Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ مدینہ منورہ کا قدیم نام  ’’ یثرب  ‘‘  تھا ،  یہ بیماریوں   کا شہر کہلاتا تھا لیکن جیسے ہی اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نسبت ہوگئی وہ اب  ’’ یثرب ‘‘   نہ رہا بلکہ  ’’ مدینہ منورہ ‘‘   بن گیا ، اور اُسے ایسی عظمت نصیب ہوئی کہ جسمانی وروحانی بیماروں   کے لیے  ’’ شفاخانہ  ‘‘  بن گیا۔

٭…   ’’ گھوڑا ایک عام جانور ہے اس کی حیثیت بھی ایک عام جانور کی سی ہے لیکن اسے مجاہدین سے نسبت ہوگئی ،  جس کی برکت سے اسے ایسی عظمت ملی کہ قرآن پاک میں   خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ۳۰سورۃ العادیات میں   ان جہادی گھوڑوں   کی قسم یاد فرمائی۔  ‘‘ 

٭…   ’’ عبد اللہ بن قحافہ کو جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نسبت ہوئی تو وہ صدیق اکبر بن گئے ،  عمر بن خطاب کو جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نسبت ہوئی تو وہ فاروقِ اعظم بن گئے ،  عثمان بن عفان کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نسبت ہوئی تو ذوالنورین بن گئے ،  علی بن ابی طالب کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نسبت ہوئی تو شیر خدا بن گئے۔  ‘‘  (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم)

٭…   ’’ رمضان المبارک کا ایک امتیاز یہ بتایا گیا کہ اس میں   قرآن پاک نازل ہوا یوں   اس کو نزول قرآن سے نسبت ہے ،  اسی نسبت کی وجہ سے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے رمضان المبارک کو قرآن سے آباد فرمایا۔ ‘‘ 

٭…   ’’ قرآن کریم کا یہ امتیاز بتایا کہ اس کو شب قدر میں   نازل کیا گیا یوں   قرآن کی شب قدر سے نسبت ہے۔ ‘‘ 

٭…   ’’ آب زم زم کو حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کے قدمین سے نسبت ہے اسی نسبت نے اس کو اتنا محترم بنادیا کہ ہر طواف کرنے والا اس سے اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ ‘‘ 

٭…   ’’ مجاہدین سے نسبت کی وجہ سے ان کی بیویوں   کے احترام کی ہدایت کی گئی۔ ‘‘ 

٭…   ’’ دائیں   بائیں   اوپر نیچے تمام سمتیں   ہیں   لیکن جب ان میں   سے کسی کو بیت اللہ سے نسبت ہوگئی تو اس کے احترام میں   اس سمت تھوکنے سے منع فرمادیا گیا۔ ‘‘ 

٭…   ’’ مٹی کی کیا حقیقت ہے مگر جب یہی مٹی حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے سموں   سے مس ہوتی ہے تو تریاق واکسیر بن جاتی ہے جس بے جان میں   ڈالیں   اسے زندہ کردیتی ہے۔‘‘ 

٭…   ’’ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام وحضرت سیِّدُنا ہارون عَلَیْہِ السَّلَام کے استعمال کی مبارک اشیاء لکڑی کے ایک صندوق میں   رکھی گئیں   تھیں   جس کو فرشتوں   نے اٹھایا تھا اور جس کی شان یہ بتائی گئی کہ میدان جنگ میں   اس کو آگے آگے رکھتے اور اس کی برکت سے مسلمان فتح ونصرت پاتے۔ ‘‘ 

٭…   ’’ ایک عام قمیص کسی کی آنکھوں   پر ڈالنے سے کوئی اثر نہیں   ہوتالیکن جب اس قمیص کی حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے نسبت قائم ہوگئی تو تو اس کی یہ شان ہوگئی کہ حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کے چہرے پر ڈالی گئی تو آنکھوں   میں   نور آگیا۔ ‘‘ 

٭…   ’’ دنیا میں   لاکھوں   اونٹ ہوں   گے لیکن جب ایک اونٹنی کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرت سیِّدُنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام سے نسبت ہوگئی تو اس کی یہ شان ہوگئی کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے نَاقَۃُ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی فرمایا اور اسے ایذاء دینے والی قوم ثمود کو تباہ وبرباد کردیا گیا ،  قوم کو ہدایت کردی گئی تھی اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں   دردناک عذاب آئے گا۔ اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا۔ ‘‘ 

٭…   ’’ اونٹنی تو اونٹنی ہے کتے بھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوبوں   کے محافظ اور دربان بن جائیں   تو محترم ہو جاتے ہیں   ،  اصحاب کہف کے کتے کی جب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان ولیوں   سے نسبت ہوگئی تو اس کی ایسی شان ہوگئی کہ قرآن پاک میں   اس کا تذکرہ آگیا۔ ‘‘  ایک پنجابی شاعر نہایت ہی خوبصورت انداز میں   کتے کی نسبت کو بیان کرتے ہیں  :

جنوں   نسبت پاکاں   دی مل جاوئے او جنتی اے

بھاویں   کتا ہووے بیٹھا کوئی غار دے بوہے تے

زندگی دا مزا آوے سرکار دے بوہے تے

موت آوے تے سر ہووے سرکار دے بوہے تے

٭…   ’’ نسبتوں   سے دن محترم ہوجاتے ہیں   ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے یوم ولادت اور یوم وصال کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے ،  اسی طرح حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے یوم ولادت اوریوم وصال کا اس وقت ذکر فرما کر دنیا کو حیران کردیا جب وہ ابھی شیر خوار ہی تھے۔ ‘‘ 

٭…   ’’ دنیا میں   پتھر توبہت سے ہیں   لیکن جب اسے حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے نسبت ہوگئی تو اس کی شان بلند ہوگئی اور قرآن پاک میں   اسے مقام ابراہیم کے نام سے یاد فرمایا گیا۔ ‘‘ 

٭…   ’’ دنیا میں   پہاڑ تو بہت ہیں   مگر جب صفا ومروہ کو حضرت سیدتنا ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے نسبت ہوگئی تو قرآن میں   ان کا ذکر آگیا بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں   کے لیے وہی سعی کرنا سعادت کا باعث بن گئی۔ ‘‘ 

٭…   ’’ دنیا میں   شہر تو بہت سارے ہیں   لیکن جب یثرب کہلانے والے شہر کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہوگئی تو وہ یثرب سے مدینہ منورہ ہوگیا۔ ‘‘ 

یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   انبیاء کرام ،  صحابہ کرام ،  اولیاء عظام اور ان سے منسوب تمام اشیاء کا ادب و احترام نصیب فرمایا ،  ہمیں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ



Total Pages: 349

Go To