Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دیا۔‘‘   جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس بات کا علم ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَقَدْ تَرَكُوا  اَوْ رَدُّوا خَيْرَ هَذِهِ الاُمَّةِیعنی ان لوگوں   نے اس امت کے سب سے بہترین مرد کو چھوڑ دیا یا جواب دے دیا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم تین باتوں   میں   سب پر سبقت لے گئے:

حضرت سیِّدُنا یونس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر کیا کرتے تو کہا کرتے :   ’’ وَاللہِ مَا كَانَ بِاَوَّلِهِمْ اِسْلاَمًا  وَلاَ اَفْضَلِهِمْ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللہِ وَلَكِنَّهُ غَلَبَ النَّاسَ بِالزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَالصَّرَامَةِ فِي اَمْرِ اللہِ وَلاَ يَخَافُ فِي اللہِ لَوْمَةَ لاَئِمٍیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر چہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے اسلام نہ لائے اور نہ ہی اسلام پر سب سے زیادہ خرچ کیا لیکن وہ ان تین باتوں   ’’ دنیا کے معاملے میں   کنارہ کشی ‘‘   ،   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   جلدی کرنے ‘‘   اور  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف ہونے ‘‘   میں   تمام لوگوں   پر سبقت لے گئے۔ ‘‘  ([2])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا سعد

فاروقِ اعظم دنیا سے کنارہ کشی میں   سبقت لے گئے:

حضرت سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اَمَا وَاللہِ مَا كَانَ بِاَقْدَمِنَا اِسْلاَمًا وَلَكِنْ قَدْ عَرَفْت بِاَيِّ شَيْءٍ فَضَلَنَا كَانَ اَزْهَدَنَا فِي الدُّنْيَا يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے اسلام نہیں   لائے لیکن ایک شے ایسی ہے وہ اس میں   ہم سب سے سبقت لے گئے اور وہ یہ ہے کہ انہوں   نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناقبیصہ بن جابر

فاروقِ اعظم سب سے زیادہ معرفت الٰہی رکھنے والے:

حضرت سیِّدُنا عبد الملک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا قُبَیْصَہ بن جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا رَاَيْتُ رَجُلاً اَعْلَمَ بِاللّٰہِ  وَلا اَقْرَاَ لِكِتَابِ اللہِ وَلااَفْقَهَ فِي دِينِ اللہِ مِنْ عُمَرَیعنی میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے   بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والا ،  قرآن مجید کا قاری اور دین الٰہی کا فقیہ نہیں   دیکھا۔ ‘‘  ([4])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا معاذ بن جبل

فاروقِ اعظم جنتی ہیں  :

حضرت سیِّدُنا مصعب بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جنتی ہیں   کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو خواب میں   دیکھیں   وہ بھی بالکل سچ ہوتا ہے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ارشاد فرمایا:   ’’ بَيْنَمَا اَنَا فِي الْجَنَّةِ اذ رَاَيْتُ فِيهَا دَارًا  فَقُلْتُ لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی میں   جنت میں   موجود تھا کہ میں   نے وہاں   ایک عالیشان گھر دیکھا میں   نے پوچھا یہ کس کا ہے تو کہا گیا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ ‘‘  ([5])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیدتنا اُمّ اَیمن

آج اسلام کمزور ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کردیا گیا تو حضرت سیدتنا اُمّ ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْيَوْمَ وَهَى الْاِسْلامُ یعنی آج اسلام کمزور ہوگیا۔ ‘‘  ([6])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناعبد اللہ بن عمر

فاروقِ اعظم ہمیشہ اچھائی پر قائم رہے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا زَالَ عُمَرُ جَادًّا جَوَّادًا مِنْ حِيْنِ قُبِضَ حَتَّى اِنْتَهَىیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ اچھی بات  ،  اچھے کام اور سخاوت کرتے رہے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ ‘‘  ([7])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا حذیفہ

 



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۴ ،  حدیث: ۴۲۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۷۵ ،  حدیث: ۴۳۔

[3]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۴ ،  حدیث: ۴۵۔

[4]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص ۴۸۰ ،  حدیث: ۲۰۔

[5]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۳۔

[6]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۷۹ ،  حدیث: ۱۱۔

[7]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۲ ،  حدیث: ۳۱۔



Total Pages: 349

Go To