Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

قبول کرچکے تھے اور آپ نے قبول اسلام کرکے چالیس مکمل کردیے اس لیے آپ کو  ’’ مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن ‘‘  چالیس کو پورا کرنے والا کہتے ہیں  ۔([1])

اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ حضرت عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس وقت ایما ن لائے جب کل مرد و عورت ۳۹ مسلمان تھے۔ آپ چالیسویں   مسلمان ہیں   ، اسی واسطے آپ کا نام ’’ مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن ‘‘  ہے یعنی چالیس مسلمانوں   کے پورا کرنے والے۔ ‘‘  ([2])

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ۳۹افراد اسلام لاچکے تھے حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مسلمان ہونے پر چالیس کی تعداد مکمل ہوگئ تو   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیج کر یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:  (ٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)) (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی! اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ‘‘  ([3])

(4)لقب ’’ اَعْدَلُ الْاَصْحَاب ‘‘  اور اس کی وجہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سب سے زیادہ عدل وانصاف فرمانے والے تھے ،  اسی سبب سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ اَعْدَلُ الْاَصْحَاب ‘‘   کہا جاتا تھا اور خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’ اَعْدَل ‘‘  (سب سے زیادہ عدل وانصاف کرنے والا) ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ،

 حضرت سیِّدُنا شداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اَبُوْبَكْرٍ اَرَقُّ اُمَّتِیْ وَاَرْحَمُهَا وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَخْیَرُ اُمَّتِیْ وَاَعْدَلُھَا وَعُثْمَانُ اَحْیٰی اُمَّتِیْ وَاَكْرَمُهَا وَعَلِیُّ  بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَلُبُّ اُمَّتِیْ وَاَشْجَعُهَا یعنی ابوبکر میری امت میں   سب سے زیادہ نرم و رحم دل اور عمر بن خطاب میری امت میں   سب سے بہتر و سب سے زیادہ عدل وانصاف کرنے والے اور عثمان میری امت میں   سب سے زیادہ با حیا اور عزت دار جبکہ علی بن ابی طالب میری امت میں   سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ بہادر ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

(5)لقب  ’’ امام العادلین ‘‘   اور اس کی وجہ

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں   عدل وانصاف کا ایسا عظیم الشان نظام قائم فرمایا کہ قیامت تک اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ

عَزَّ وَجَلَّ تمام حکمران اس سے فیض یاب ہوتے رہیں   گے۔ اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آنے والے کئی حکمرانوں   نے آپ ہی کے عدل وانصاف سے عدل کرنا سیکھا۔اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ امام العادلین  ‘‘  کہا جاتا ہے۔اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  امام اہلسنت ،  مجدددین وملت  ،  عاشق ماہ نبوت ،  پروانۂ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے بھی  ’’ فتاویٰ رضویہ شریف ‘‘   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس لقب سے یاد فرمایا ہے۔([5])

(6)لقب  ’’ غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن ‘‘   اور اس کی وجہ

قرآن مجید پارہ ۲۶ سورۃ الفتح آیت نمبر ۲۹میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے ،  جوپہلی خصوصیت بیان کی گئی ہے وہ ہے ’’ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ ‘‘   یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کفار کے معاملے میں   بہت سخت ہیں  ۔ کفر کی بدترین قسم منافقت ہے ،  جس کا ظاہر ایمان اور باطن کفر ہووہ منافق ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ شان تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی خداداد فہم وفراست سے فوراً منافقین کو پہچان لیتے اور اِن کی ہر طرح سے پکڑ فرماتے نیزان کی اِسلام دشمنی کو بالکل ناکام بنادیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن ‘‘   کہا جانے لگا یعنی منافقین پر بہت سختی فرمانے والے۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک یہودی اور منافق رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس فیصلہ کروانے گئے تونبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہودی کے حق میں   فیصلہ فرمادیا۔اس کے بعد منافق نے فاروقِ اعظم کی بارگاہ سے فیصلہ کرانے پر اصرار کیا ،  جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کے متعلق علم ہوا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فیصلہ  نہ ماننے کے سبب اس منافق کی گردن تن سے جدا کردی۔([6])

اعلی حضرت ، امامِ اہلسنت ،  مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ شریف میں   جگہ جگہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسی لقب  ’’ غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن ‘‘   کو آپ کے نام کے ساتھ ذکر فرمایاہے ،  نیزآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے منقول خطبات بنام  ’’ خطباتِ رضویہ ‘‘   میں   بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام کے ساتھ یہ لقب موجود ہے۔

(7)لقب ’’ سَیِّدُ الْمُحَدَّثِیْن ‘‘   اور اس کی وجہ

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ سَیِّدُ الْمُحَدَّثِیْن ‘‘   بھی کہا جاتاہے۔  ’’ مُحَدَّث ‘‘  عربی زبان میں   اس شخص کو کہا جاتاہے جسے صحیح اور درست بات کا الہام(یعنی رب تعالی کی طرف سے



[1]     معرفۃ الصحابۃ  ،  باب الارقم بن ابی الارقم ، ج۱ ،  ص۲۹۳ ملتقطا۔

[2]     ملفوظات اعلی حضرت ،  ص۳۹۷۔

[3]     معجم کبیر ، احادیث عبداللہ ابن عباس ، ج۱۲ ،  ص۴۷ ،  حدیث: ۱۲۴۷۰۔

[4]     اتحاف الخیرۃ المھرۃ ،  کتاب المناقب ،   فیما اشترک فیہ۔۔۔الخ ،  ج۹ ،  ص۲۱۴ ،  حدیث: ۸۸۴۷ ملتقطا۔

[5]     فتاویٰ رضویہ ،  ج۶ ،  ص۵۳۱۔

[6]     تفسیر مدارک ،  پ۵ ،  النساء ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ص۲۳۴ ملخصا ،  درمنثور ،  پ۵ ،  النساء ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ج۲ ،  ص۵۸۲۔



Total Pages: 349

Go To