Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا بھیجا تاکہ انہیں   خلیفہ بنائیں  ۔ تولوگوں   نے آپ کی بارگاہ میں   عرض کیا:   ’’ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا فَظًّا غَلِيظًا فَلَوْ مَلَكَنَا كَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ , مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إذَا أَتَيْتَه وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم پر ایک ایسے شخص کو خلیفہ مقرر فرمارہے ہیں   جو پہلے ہی بہت سخت مزاج ہے ،  اگر وہ ہم پر حاکم بن گیا تو پھر وہ زیادہ سختی و شدت سے پیش آئے گا۔ رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   جب آپ جائیں   گے تو کیا جواب دیں   گے؟ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سن کر ارشاد فرمایا:   ’’  أَتُخَوِّفُونِي بِرَبِّي  ،  أَقُولُ:  اللَّهُمَّ اَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَ أَهْلِكیعنی تم مجھے رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   جواب دہی سے ڈرا رہے ہو سنو میں   اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے عرض کروں   گا:  یَا   اللہ عَزَّ وَجَلَّمیں   نے اُس شخص کو اِن پر حاکم مقرر کیا ہے جو سب سے بہتر ہے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں  :

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں   کہ میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ وَاللہِ مَا عَلَى وَجْهِ الْاَرْضِ رَجُلٌ اَحَبَّ اِلَىَّ مِنْ عُمَرَیعنی روئے زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں   ہے جو مجھے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ محبوب ہو۔ ‘‘  ([2])

شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولاعلی شیر خدا

فاروقِ اعظم کے اوصاف حمیدہ:

حضرت سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کا پہلا دن تھا  ، مہاجرین وانصار مسجد نبوی میں   جمع تھے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتشریف لائے اور ایک طویل خطبہ دیا جس میں   اوّلاًرب عَزَّ وَجَلَّکی حمد وثنا بیان کی ،  ثانیاًرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح وثنا بیان کی ،  ثالثاًامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مناقب کو بیان فرمایا ،  پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مناقب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  

٭… ’’ قَامَ مَقَامَهُ الْفَارُوْقُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَمَّرَ عَنْ سَاقَيْهِ وَحَسَّرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے منصب خلافت سنبھالا ۔ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خلافت کو بطریق احسن سنبھالنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ ‘‘ 

٭… ’’ لَا تَاْخُذُهُ فِي اللہِ لَوْمَةُ لَائِمٍ فاروقِ اعظم کی شخصیت تو وہ تھی کہ انہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف اور کوئی ڈر نہ تھا۔ ‘‘ 

٭… ’’ كُنَّا نَرٰى اَنَّ السَّكِيْنَةَ تَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِهٖ ہم دیکھتے تھے کہ سکینہ عمر کی زبان پر بولتا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَكَيْفَ لَااَقُوْلُ هٰذَا وَرَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ اَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ ،  فَقَالَ هٰكَذَا نُحْيِىْ وَهٰكَذَا نَمُوْتُ وَهٰكَذَا نُبْعَثُ وَهٰكَذَا نَدْخُلُ الْجَنَّةَ اور میں   ان کے اوصاف کیوں   نہ بیان کروں   کہ میں   نے خود سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو حضرت سیِّدُنا ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے درمیان دیکھا اور یہ فرماتے سنا کہ دنیا میں   ہم اسی طرح رہیں   گے اور دینا سے اسی طرح رخصت ہوں   گے ،  کل بروز قیامت ہمیں   ایک ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسی طرح اکھٹے جنت میں   داخل ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَكَيْفَ لَا اَقُوْلُ هٰذَا فِي الْفَارُوْقِ وَالشَّيْطَانُ يَفِرُّ مِنْ حِسِّهٖاور میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اوصاف کیوں   نہ بیان کروں   کہ شیطان بھی ان کی آہٹ سے بھاگ جاتا تھا۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَمَضٰى شَهِيْدًا رَحْمَةُ اللہِ عَلَيْهِ مگر آہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی شہید ہو کر ہم سے بچھڑ گئے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کا ذِکر ضرور کرو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ اِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلًا بِعُمَرَیعنی جب صالحین (نیک لوگوں   )کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر ضرور کیا کرو۔  ‘‘  ([4])

شیخین سے مؤمن ہی محبت رکھے گا:

حضرت سیِّدُنا زید بن وھب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا سوید بن غفلۃ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی خدمت میں   حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنِّيْ مَرَرْتُ بِنَفَرٍ يَذْكُرُوْنَ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بِغَيْرِ الَّذِيْ هُمَا اَهْلٌ لَهُ مِنَ الْاِسْلَامِیعنی اے امیر المؤمنین! میں   ایک ایسے گروہ کے پاس سے گزرا جو سیِّدُنا صدیق اکبر وفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا تذکرہ اس طرح کررہے تھے جو اسلام میں   روا نہیں  ۔ ‘‘  یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  منبر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا:  ٭…  ’’ وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَاَالنِّسْمَةَ لَا يُحِبُّهُمَا اِلَّا مُؤْمِنٌ فَاضِلٌ وَلَا يَبْغَضُهُمَا وَيُخَالِفُهُمَا اِلَّا شَقِيٌّ مَارِقٌ فَحُبُّهُمَا قُرْبَةٌ وَبُغْضُهُمَا مُرُوْقٌ یعنی خالق کائنات کی قسم! صرف حقیقی مؤمن ہی ان دونوں   سے محبت کرے گا اور بدبخت وبد دین ہی ان سے نفرت ومخالفت کرے گا کیونکہ ان کی محبت قربت (ایمان حقیقی) اور ان سے نفرت بے دینی



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۵ ،  حدیث: ۴۶۔

[2]    الادب المفرد ،  باب الولد ،  مبخلۃ مجبنۃ ،  ص۳۲ ،  حدیث: ۸۴ ملتقطا۔

[3]    کنزالعمال ،  کتاب الخلافۃ مع الامارۃ ،  خلافۃ امیر المؤمنین۔۔۔الخ ،  الجزء: ۵ ، ج۳ ، ص۲۸۵ ،  حدیث: ۱۴۲۳۸ ملخصا۔

[4]    معجم اوسط ،  من اسمہ محمد ،  ج۴ ،  ص۱۵۵ ،  حدیث: ۵۵۴۹۔



Total Pages: 349

Go To