ جاہل ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام زین العابدین

  • عہدِ رسالت میں شیخین کا مقام:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنامحمد بن سیرین

  • فاروقِ اعظم کی شان گھٹانے والامحب نبی نہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناسفیان ثوری

  • تمام مہاجرین وانصار صحابہ کو خطاوار ٹھہرانے والا:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شریک

  • مولاعلی کو شیخین پر مقدم کرنے والے میں کوئی خیر نہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا اسامہ

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر اسلام کے ماں باپ ہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مجاہد

  • فاروقِ اعظم کی رائے کے مطابق نزول قرآن:

  • شیاطین کو بیڑیاں لگی ہوئی تھیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام مالک

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر کا مقام قرب:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شقیق

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت سنت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان امام حسن

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت فرض ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا زید بن علی

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر سے براءت مولا علی سے براءت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن مغول

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر کی محبت کی وصیت:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن انس

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا جبریل امین

  • فاروقِ اعظم کی رضاحکم اورجلال عزت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان حضور داتا گنج بخش

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے اوصاف حمیدہ:

  • گوشہ نشینی کے دو طریقے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا سراج طوسی

  • شان فاروقِ اعظم بزبان اعلی حضرت

  • شان فاروقِ اعظم بزبان برادر اعلی حضرت

  • شان فاروقِ اعظم بزبان مفتی احمد یار خان نعیمی

  • شان فاروقِ اعظم بزبانِ امیر اہلسنت

  • انیسواں باب

  • شانِ فاروقِ اَعظم بزبان مستشرقین وغیرمسلم لیڈر

  • ’’ مائیکل ایچ ہارٹ کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ سٹینلے لین پول کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ولیم میورکا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ایم ، این رائےکا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ڈیوش ولندیزی فاضل کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ پنڈت ہنس راج کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ لالہ لاجبت رائے کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ گاندھی کا خراج تحسین ‘‘

  • حیاتِ فاروقِ اعظم تاریخ کے آئینے میں