Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہے۔٭… ’’ مَا بَالُ اَقْوَامٍ يَذْكُرُوْنَ اَخَوَىْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَوَزِيْرَيْهِ وَصَاحِبَيْهِ وَسَيِّدَيْ قُرَیْشٍ وَاَبَوَيِ الْمُسْلِمِيْنَ فَاَنَا بَرِيْءٌ مِّمَّنْ یَذْکُرُھُمَا وَعَلَیْہِ مُعَاقِبٌ یعنی لوگوں   کو کیا ہوگیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ان دونوں   بھائیوں   ،  وزیروں   ،  دوستوں    ،  قریش کے سردار اور مسلمانوں   کے روحانی والدین کااس طرح ذکر کرتے ہیں   حالانکہ میں   ہراس شخص سے بری ہوں   جو ان کا اس طرح ذکر کرتا ہے اور اسے سزا دوں   گا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم محبوبِ شیرِ خدا ہیں  :

حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدامشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے بعد حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہچادر اوڑھے آرام فرمارہے ہیں  ۔ مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے ارشاد فرمایا:   ’’  مَا عَلَى وَجْهِ الاَرْضِ اَحَدٌ اَحَبُّ الَيَّ اَنْ اَلْقَى اللّٰهَ بِصَحِيفَتِهِ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّىیعنی روئے زمین پر مجھے ان چادر اوڑھے ہوئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ کوئی شخص اتنا محبوب نہیں   ہےکہ جس کے نامۂ اعمال کے ساتھ میں   رب عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کروں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم مولاعلی کے خاص الخاص دوست :

حضرت سیِّدُنا ابو سفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دیکھا گیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکثر ایک مخصوص چادر زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے اس کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:   ’’  اِنَّهُ كَسَانِيهِ خَلِيلِي وَصَفِيِّي وَصَدِيقِي وَخَاصِّي عُمَرُانَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللّٰهَ فَنَصَحَهُ اللّٰهُ  ثُمَّ بَكَىیعنی یہ چادر میرے خلیل ،  صفی ،  صدیق اور خاص الخاص دوست عمر نے پہنائی ہے۔ بے شک عمر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے خیر خواہی کرتے ہیں   اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے خیر خواہی فرماتاہے۔ ‘‘  یہ فرماتے ہوئے رو پڑے۔ ([3])

فاروقِ اعظم کا فیصلہ ذرہ بھر تبدیل نہیں   کروں   گا:

حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اہل نجران کو ملک بدر کردیا۔مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے دور ِخلافت میں   وہ لوگ آپ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كِتَابُك بِيَدِكَ وَشَفَاعَتُك بِلِسَانِكَ اَخْرَجَنَا عُمَرُ مِنْ اَرْضِنَا فَارْدُدْنَا إلَيْهَا یعنی اے امیر المؤمنین اب کاغذی کاروائی آپ کے ہاتھ میں   ہے ،  شفاعت آپ کی زبان پر ہے ،  حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہمیں   ہماری زمین سے نکال دیا تھا آپ ہمیں   دوبارہ لوٹنے کی اجازت مرحمت فرمادیں  ۔ ‘‘   یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے فرمایا:   ’’ وَيْحَكُمْ  إنَّ عُمَرَ كَانَ رَشِيدَ الأَمْرِ  وَلا أُغَيِّرُ شَيْئًا صَنَعَهُ عُمَرُ  یعنی تمہاری بربادی ہو ،  بے شک حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بالکل درست فیصلہ فرمانے والے تھے اور یاد رکھو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو فیصلہ فرمادیا میں   اس میں   ذرہ بھر تبدیلی نہیں   کروں   گا۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کا معاہدہ نہیں   توڑوں   گا:

حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کوفہ تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ مَا قَدِمْتُ لِاَحُلَّ عُقْدَةً شَدَّهَا عُمَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو معاہدہ کرلیا تھا میں   اسے ہرگز نہیں   توڑوں   گا۔ ‘‘  ([5])

صدیق اکبر وفاروقِ اعظم حکمرانوں   کے لیے حجت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ جَعَلَ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حُجَّةً عَلَى مَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْوُلَاةِ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ  فَسَبَقَا وَاللہِ سَبْقاً بَعِيْداً ،  وَاَتْعَبَا وَاللہِ مَنْ بَعْدَهُمَا إِتِّعَاباً شَدِيْداًیعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر وفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادونوں   کو ان کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں   کے لیے قیامت تک کے لیے حجت بنادیا ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ دونوں   (اپنے امورِ خلافت کو بہتر طریقے سے انجام دینے میں   )بہت دور تک سبقت لے گئے اور انہوں   نے اپنے بعد میں   آنے والوں   کو بہت تھکا دیا۔ ‘‘  ([6])

شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناعبد اللہ بن عباس

فاروقِ اعظم کا ذکر کثرت سے کرو:

حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے شاگرد رشید حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے استاد محترم یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ اَكْثِرُوْا ذِكْرَ عُمَرَ فَاِنَّ عُمَرَ اِذَا ذُكِرَ ذُكِرَ الْعَدْلُ وَاِذَا ذُكِرَ الْعَدْلُ ذُكِرَ اللہُیعنی اے لوگو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا کثرت سے ذکر کیا کرو کیونکہ جب ان کا ذکر کیا جائے گا تو ان کے عدل وانصاف کا ذکر



[1]    حلیۃ الاولیاء ،  شعبۃ بن الحجاج ،  ج۷ ،  ص۲۳۶ ،  الرقم:  ۱۰۳۳۲۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۶ ،  حدیث: ۵۱۔

[3]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۱ ،  حدیث: ۳۰۔

[4]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۳ ،  حدیث: ۳۷۔

[5]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۳ ،  حدیث: ۳۸۔

[6]    مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب التاسع عشر ،  ص۴۲۔



Total Pages: 349

Go To