Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرف بھاگے۔ میں   نے بھی خچر کو بھگایا اور سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آنے سے قبل ابو سفیان کو حضور نبی ٔکریم ،  رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچا دیا۔ساتھ ہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی پہنچ گئے اور کہنے لگے:   ’’ يَا رَسُوْلَ اللہِ هٰذَا اَبُوْ سُفْيَان قَدْ اَمْكَنَ اللہُ مِنْهُ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ فَدَعْنِيْ اَضْرِبُ عُنَقَهُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابو سفیان کسی صلح اور معاہدہ کے بغیر ہمارے قبضے میں   آگیا ہے ،  اب آپ اجازت دیں   کہ میں   اس کی گردن اڑا دوں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے عرض کیا:   ’’ يَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّيْ قَدْ اَجَرْتُهُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نے انہیں   امان دے دی ہے۔ ‘‘   یہ کہہ کر میں   نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سر انور پکڑ لیا اور کہا:   ’’ آج کی رات میرے سوا کوئی شخص سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سرگوشی نہیں   کرے گا۔  ‘‘  جب سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابوسفیان کے بار ے میں   زیادہ کلام کیا تو میں   نے کہا:   ’’ مَهْلاً يَا عُمَرُ وَاللہِ لَوْ كَانَ مِنْ رِجَالِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ مَا قُلْتَ هٰذَاوَلٰكِنَّكَ قَدْ عَرَفْتَ اَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِيْ عَبْدِ مُنَافٍیعنی اے عمر ! بس کیجئے۔ خدا کی قسم ! اگر عدی بن کعب کے قبیلہ سے کوئی شخص ہوتا ( یعنی آپ کے قبیلہ سے ہوتا) تو آپ کبھی یہ باتیں   نہ کرتے۔آپ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں   کہ ابو سفیان بنی عبدالمناف سے ہیں  ۔ ‘‘   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا:   ’’ مَهْلاً يَا عَبَّاسُ فَوَاللہِ لَاِسْلَامُكَ يَوْمَ اَسْلَمْتَ كَانَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ اَسْلَمَ وَمَا بِيْ اِلَّا اَنِّيْ قَدْ عَرَفْتُ اَنَّ اِسْلَامَكَ كَانَ اَحَبُّ اِلَىَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اِسْلَامِ الْخَطَّابِ یعنی اے عباس ! بس کریں  ۔ خدا کی قسم! جس روز آپ اسلام لائے اس دن آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ محبو ب تھا اگر وہ اسلام قبول کرلیتا اور یہ پسندیدگی فقط مجھ تک نہیں   ہے بلکہ میں   جانتاہوں   کہ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی میرے والد خطاب کے اسلام لانے سے آپ کا اسلام قبول کرنا زیادہ محبوب تھا۔ ‘‘   بعد ازاں   حضرت سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔([1])

رسول اللہ کے رشتہ دار زیادہ محترم تھے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دشمن کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تََعالٰی عَنْہ کی ذات ننگی تلوار تھی آپ کا سینہ غیرت اسلامی کا خزینہ تھا اوریہ بھی معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اپنے والد کے اسلام سے حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام کو محبوب تر سمجھنا صرف اسی بنیاد پر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ دار سب سے زیادہ محترم تھے۔

سیِّدُنا عباس کا پرنالہ دوبارہ لگادیا:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ میرے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکان کا ایک پرنالہ تھا جو اس راستے میں   پڑتا تھا جہاں   سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہگزرتے تھے۔ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجمعہ کے دن اُجلے کپڑے پہنے مسجد جارہے تھے۔ اور حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں   دو چوزے ذبح کیے گئے تھے۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اُس پرنالے کے بالکل نیچے پہنچے تو خون سے ملا ہوا پانی آپ پرآ گرا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی وقت پرنالہ اکھاڑنےکا حکم دے دیا۔آپ کے حکم کی تعمیل ہوئی اور پرنالہ اکھاڑ دیا گیا۔ پھر آپ واپس آئے ،  کپڑے تبدیل کیے اور نمازجمعہ پڑھائی۔ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے پاس آئے اور عرض کیا:   ’’ وَاللہِ اِنَّهُ لَمَوْضَعُ الَّذِيْ وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ پرنالہ اس جگہ خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے لگایا تھا۔ ‘‘  فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے کہا:   ’’ اَنَا اَعْزِمُ عَلَيْكَ لِمَا صَعِدْتَّ عَلٰى ظَهْرِيْ حَتّٰى تَضَعَهُ فِيْ الْمَوْضَعِ الَّذِيْ وَضَعَهُ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَیعنی میں   آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں   کہ آپ میرے ساتھ چلیں   ،  آپ میری پیٹھ پر کھڑے ہوں   اور جہاں   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے پرنالہ لگایا تھا وہیں   دوبارہ لگائیں۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکم کی تعمیل کی اور پرنالہ دوبارہ وہیں   لگادیا۔([2])

حضرت سیِّدُنا عباس کے وسیلے سے بارش کی دعا فرماتے:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ جب قحط پڑتا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وسیلے سے یہ دعا مانگتے ([3]):  ’’ اللَّهُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! بے شک ہم پہلے تیری بارگاہ میں   اپنے حضور نبی ٔ پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا اور اب ہم اپنے رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں   ہمیں   بارش عطا فرما۔ ‘‘  راوی کہتے ہیں   کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ دعا فرماتے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بارش نازل فرمادیتا۔ ‘‘  ([4])

رسول اللہ کے خاندان سے ابتداء کی جائے:

حضرت سیِّدُنا محمد بن عجلان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب رجسٹر بنایا تو اپنے اصحاب سے مشورہ لیتے ہوئے



[1]    شرح معانی الآثار ،  کتاب الحجۃ ،  باب فی فتح رسول اللہ ۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۲۴۴ ،  حدیث: ۵۳۲۷ مختصرا۔

[2]    مسند امام احمد  ، حدیث العباس۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۴۴۹ ،  حدیث: ۱۷۹۰۔

[3]    وسیلے سے متعلق دیگر روایات وتفصیلی معلومات کے لیے اسی کتاب کا باب  ’’ فاروقِ اعظم اور حقوق العباد ‘‘   ص ۱۲۴ کا مطالعہ کیجئے

[4]    بخاری ،  کتاب الاستسقاء ،  باب سوال الناس۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۳۴۶ ،  حدیث: ۱۰۱۰۔



Total Pages: 349

Go To