Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عدل وانصاف کی روح کو شان وشوکت حاصل ہوئی بلکہ اپنے  خلافت میں   ایسا عدل وانصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں   کے لیے مشعل راہ ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔

 ’’ فاروق  ‘‘  کسے کہتے ہیں  ؟

 ’’ فاروق ‘‘   اسے کہتے ہیں   جو حق وباطل کے درمیان فرق کردے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ قِیْلَ لِعُمَرَ فَارُوْقُ لِفُرْقَانِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ بِاِحْكَامٍ وَاِتْقَانٍ یعنی کہا گیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فاروق اس لیے کہتے ہیں   کہ انہوں   نے حق وباطل کے درمیان پختگی اور یقین کے ذریعے فرق فرمایا۔ ‘‘  ([1])

فاروقی کسے کہتے ہیں  ؟

 ’’ فاروقی ‘‘   کا مطلب ہے  ’’ فاروق والا ‘‘   ۔جس شخص کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جاملتا ہو اسے  ’’ فاروقی ‘‘   کہتے ہیں  جس طرح کسی کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جاملتا ہوتو اسے  ’’ صدیقی ‘‘   کہتے ہیں  ۔

 ’’ فاروقِ اعظم  ‘‘  کسے کہتے ہیں  ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق وباطل کے مابین ’’  فارق ‘‘   یعنی فرق کرنے والا ہیں   ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ فاروقِ اعظم ‘‘   اس وجہ سے کہا جاتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حق وباطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالت سے خاص طور پرعطا ہوئی تھی۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس دن اسلام لائے اسی دن آپ نے مسلمانوں   کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اللہ شریف میں   نماز اداکی اور طواف بیت اللہ بھی کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود ارشاد فرماتے ہیں   کہ  ’’ اس دن دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خود میرا نام  ’’ فاروق ‘‘   رکھ دیا ،  کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے سبب سے حق و باطل میں   امتیاز فرمادیا۔ ‘‘  ([2])

(2)لقب  ’’ امیر المؤمنین ‘‘  اور اس کی وجوہات

سب سے پہلے آپ ہی نے امیر المؤمنین کا لقب پایا :

حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تو خلیفۂ رسولِ خدا کہا جاتا تھا ،  جب کہ مجھے یہ نہیں   کہا جاسکتاکیونکہ میں   تو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خلیفہ ہوں   اور(اگر مجھے خلیفۂ خلیفۂ رسولِ خدا کہا جائے تو) یوں   بات طویل ہوجائے گی۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے:  آپ ہمارے امیر ہیں   اور ہم مؤمنین  ،  تو آپ ہوئے ’’  امیر المومنین ‘‘  ۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:  ’’ یہ صحیح ہے۔ ‘‘  ([3])

لقب  ’’ امیر المومنین ‘‘   کی دوسری وجہ:

حضرت سیدتنا شفاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جو پہلے ہجرت کرنے والی عورتوں   میں   سے ہیں   روایت کرتی ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر عراق کو لکھا کہ میرے پاس دو تندرست و دانا عراقی آدمی بھیجو جو مجھے یہاں   کے حالات سے آگاہ کریں  ۔ تو عراق کے گورنر نے حضرت سیِّدُنا لبیدبن ربیعہ عامری اور سیِّدُنا عدی بن حاتم طائی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بھیجا۔ وہ مدینہ منورہ میں   آئےاوراپنی سواریوں   کو بٹھا کر مسجد میں   داخل ہوئے جہاں   حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود تھے۔ انہوں   نے سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا:   ’’ آپ امیر المومنین سے ہمارےحاضر ہونے کی اجازت طلب کریں  ۔ ‘‘  یہ سن کر سیِّدُنا عمروبن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا:  ’’ خدا کی قسم ! تم نے ان کا صحیح نام تجویز کیا ہے ،  ہم مومنین ہیں   ،  اور وہ ہمارے امیر ہیں  ۔ ‘‘   سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاندر گئے اورحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یوں   گویا ہوئے:  ’’ یَااَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْن! ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سنا تو فرمایا:   ’’ یہ نام تم کہاں   سے لے آئے ہو؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:   ’’ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم طائی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آئے ہیں   ،  انہوں  نے اپنی سواریاں   باہربٹھائیں   اور مسجد میں   آکرمجھ سے کہا:   ’’ امیر المومنین کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی جائے۔ ‘‘  میں   نے ان سے کہا:   ’’ تم نے درست نام تجویز کیا ہے ،  وہ امیر ہیں   اور ہم مؤمنین۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس سے پہلے اپنے مکتوبات(یعنی خطوط) میں   خلیفۂ خلیفۂ رسول ‘‘   لکھتے تھے ،  پھر آپ نے  ’’ مِنْ عُمَرَ اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْن ‘‘   لکھنا شروع کردیا۔([4])

(3)لقب  ’’ مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن ‘‘  اور اُس کی وجہ

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک لقب  ’’ مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن ‘‘  بھی ہے ،  جس کا معنی ہے چالیس کو پورا کرنے والا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لانے سے قبل اُنتالیس لوگ اسلام



[1]     فیض القدیر ،  ج۵ ،  ص۵۸۸ ،  تحت الحدیث: ۷۹۶۰ ملتقطا۔

[2]     حلیۃ الاولیاء ،  عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۷۵ ،  الرقم:  ۹۳۔

[3]     الاستيعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  باب عمر ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔واضح رہے کہ حضرت سیِّدُنا  عبد اللہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   بھی

[4]     اسدالغابہ  ، عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۸۱۔

منقول ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں    ’’ امیر المؤمنین ‘‘   کا لقب عطا فرمایا ،  لیکن آپ خلفاء میں   سے نہ تھے اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ تھے۔(زرقانی علی المواھب ،  ج۱ ،  ص۳۹۷)



Total Pages: 349

Go To