Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دیکھی گئی ہے ،  ذکر مدینہ ان کے قلوب کو گرما کے رکھ دیتا ہے ،  کئی مریدین تو مدینہ منورہ کی محبت میں   دیوانے نظر آتے ہیں  ۔امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مناجاتوں   ،  نعتوں   اور منقبتوں   کا معطر معطر مدنی گلدستہ  ’’ وسائل بخشش ‘‘   مدینہ منورہ کی محبت والے اشعار سے بھرا ہوا ہے۔ اظہار عشق ومحبت کے لیے صرف ایک کلام کے چند اشعار پیش خدمت ہیں  :

نہ دولت نہ مال و خزینے کی باتیں 

سناؤ ہمیں   بس مدینے کی باتیں 

مدینے کی باتیں   سناؤ کہ ہیں   یہ

مریض محبت کے جینے کی باتیں 

شہا میرا سینہ مدینہ بنادو

خیالوں   میں   ہوں   بس مدینے کی باتیں 

یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ! تجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  سرکار اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اور شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا واسطہ ہمیں   بھی مدینہ منورہ کی حقیقی محبت عطا فرمایا اور مدینہ منورہ میں   اپنی راہ میں   شہادت کی موت نصیب فرما۔           آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

رسول اللہ کی مساجد سے محبت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مساجد سے بھی بہت محبت فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ مقدس مقامات ہیں   جہاں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بارگاہِ رب العزت میں   اپنی جبین نیاز کو جھکایا۔

فاروقِ اعظم نے مسجد حرام کی توسیع کروائی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد حرام کی توسیع کا اہتمام فرمایا۔ یقیناً جہاں   اس میں   دیگر مسلمانوں   کے لیے نماز سے متعلقہ فوائد موجود ہیں   وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس مسجد حرام سے محبت وعقید ت کا بھی اظہار ہوتاہے۔چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سال عمرہ کرنے کی نیت سے مسجد حرام کا قصد فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد حرام کو وسیع و کشادہ کرنے کا اہتمام فرمایا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم نے مسجد حرام کی بیرونی دیوار تعمیر فرمائی:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسجد حرام کی توسیع کے ساتھ ساتھ اس کے لیے دیوار بھی تعمیر فرمائی اور یہ عمل بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا مسجد حرام سے محبت پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ مروی ہے کہ:  ’’ عہدِ رسالت میں   مسجد حرام کی کوئی بیرونی دیوار نہیں   تھی ،  جب امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے مسجد کے قریب کے گھروں   کو خرید کر انہیں   مسجد میں   شامل کردیا اور پھر پوری مسجد کے گرد ایک چھوٹی سی دیوار تعمیر فرمادی جس پر چراغ رکھے جاتے تھے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا مسجد نبوی کا ادب واحترام:

حضرت سیِّدُنا سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   مسجد میں   سویا ہوا تھا مجھے ایک شخص نے کنکر مارا میں   نے (اٹھ کر ) دیکھا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ فرمانے لگے:   ’’ اذْهَبْ فَاْتِنِي بِهَذَيْنِیعنی جائو ان دونوں   مردوں   کو بلا لائو۔ ‘‘   میں   گیا اور انہیں   بلا لایا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا:   ’’ مَنْ اَنْتُمَا اَوْ مِنْ اَيْنَ اَنْتُمَایعنی تم کون ہو اور کہاں   سے آئے ہو؟ ‘‘   بولے:   ’’ ہمارا تعلق طائف سے ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَوْ كُنْتُمَا مِنْ اَهْلِ الْبَلَدِ لَاَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ اَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی اگر تم یہاں   کے رہنے والے ہوتے تو میں   تمہیں   ضرور سزا دیتا۔ تم خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مسجد میں   آوازیں   بلند کررہے ہو؟ ‘‘  ([3])

مسجد نبوی کے فرش کو پکا کروادیا:

مسجد نبوی میں   سب سے پہلے پتھر بچھانے والے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   کہ مسجد نبوی کا فرش کچا تھا ،  لوگ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو مٹی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں   کو جھاڑتے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجدکا فرش پکا کرنے کے لیے ریتی بچھانے کا حکم دیا چنانچہ مقامِ عُقَیق سے بجری لائی گئی اور مسجد نبوی میں   بچھا کر اس کے فرش کو پکا کردیا گیا۔ ‘‘  ([4])

مساجد کو آباد کرنے کا خصوصی اہتمام:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دورِ خلافت میں   مساجد کو آباد کرنے کے لیے انہیں   روشن کرنے کا خصوصی اہتمام فرمایا تاکہ لوگ رمضان



[1]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۲۳۵۔

[2]    روح المعانی ،   پ۱۷ ،  الحج ،  تحت الآیۃ:  ۲۵  ،  ج۱۷ ،  ص۱۸۴۔

[3]    بخاری ،  کتاب الصلاۃ ،  باب رفع الصوت۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۱۷۸ ،  حدیث: ۴۷۰۔

[4]    طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ، ص ۲۱۵۔



Total Pages: 349

Go To