Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ اِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِيْ اِلَيْهَا وَسَتَجِدُ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ مَنْ هُوَ اَحْوَجُ اِلَيْهَا مِنِّیْ حضور!مجھے اس کی حاجت نہیں  ۔شاید آپ کو مجھ سے زیادہ حاجت مند آدمی مل جائے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ بَلٰى فَخُذْهَا فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِيْ اِلٰى مِثْلِ مَا دَعَوْتُكَ اِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِيْ قُلْتَیعنی ہاں   کیوں   نہیں   لیکن تم لے لو کیونکہ ایک باراللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی مجھے کچھ عطا فرمایا تو میں   نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’  مَاجَاءَكَ اللہُ بِهٖ مِنْ رِزْقٍ غَيْرِ مُتَشَوَّفَةٍ اِلَيْهِ نَفْسَكَ وَلَا سَائِلَةٍ فَاقْبَلْهُ فَاسْتَنْفِقْهُ فَاِنِ اسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ فَتَصَدَّقْ بِهٖ وَمَا لَمْ يَاْتِكَ فَدَعْهُ یعنی اے عمر ! جو مال تمہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ بغیر چاہت اور بغیر سوال کے عطا فرمائے وہ ضرور لے لو ،  اگر خود اپنے لیے ضرورت نہیں   تو لے کر صدقہ کردو اور جو چیز نہ ملے اس کی چاہت نہ رکھو۔ ‘‘   ([1])

عاشقانِ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت

رسول اللہ کے محبین ومقربین کو ترجیح:

حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر تر جیح اور فضیلت دی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بارے میں   اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے گفتگو کی اور عرض کیا:   ’’ نہ تو اسامہ کے والد کا مقام ومرتبہ میرے والد سے زیادہ ہے اور نہ ہی اسامہ رتبے کے اعتبار سے مجھ سے بڑھ کر ہے ،  اس کے باوجود آپ نے اسامہ کو ایک ہزار دینار سے زائد کیوں   دیے؟ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ اَحَبَّ اِلٰى رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَبِيْكَ وَكَانَ اُسَامَةُ اَحَبَّ اِلٰى رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَیعنی یہ میں   نے اس لیے کیا ہے کہ( حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد)حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتیرے والد عمر سے زیادہ رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے محبوب تھے اور حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتجھ سے زیادہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو محبوب تھے۔ ‘‘  ([2])

اے امیر! آپ پر سلام ہو:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن دینار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو دیکھتے تو اُنہیں   یوں   سلام کرتے:   ’’ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْاَمِيْرُ یعنی اے امیر! آپ پر سلام ہو۔ ‘‘  ایک بار سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مغفرت فرمائے ،  آپ مجھے امیر کہہ کر کیوں   پکار تے ہیں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ اے اُسامہ بن زید! جب تک تم زندہ ہو میں   تمہیں   اسی طرح  ’’ امیر ‘‘   ہی کہہ کر پکارتا رہوں   گاکیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اِنتقال کے وقت تمہیں   ہی امیر بنایا تھا۔ ‘‘  ([3])

عشق ومحبت کا دوسرا رخ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب تک آپ نے جتنے بھی اقوال وواقعات ملاحظہ کیے وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اصحاب رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے عشق ومحبت سے متعلق تھے ،  اب آپ وہ احادیث مبارکہ وواقعات ملاحظہ کیجئے جو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت والفت سے متعلق ہیں   ۔

شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا صدیق اکبر

صدیق اکبر کی فاروقِ اعظم سےمحبت:

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ وَاللہِ اِنَّ عُمَرَ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَيَّیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تمام لوگوں   میں   مجھے سب سے زیادہ محبوب عمر ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

عمر سے بہتر کسی شخص پر سورج طلوع نہیں   ہوا:

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکوایک بار حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوں   پکارا:   ’’ يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ یعنی اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے بہتر۔ ‘‘  تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اَمَا اِنَّكَ اِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَیعنی اگر تم نے مجھے یوں   پکارا ہے تو پھر اپنی فضیلت بھی سنومیں   نے خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو تمہارے متعلق یہ فرماتے سنا ہے کہ عمر سے بہتر کسی شخص پرسورج طلوع نہیں   ہوا ۔ ‘‘  ([5])

میں   نے سب سے بہتر شخص کو حاکم بنایا:

حضرت سیِّدُنا زبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۳۹۔

[2]    ترمذی ، کتاب المناقب ، مناقب  زیدبن حارثہ  ، ج۵ ، ص۴۴۵ ، حدیث: ۳۸۳۹ملتقطا۔

[3]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۸ ،  ص۷۰۔

[4]    کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضائل الفاروق ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۴۴ ،  حدیث: ۳۵۷۳۱۔

[5]    ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۴ ،  حدیث: ۳۷۰۴۔



Total Pages: 349

Go To