Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَالٰی عَنْہکے محبوب آقا محمد مصطفےٰ ،  احمد مجتبےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس شہر میں   تشریف فرما ہیں   ،  اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ محبت اور عشق حقیقی قرآن پاک کا عملی نمونہ ہے خود رب عَزَّ وَجَلَّ بھی شہر مکہ کی قسم کو اس لیے ذکر فرما رہا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس میں   تشریف فرما ہیں  ۔ یہاں   ایک لطیف نکتہ قابل ذکر ہے کہ عموماً جب کوئی قسم اٹھاتا ہے تو کسی معظم دینی کی اٹھاتا ہے جو اس سے افضل ہوتاہے تاکہ اس سے اس کی بات کو تائید وتاکید حاصل ہوجائے ۔لیکن جب رب عَزَّ وَجَلَّ کسی شے کی قسم ذکر فرمائے تو اس میں   یہ حکمت ہوتی ہے کہ اس شے کو عظمت وشرف نصیب ہوجائے۔ چنانچہ اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  مجدد دین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ  ،  ج۵ ،  صفحہ۵۵۸میں   مولانا شاہ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے حوالے سے اسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں   نقل فرماتے ہیں  :   ’’ یعنی شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاکِ پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں   حضور پاؤں   رکھ کر چلتے ہیں   ،  بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں   کہ باری تعالی حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے خاکِ پاکی قسم اٹھائے ،  لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں   کوئی پوشیدگی وغبار نہیں   وہ اس طرح کہ اللہ تعالٰی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں   ہوتی کہ وہ شے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) اللہ تعالٰیسے عظیم ہے ،  بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں   پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں   کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں   کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بنسبت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عظیم ہے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی مدینہ منورہ سے محبت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجس طرح مکہ مکرمہ سے محبت فرماتے تھے بعینہ ویسے ہی مدینہ منورہ سے بھی محبت فرماتے تھے ،  بلکہ نہ صرف محبت فرماتے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ کی افضلیت کے بھی قائل تھے۔اور یقیناً یہ محبت وافضیلت اسی وجہ سے تھی کہ یہ شہرِ محبوب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ ۵۳۹صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ ملفوظات اعلی حضرت ‘‘   (مکمل چار حصے)ص۲۳۶ سے دو اقتباس پیش خدمت ہیں  :

عرض:   ’’ حضور! مدینہ طیبہ میں   ایک نماز پچاس ہزار کا ثواب رکھتی ہے اور مکہ معظمہ میں   ایک لاکھ کا  ، اِس سے مکہ معظمہ کا افضل ہونا سمجھا جاتا ہے ؟ ‘‘ 

ارشاد : جمہور حنفیہ کایہ ہی مسلک ہے اور سیِّدُنا ا مام مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیک مدینہ افضل اور یہی مذہب امیر المؤمنین (حضرت سیِّدُنا عمر)فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہے ۔ ایک صحابی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے کہا:   ’’ مکہ معظمہ افضل ہے ۔ ‘‘   فرمایا :  ’’  کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’ وَاللہِ بَیْتُ اللہِ وَحَرَمُ اللہِ ‘‘   فرمایا:   ’’ میں   بَیْتُ اللہ اور حَرَمُ اللہ میں   کچھ نہیں   کہتا  ،  کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’  بخدا خانہ خداو حرمِ خدا ۔ ‘‘   فرمایا :   ’’ میں   خانہ خداوحرمِ خدا میں   کچھ نہیں   کہتا  ،  کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟ ‘‘   ([2])

وہ وہی کہتے رہے اور امیر المؤمنین ( حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)یہی فرماتے رہے اور یہی میرا (یعنی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا) مسلک ہے (کہ مدینہ افضل ہے) صحیح حدیث میں   ہے نبی (کریم رَؤفٌ رَّحیم) صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں   :  ’’ اَلْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْ نَ یعنی مدینہ اُن کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانیں  ۔ ‘‘   ([3])

دوسری حدیث نصِ صریح ہے کہ فرمایا:   ’’ اَلْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ مِّنْ مَّکَّۃَیعنی مدینہ مکہ سے افضل ہے۔  ‘‘  ([4])

ثواب میں   فرق کیوں  ؟

اور تَفَاوُتِ ثَوَاب (یعنی ثواب میں   فرق) کا جواب با صواب (یعنی درست جواب)شیخ محقق (شاہ )عبد الحق (محدث) دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کیا خوب دیا کہ:   ’’ مکہ میں   کمیت زیادہ ہے اور مدینہ میں   کیفیت (تاریخ مدینۃ اردو ترجمہ  ’’ جذب القلوب ،  ص۱۹)یعنی وہاں   ’’  مقدار ‘‘   زیادہ ہے اور یہاں   ’’  قدر ‘‘   اَفْزُوں   (یعنی زیادہ)۔ جسے یوں   سمجھیں   کہ لاکھ روپیہ زیادہ کہ پچاس ہزار اشرفیاں   ؟ گنتی میں   وہ (یعنی لاکھ روپے) دونے ہیں   او رمالیت میں   یہ (یعنی پچاس ہزار اشرفیاں  ) دس گُنی ۔ مکہ معظمہ میں   جس طر ح ایک نیکی لاکھ نیکیاں   ہیں   یوں   ہی ایک گناہ لاکھ گناہ ہیں   اوروہاں   گناہ کے اِرادے پر بھی گرفت ہے جس طر ح نیکی کے اِرادے پر ثواب ۔ مدینہ طیبہ میں   نیکی کے اِرادے پر ثواب اور گناہ کے اِرادے پر کچھ نہیں   اور گناہ کرے توایک ہی گناہ اور نیکی کرے تو پچاس ہزار نیکیاں   ۔ عجب نہیں   کہ حدیث میں   ’’ خَیْرٌ لَّھُمْ  ‘‘  کا اِشارہ اِسی طر ف ہو کہ ان کے حق میں   مدینہ ہی بہتر ہے۔([5])

طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد

ہم عشق کے بندے ہیں   کیوں   بات بڑھائی ہے

 

سنتے ہیں   کہ محشر میں   صرف ان کی رسائی ہے

گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

فاروقِ اعظم کی مدینہ منورہ میں   موت کی تمنا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدینہ منورہ سے عشق ومحبت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں   وفات کی دعا



[1]    مدارج النبوۃ ،  ج۱ ،  ص۶۵۔

[2]    مؤطاامام مالک ،  کتاب الجامع  ،  باب ما جاء فی امر المدینۃ ،  ج۲ ،  ص۳۹۶ ،  حدیث: ۱۷۰۰۔

[3]    بخاری ، کتاب فضا ئل المدینۃ ،  باب من رغب عن المدینۃ ،  ج۱ ،  ص۶۱۸ ،  حدیث: ۱۸۷ملتقطا۔

[4]    معجم کبیر ، عمرۃ بنت عبد الرحمن عن رافع ،  ج۴ ،  ص۲۸۸ ،  حدیث: ۴۴۵۰۔

[5]    ملفوظات اعلی حضرت ،  ص۲۳۸۔



Total Pages: 349

Go To