Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

المبارک کی راتوں   میں   آسانی سے نماز تراویح وغیرہ عبادات کا اہتمام کرسکیں  ۔چنانچہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بیان فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ جَعَلَ فِی الْمَسْجِدِ الْمَصَابِیْحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی مساجد میں   سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے روشنی کےلیےچراغ چلائے۔ ‘‘  ([1])

متولی کو کیسا ہونا چاہیے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس مذکورہ بالا تمام حکایات سے جہاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مساجد سے بے پناہ عقیدت ومحبت کا پتہ چلتا ہے وہیں   یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مساجد کی خدمت کرنا ایک بہت ہی عظیم کا م ہے۔کتنے خوش نصیب ہیں   وہ لوگ جنہیں   مساجد کی خدمت کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔عرف عام میں   آج کل ایسے خوش نصیبوں   کو  ’’ متولی ‘‘   کہا جاتاہے۔بعض مساجد میں   مسجد کمیٹی یااس کے صدر کو بھی متولی کہا جاتاہے لہٰذاسیرتِ فاروقی کی روشنی میں    ’’ ایک متولی (یامسجد کمیٹی)کو کیسا ہونا چاہیے؟ ‘‘   سے متعلق چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں:

٭…   ’’ متولی کو چاہیے کہ خود کو مسجد کا خادم سمجھے اور مسجد کی خدمت میں   یہ نیت کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کی خدمت کرکے اس کی رضا حاصل کروں   گا ،  نہ یہ کہ لوگوں   کے سامنے میرا وقار بلند ہواور مسجد کے معاملات پر میری اجارہ داری قائم ہو۔ ‘‘ 

٭… مسجد کمیٹی یا متولی وغیرہ بلکہ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ مساجد کو غیر شرعی معاملات سے بچائے ،  اور مسجد کے آداب کا خصوصی اہتمام کرے مثلاشور شرابے ،  لڑائی جھگڑے ،  دنیاوی گفتگو ،  بھیک مانگنے ،  تھوکنے ،  انگلیاں   چٹخانے ، مسجد کو بچوں   پاگلوں   اور نجاست وغیرہ سے بچانے کا اہتمام کرے۔ ‘‘ 

٭…   ’’ مسجد کے انتظامی معاملات کے ساتھ ساتھ مسجد کو پاکیزہ رکھنے کا بھی خصوصی اہتمام کرے ،  اس کے لیے فقط مسجد کے خادم کی صفائی وغیرہ پر اکتفاء کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے بذات خود مسجد کی صفائی میں   حصہ لے کہ اس طرح دیگر نمازیوں   میں   بھی مساجد کی صفائی وغیرہ کے معاملے میں   دلچسپی پیدا ہوگی۔ ‘‘ 

٭…   ’’ مسجد کے ہر طرح کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھے ،  خصوصا مسجد کو بدبودار ہونے سے بچائے  ،  اس کے لیے اولا تو استنجاخانے وغیرہ مسجد سے دور کسی مقام پر بنانے چاہیے بصورت دیگر روزانہ ان کی صفائی ستھرائی کا اہتمام کرے تاکہ مسجد بدبودار ہونے سے محفوظ رہے۔([2])

٭…   ’’ مسجد کی بجلی چونکہ وقف کا مال ہے لہٰذا اسے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے خصوصی اہتمام کیا جائے ،  اس کے لیے مسجد کمیٹی خادمین کے بجائے آگے بڑھ کر خود ہی اضافی پنکھے ،  لائٹیں   وغیرہ بند کردیا کریں  ۔ خصوصاً پانی چڑھانے والی موٹروں   پر خصوصی نظر رکھیں   کہ بعض اوقات ٹینکی میں   پانی بھرجانے کی صورت میں   موٹر چلتی ہی رہتی ہے اور پانی وبجلی دونوں   کا ضیاع ہوتاہے۔ ‘‘ 

٭…  ’’ مسجد کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دے اور یہ سوچے کہ میرے گھر میں   جب کوئی پنکھا ،  لائٹ وغیرہ خراب ہوجائے تو جلد از جلد اسے درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے  ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا گھر تو اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خراب ہوجانے والی چیز کی فورا مرمت کی جائے۔ ‘‘ 

٭…  ’’ مسجد کے امام ومؤذن پر اپنا رعب اور دھونس جمانے کے بجائے ان کے ساتھ ہمیشہ عزت واحترام اور ادب کے ساتھ پیش آئے ،  انہیں   اپنا خادم سمجھنے کی بجائے اپنے آپ کو ان کا خادم سمجھے کہ آپ کی نمازوں   کا دارومدار انہی پر ہے۔ نیز وہ وارثان محراب ومنبر ہیں   اور یقیناً وہ بہت مرتبے والے ہیں   ،  جہاں   تک ممکن ہو مسجد کے معاملات میں   امام مسجد کی رائے ہی کو فوقیت دی جائے جبکہ شریعت کے مطابق ہو ،  بصورت دیگر اس سے مشاورت ضرور کی جائے۔ ‘‘ 

٭…  ’’ امام ومؤذن کی گاہے بگاہے مقررہ مشاہرے کے علاوہ اپنی ذاتی جیب سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے بصد عاجزی خدمت کرتے رہا کریں   کہ جس طرح آپ کے معاشی مسائل ہیں   اسی طرح ان کا بھی ان مسائل وغیرہ سے واسطہ رہتاہے۔نیز ان کے مقررہ وظیفے وغیرہ کو بھی بذات خود ان کی خدمت میں   بطریق احسن پیش کریں  ۔ ‘‘ 

٭…  ’’ مسجد کو آباد کرنے کا خصوصی اہتمام کرے ،  اس کے لیے بڑی راتوں   میں   اجتماع ذکر ونعت وغیرہ کی ترکیب بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم اور حجر اسود

فاروقِ اعظم کا حجر اسود سے کلام:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سرجس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حج کرتے ہوئے حجر اسود کو چوم کر اِرشاد فرمایا:   ’’ وَاللّٰهِ اِنِّي لَاُقَبِّلُكَ وَاِنِّي اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ وَاَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَااَنِّي رَاَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَیعنی خدا کی قسم! میں   تجھے چوم رہاہوں   حالانکہ میں   جانتا ہوں   کہ تو ایک پتھر ہے ،  نہ تو کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور اگر میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]    روح البیان ، پ۱۰ ،  التوبۃ ،  تحت الآیۃ:  ۱۸ ،  ج۳ ،  ص۴۰۰۔

[2]    مسجد کو بدبودار ہونے سے بچانے اور اسے خوشبودار رکھنے سے متعلق دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۶۰ صفحات پر مشتمل رسالے ’’ مسجدیں   خوشبودار رکھیے ‘‘   کا مطالعہ فرمائیں  ۔

[3]    مسجد کے مزید آداب جاننے کے لیے بہارشریعت  ،  ج۳ ،  حصہ۱۶ ،  ص۴۹۷ کا مطالعہ فرمائیے۔



Total Pages: 349

Go To