Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم عاشق حقیقی تھے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ محبت کی اس منزل پر فائزتھے جسے عشق کہا جاتاہے۔ کیونکہ جب محبت انتہاء کو پہنچ جائے تو اُسے عشق کہا جاتاہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علی بن عبد الرحمن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے عشق اور محبت کے درمیان فرق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:  ’’ اَلْحُبُّ لَذَّةٌ تُعْمِيْ عَنْ رُؤْيَةِ غَيْرِ الْمَحْبُوْبِ فَاِذَا تَنَاهِيْ سُمِّيَ عِشْقًایعنی محبت وہ لذت ہے جو محبوب کے علاوہ کسی کوبھی دیکھنے سے اندھا کردیتی ہے اورمحبت کی انتہاء کو عشق کہتے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ حُبَّکَ الشَّیْءَ یُعْمِیْ وَیَصُمُّ یعنی کسی شے کی محبت تجھے اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ ‘‘  ([2])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق رسول کے کیا کہنے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات سے محبت ،  اولاد سے محبت ،  ازواج سے محبت ،  اصحاب سے محبت بلکہ ہر وہ چیز جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نسبت ہوجائے اس سے بھی محبت فرماتے تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں   جن سے اِس عشق حقیقی کا والہانہ اظہار ہوتا ہے  ،  چند واقعات ملاحظہ کیجئے:

محبوب کے شہر سے محبت

فاروقِ اعظم کی مکہ مکرمہ سے محبت:

قرآن پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱)وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲)) (پ۳۰ ،  البلد: ۱ تا۲) ترجمۂ کنزالایمان:    ’’ مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں   تشریف فرما ہو۔ ‘‘ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مفسرین کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت مبارکہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس شہر کی قسم یاد فرما رہاہے وہ مکہ مکرمہ ہے۔اسی آیت مبارکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی جناب میں   یوں   عرض گزار ہوئے:   ’’ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَاللہِ اَنْ اَقْسَمَ بِحَیَاتِکَ دُوْنَ سَائِرِ الْاَنْبِیَاءِ وَلَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں   باپ آپ پر فدا ہوں  ! آپ کی فضیلت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےقسم ذکر فرمائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی ،  اور آپ کا مقام ومرتبہ اس کے ہاں   اتنا بلند ہے کہ اس نےلَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِکے ذریعے آپ کے مبارک قدموں   کی خاک کی قسم ذکر فرمائی ہے۔ ‘‘  ([3])

حضرت علامہ شہاب الدین محمد بن عمر خفاجی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ’’ نسیم الریاض شرح شفا ‘‘   میں   فرماتےہیں  :   ’’ قَدْ قَالُوْا اِنَّ ھٰذَا الْقَسْمَ اَدْخَلَ فِیْ تَعْظِیْمِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَسْمِ بِذَاتِہٖ وَ بِحَیَاتِہٖ کَمَااَشَارَ اِلَیْہِ عُمَرُرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِقَوْلِہٖ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ قَدْبَلَغْتَ مِنَ الفَضِیْلَۃِ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ:  لَاُاقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِیعنی مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے شہر کی قسم ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایاکہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں  ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اتنے بلند مرتبے والے ہیں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک قدموں   کی قسم ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:  لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ یعنی میں   اس شہر مکہ کی قسم ذکر کرتا ہوں  ۔ ‘‘  ([4])

علامہ شہاب الدین احمدبن محمد قسطلانی  ’’ مواہب اللدنیہ ‘‘   میں   فرماتے ہیں  :   ’’ عَلٰی کُلِّ حَالٍ فَھٰذَا مُتَضَمِّنٌ لِلْقَسَمِ بِبَلَدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَایَخْفٰی مَافِیْہِ مِنْ زِیَادَۃِ التَّعْظِیْمِ وَقَدْرُوِیَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:  بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَاللہِ اَنْ اَقْسَمَ بِحَیَاتِکَ دُوْنَ سَائِرِ الْاَنْبِیَاءِ وَلْقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِیعنی ہر حال میں   یہ نبی ٔاکرم ،  نور مجسم  ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر کی قسم کو شامل ہے اور اس قسم میں   جو تعظیم ومرتبے کی زیادتی ہے وہ کسی پر مخفی نہیں   ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جناب میں   یوں   عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں   باپ آپ پر فدا ہوں  ! آپ کی فضیلت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اس نے قسم ذکر فرمائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی ،  اور آپ کا مقام ومرتبہ اس کے ہاں   اتنا بلند ہے کہ اس نےلَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِکے ذریعے آپ کے مبارک قدموں   کی خاک کی قسم ذکر فرمائی ہے۔ ‘‘  ([5])

ایک لطیف نکتہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمکہ مکرمہ سے اس لیے بھی محبت فرماتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ



[1]    شعب الایمان  ،  فی محبۃ اللہ عزوجل ،   معانی المحبۃ ،  ج۱ ،  ص۳۷۹ ،  حدیث: ۴۵۷۔

[2]    شعب الایمان  ،  فی محبۃ اللہ عزوجل ،  معانی المحبۃ ،  ج۱ ،  ص۳۶۸ ،  حدیث: ۴۱۲۔

[3]    شرح زرقانی علی المواھب  ، الفصل الخامس۔۔۔ الخ  ،  ج۸ ،  ص۴۹۳ ،  فتاویٰ رضویہ ،  ج۵ ،  ص۵۵۶۔

[4]    نسیم الریاض  ،  الباب الاول ،  الفصل الرابع فی قسمہ تعالی ، ج۱ ،  ص۳۱۷۔

[5]    شرح زرقانی علی المواھب  ، الفصل الخامس۔۔۔ الخ  ،  ج۸ ،  ص۴۹۳۔



Total Pages: 349

Go To