Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’  اِنَّ اَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ مُصِيبَةُ عُمَرَلَاَهْلُ بَيْتِ سُوءٍیعنی بے شک عرب کے وہ رہائشی بہت برےہیں   کہ جنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی وفات کا صدمہ:

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ مَا اَظُنُّ اَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ حُزْنُ عُمَرَ يَوْمَ اُصِيبَ عُمَرُ إلاَّ اَهْلَ بَيْتِ

 

سُوءٍ  اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللہِیعنی میں   اس گھر والوں   کو بہت برا سمجھتا ہوں   جنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے دن ان کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔ بے شک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم میں   سب سے زیادہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے ،  کتاب اللہ کے سب سےبڑے قاری اور  دین الٰہی کے سب سے بڑے فقیہہ تھے۔ ‘‘  ([2])

جیسا فاروقِ اعظم نے قرآن پڑھایا ویسا پڑھو:

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   دو شخص حاضر ہوئے۔ ان میں   سے ایک نے کہا:   ’’  يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ  كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ یعنی ہمارا ایک آیت کی قراءت پر جھگڑا ہوگیا ہے یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھیں   گے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سے پوچھا:   ’’  مَنْ اَقْرَاَكَ ؟ یعنی تم یہ بتاؤ تمہیں   قرآن کس نے پڑھایا ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کیا:   ’’ حضرت سیِّدُنا ابوحکیم مزنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے۔ ‘‘   پھر آپ نے دوسرے سے پوچھا:   ’’ مَنْ اَقْرَاَکَ ؟ یعنی تمہیں   قرآن کس نے پڑھایا ہے؟ ‘‘   اس نے عرض کیا:   ’’  اَقْرَاَنِي عُمَرُ یعنی مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن پڑھایا ہے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’  اِقْرَاْ كَمَا اَقْرَاَك عُمَرُ یعنی تم دونوں   ویسے ہی پڑھو جیسا حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑھایا ہے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زاروقطار رونے لگے اور اتنا روئے کہ آپ کے آنسو چٹائی پر گرنے لگے۔پھر ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الاسْلامِ يَدْخُلُ فِيهِ وَلا يَخْرُجُ مِنْهُ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ اِنْثَلَمَ الْحِصْنُ فَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ وَلا يَدْخُلُ فِيهِیعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے ،  جس میں   کوئی داخل تو ہوسکتا تھا لیکن اس میں   کوئی نکل نہ سکتا تھا ،  پس آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جب وصال ہوگیا تو وہ قلعہ منہدم ہوگیا اب اس سے کوئی نکل تو سکتا ہے داخل نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا طلحہ

فاروقِ اعظم کی وفات کے سبب نقص داخل ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جس روز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا اَهْلُ بَيْتٍ حَاضِرٍ وَلا بَادٍ اِلَّا وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ نَقْصٌیعنی شہری یا دیہاتی گھروں   میں   سے کوئی گھر ایسا نہیں   ہے جہاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے سبب نقص داخل نہ ہوا ہو۔ ‘‘  ([4])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا ابو عثمان

میزان فاروق میں   بال برابر بھی جھکاؤ نہ ہوتا:

حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ میں   ایک لاٹھی تھی جس پر آپ سہارا لے کر چلا کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر فرمایا کرتے تھے:   ’’ وَاللہِ لَوْ اَشَاءُ اَنْ تَنْطِقَ قَنَاتِي هَذِهٖ لَنَطَقَتْ  لَوْ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِيزَانًا مَا كَانَ فِيهِ مِيطُ شَعْرَةٍیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر میں   یہ چاہوں   کہ میری یہ لاٹھی بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بیان کرے تو وہ ضرور بیان کرے گی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اگر میزان ہوتے تو اس میں   بال برابر بھی جھکاؤ نہ ہوتا۔ ‘‘  ([5])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا حسن

اس امت کے سب سے بہترین مرد کو چھوڑ دیا:

حضرت سیِّدُنا معتبر بن سلیمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ فرماتے سنا:   ’’ خَطَبَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ امْرَاَةً  فَاَنْكَحُوا الْمُغِيرَةَ وَتَرَكُوا عُمَرَ اَوْ قَالَ  رَدُّوا عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وحضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ان لوگوں   نے حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کااس عورت سے نکاح کردیا اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو چھوڑ دیا یا ان کو جواب دے



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۱۷۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۱۔

[3]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۴ ،  حدیث: ۴۰۔

[4]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۱۸۔

[5]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۴ ،  حدیث: ۴۱۔



Total Pages: 349

Go To