Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا ابن ابی نجیح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ الَّذِيْ يُحَافِظُ عَلٰى اَزْوَاجِيْ بَعْدِيْ فَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّیعنی جو شخص میرے بعد میری ازواج کی حفاظت کرے گا ،  وہ سچااور نیکو کار ہوگا۔ ‘‘   چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں  لوگوں   سے فرمایا:   ’’  مَنْ يَحُجُّ مَعَ اُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ؟یعنی امہات المؤمنین کے ساتھ کون حج کی سعادت حاصل کرے گا؟ ‘‘   ( یعنی انہیں   بحفاظت حج پر لے جائے اور واپس بھی لائے۔) حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ اَنَایعنی حضور اس سعادت کے لیے میں   اپنے آپ کو پیش کرتاہوں  ۔ ‘‘   چنانچہ امیر المؤمنین کے حکم پر انہوں   نے امہات المؤمنین کی خیر خواہی کی سعادت حاصل کی اور انہیں   حج کروایا۔اور حج کے لیے ایسا محفوظ راستہ اختیار کیا جس میں   گہری گھاٹیاں   تھیں   اور وہاں   سے عام لوگوں   کی آمدورفت نہ تھی ،  نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پردے کی غرض سے اونٹوں   کے کجاووں   پر سبز چادریں   بھی ڈلوائیں  ۔([1])

اُمّ المومنین کی گستاخی کرنے والے کو سزا:

حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ’’  ایک شخص نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے قرض واپس لینا تھا۔ اس نے آکر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ جھگڑا کیا اور نامناسب رویہ اختیار کیا نیز

 مال کی وصولی کے لیے بار بار آپ کو تنگ کرناشروع کردیا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے گستاخی کے سبب اسے تیس کوڑے لگوائے۔ ‘‘  ([2])

اُمہات المؤمنین کی خیر خواہی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ اپنے گھر سے نکل کر جب بھی اُمہات المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے گھروں   کے قریب سے گزرتے ہوئے تو آتے جاتےاُنہیں   سلام کرتے ،  ایک بار واپسی پر آپ نے دیکھا کہ ایک شخص ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دروازے کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا:   ’’ تم یہاں   کیوں   بیٹھے ہو؟ ‘‘   اس نے عرض کیا:   ’’ ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے میرا کچھ قرض دینا ہے ، وہی لینے کے لیے یہاں   بیٹھا ہوں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:   ’’ کیا آپ کی ضروریات کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم کافی نہیں   ہیں  ؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:   ’’ کیوں   نہیں   ،  لیکن مجھ پر چند اور حقوق بھی ہیں   ،  میں   نے اپنے سرتاج ابوالقاسم محمد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر کسی پر کچھ قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی کوشش میں   لگا رہے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ساتھ ایک محافظ فرشتہ مقرر فرمادیتا ہے۔ لہٰذا میں   چاہتی ہوں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے وہ محافظ فرشتہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔ ‘‘  ([3])

اَزواج مطہرات کے حج کے لیے خصوصی انتظام:

حضرت سیِّدُنا منذر بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ازواج نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے حج کی اجازت طلب کی۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انکار فرمادیا۔ازواج مطہرات نے اصرار کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’  آئندہ سال آپ کو اجازت ہوگی اور یہ میری ذاتی رائے نہیں  ۔ ‘‘   حضرت سیدتنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کیا:   ’’ میں   نے

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حجۃ الوداع کے موقع پر سنا ہے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ حج اور اس کے بعد حصر ہے۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضر ت سیدتنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سوا دیگر تمام ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو حج پر بھیج دیا اور ساتھ ہی حضرت سیدتنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بھیجا اورارشاد فرمایا:   ’’ اَنْ یَسِيْرَ اَحَدُھُمَا بَيْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَالْآخَرُ خَلْفَھُنَّ وَلَا یُسَایِرُھُنَّ اَحَدٌیعنی تم دونوں   میں   سے ایک شخص آگے چلے اور دوسرا پیچھے۔دونوں   ایک ساتھ چلنے کی کوشش نہ کریں۔ ‘‘   اور طواف کے متعلق یہ حکم جاری فرمایا:   ’’ اِذَا طُفْنَ بِالْبَيْتِ لَا يَطُوْفُ مَعَهُنَّ اَحَدٌ اِلَّا النِّسَاءُ یعنی پہلے مردوں   سے حرم کو خالی کردیا جائے اور صرف خواتین ہی ازواج مطہرات کے ساتھ طواف کریں۔ ‘‘  ([4])

حدیث مبارکہ کی شرح :

حضرت علامہ محب الدین طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ یہ بھی مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے عہد میں  ہر سال لوگوں   کے ساتھ خود حج فرمایاکرتے تھے۔ اس لیے ممکن ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ازواج مطہرات کے حفاظتی امور کی ذمہ داری اس لیے دی ہو کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر مصروفیات کے باعث یہ فریضہ بذات خود انجام نہیں   دے سکتے تھے۔صحیح بخاری میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ازواج کو اپنے دور کے آخری حج میں   شرکت کی اجازت دی ،  اور ان کے ساتھ حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن



[1]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۵ ،  ص۲۸۶ ،  ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۴۲۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الحدود ، باب فی التعزیرکم ھو ، وکم یبلغ بہ ، ج۶ ،  ص۵۶۷ ،  الحدیث: ۲۔

[3]    معجم اوسط ،  من اسمہ علی ،  ج۳ ،  ص۲۵ ،  حدیث:  ۳۷۵۹۔

[4]    ریاض النضرۃ ، ج۱ ، ص۳۴۲۔



Total Pages: 349

Go To