Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَسَلَّم  کو تجھے چومتےہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں   بھی تجھے کبھی نہ چومتا۔ ‘‘  ([1])یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیا:   ’’ بَلٰى يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّهُ يَضُرُّ وَ يَنْفَعُیعنی اے امیر المؤمنین ! کیوں   نہیں   ،  یہ حجر اسود نفع بھی دیتاہے اور نقصان بھی دیتاہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ وہ کیسے؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ کتاب اللہ میں   ہے۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ کتاب اللہ میں   کہاں   ہے؟ ‘‘  عرض کیا:   ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْؕ-قَالُوْا بَلٰىۚۛ-) (پ۹ ، الاعراف: ۱۷۲) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اَولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں   خود ان پر گواہ کیا  ،  کیا میں   تمہارا رب نہیں   ؟سب بولے کیوں   نہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا فرمایاپھر آپ کی پیٹھ پر اپنے دست قدرت سے مسح فرمایااور تمام اولاد آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لیا کہ میں   تمہارا رب ہوں   اور عبودیت کا بھی اقرار لیا کہ تم سب میرے بندے ہو۔اورپھر ان سے عہد ومیثاق لیا اوران کا یہ میثاق وعہد ایک ورق میں   لکھ دیا۔ اس وقت حجر اسود کی دو آنکھیں   اور ایک زبان تھی رب عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے فرمایا:  ’’ اپنا منہ کھول۔ ‘‘   اس نے اپنا منہ کھولا تو وہ ورق اس کے منہ میں   ڈال دیا۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ اے حجر اسود! قیامت تک جو اپنے عہد کی پاسداری کرے تو اس کی گواہی دینا۔ ‘‘  مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے عرض کیا:   ’’  میں   اس بات کی گواہی دیتاہوں   کہ میں   نے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا کہ قیامت کے دن حجر اسود کواس حال میں   لایا جائے گا کہ اس کی ایک تیز اور فصیح زبان ہوگی جس سے وہ اس شخص کی گواہی دے گا جس نے ایمان کی حالت میں   اس کا استیلام ([2])کیا ہوگا اے امیر المؤمنین! یہی تو حجر اسود کا نفع ونقصان دینا ہے۔ ‘‘  مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کا یہ کلام مبارکہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَعِيْشَ فِيْ قَوْمٍ لَسْتَ فِيْهِمْ يَا اَبَا الْحَسَنیعنی میں   اس بات سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتاہوں   کہ میں   ایسی قوم میں   زندگی گزاروں   جہاں   اے ابو الحسن تم نہ ہو۔ ‘‘  ([3])

رسول اللہ کی حجر اسود پر مہربانی:

حضرت سیِّدُنا سوید بن غفلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حجر اسود کو چومنے کے بعد ارشاد فرمایا:  ’’ رَاَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا یعنی اے حجر اسود !میں   نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو تم پر مہربان دیکھا ہے۔ ‘‘  ([4])

اُسوۂ رسول اللہ پر عمل کرنے کی ترغیب:

حضرت سیِّدُنا یعلی بن امیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہمراہ طواف میں   مشغول تھے۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حجر اسود کا استیلام کیالیکن حضرت سیِّدُنا یعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کعبے کے چاروں   کونوں   کا استیلام کیا۔ حضرت عمر نے یہ عمل دیکھ کر ارشاد فرمایا:   ’’ کیا آپ نے رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے؟ ‘‘  انہوں   نے عرض کی:   ’’ جی بالکل کی ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ کیا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بھی کعبے کے چاروں   کونوں   کا استیلام کیا ہے؟  ‘‘   عرض کیا:   ’’ نہیں  ۔ ‘‘  (یعنی جیسا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا ویسے ہی تم بھی کیا کرو۔)([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحجر اسود سے اس لیے محبت فرمایا کرتے تھے اور اسے اس لیے چومتے تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے بوسہ دیا ،  نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حجر اسود کل بروز قیامت استیلام کرنے والوں   کے ایمان کی گواہی دے گا۔کتنے خوش نصیب ہیں   وہ لوگ جنہیں   حجر اسود چومنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔جنہیں   اب تک یہ سعادت حاصل نہ ہوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے انہیں   بھی یہ سعادت نصیب فرمائےاوراے کاش کہ ان تمام اسلامی بھائیوں   کا یہ مدنی ذہن بن جائے کہ اگراب تک ہمیں   یہ سعادت حاصل نہیں   ہوئی تو ہم حجر اسود کے علاوہ دیگر چیزوں   کے سامنے کلمہ طیبہ پڑھ کر انہیں   اپنے مسلمان ہونے پر گواہ کرلیں  ۔تاکہ وہ اشیاء کل بروز قیامت ہمارے ایمان کی گواہی دیں  ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   بھی اپنے محبوب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے حجراسود کو چومنے کی سعادت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اِسلام میں   نسبت کی بہاریں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے منسوب اشیاء ، اقوال وافعال سے کتنی محبت فرماتے تھے ،  جب ایک شےکی نسبت کسی معظم شخصیت سے ہوجائے تو کیا وہ شے بھی عظمت والی ہوجاتی ہے؟جی ہاں  ! واقعی اگر کسی عام چیز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں   سے نسبت ہوجائے تو وہ عام چیز پھر عام نہیں   رہتی بلکہ خاص ہوجاتی ہے۔اور پورے عالم میں   اس کے چرچے ہونے لگتے ہیں   ،  عالی نسبتوں   سے بے قیمت چیزیں   بھی قیمتی ہوجاتی ہیں   ،  ہمارے معاشرے میں   کئی اشیاء کا مدار بھی نسبتوں   پر ہے ،  ملکوں   اور مذہبوں   کی نسبت سے قومیں   پہچانی جاتی ہیں   ،  اور قوموں   کی نسبت سے افراد پہچانے جاتے ہیں   ،  انہی نسبتوں   پر رشتہ داریاں   قائم ہیں   ،  اسلامی معاشرے کاقیام اور اس کی بقا بھی نسبتوں   کی پاسداری پر ہے۔دین اسلام تو نسبتوں   کی بہاروں   سے بھرا ہوا ہے۔ چند مثالیں   ملاحظہ کیجئے:

 



[1]    مسلم  ، کتاب الحج ، استحباب تقبیل الحجر الاسود ،  ص۶۶۱ ،  حدیث:  ۲۴۸۔

[2]    حجر کو بوسہ دینے یا ہا تھ یا لکڑی سے چُھو کر چوم لینے یا اشارہ کرکے ہاتھوں   کو بوسہ دینے کو استلام کہتے ہیں  ۔بہارشریعت ،  ج۱ ،  حصہ۶ ،  ص۱۰۹۶۔

[3]    شعب الایمان ،  فضیلۃ الحجر الاسود۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۴۵۱ ،  حدیث: ۴۰۴۰۔

[4]    مسلم  ، کتاب الحج ، استحباب تقبیل الحجر الاسود ، ص۶۶۲ ،  حدیث: ۲۵۲۔

[5]    معجم اوسط ، من اسمہ محمد  ، ج۴ ،  ص۱۶ ،  حدیث: ۵۰۵۳۔



Total Pages: 349

Go To