Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حَسْنَیْنِ کِرِیْمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے عقیدت ومحبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی  مولا علی شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عقیدت ومحبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہرء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے عقیدت ومحبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے خاندان  سے عقیدت و محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے چچا سے عقیدت و محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بنی ہاشم سے عقیدت و محبت

٭…٭…٭…٭…٭…٭

رسول اللہ کی اولاد واقرباء سے محبت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بِحَمْدِ للّٰہ تَعَالٰی مسلک حق اہلسنت وجماعت وہ مہذب ،  پیارا اور باادب مسلک ہے جس میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہر مقبول بندے کا ادب واحترام موجود ہے ،  حبیب خدا ،  شافع روزِ جزا ،  مالک ہردوسرا ،  حضور خاتم الانبیاء  ،  احمد مجتبےٰ ،  محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات گرامی سے جس کی بھی نسبت ہو ہر سنی مسلمان کے دل میں   اس کی تعظیم وتکریم ضرور ہوگی۔برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اسی عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور

تو پھر کہیں   گے کہ ہاں   تاجدار ہم بھی ہیں 

جب سرکار دوعالم ،  نورمجسم ،  شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نورانی تلوؤں   کو بوسے دینے والی نعلین شریفین کا یہ ادب واحترام ہے تو اہل بیت اَطہار جو کہ سرورِ کون ومکاں   ،  وارثِ زمین وآسماں   ،  محبوبِ ربّ دوجہاں   صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خون مبارک ہیں   اُن کا ادب واحترام اور اُن سے عقیدت والفت کا کیا عالم ہوگا۔اعلی حضرت  ، عظیم البرکت ،  امام اہلسنت ،  مجدددین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اہل بیت اطہار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی بارگاہ میں   نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں  :

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی

زہرا ہے کلی جس میں   حسین اور حسن پھول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اہل بیت عظام کی یہ عظیم محبت مسلک اہل سنت وجماعت کوخود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ سے عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں   کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ نَّفْسِهٖ وَ تَكُوْنَ عِتْرَتِيْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهٖ وَ ذَاتِیْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهٖ وَ يَكُوْنَ اَهْلِيْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ اَهْلِهٖیعنی کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں   ہوسکتا جب تک کہ میں   اسے اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں  اور میری اَولاد اسے اپنی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے اور میری ذات اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے اور میرے گھر والے اسے اپنے گھر والوں   سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں  ۔ ‘‘  ([1])

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو نبیٔ پاک ،  صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شب وروز ،  نظر ایمان سے زیارت فرماتے تھے ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین شریفین کے بوسے لیتے تھے ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نمازیں   ادا فرماتے تھے ،  اُن سے زیادہ اس حدیث پاک کا مفہوم کون سمجھ سکتا ہے؟امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس حدیث پاک کے پکے عامل تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کبھی بھی اپنی ذات  ،  اپنی اولاد کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت پر ترجیح نہ دی۔ آئیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اہل بیت سے عشق ومحبت کے دلنشین واقعات کو ملاحظہ کیجئے اور اپنے دل میں   محبت اہل بیت کی شمع کو مزید روشن کیجئے:

حسنین کریمین سے عقیدت ومحبت

فاروقِ اعظم حسنین کریمین کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب خلافت فاروقی میں   اللہ تعالٰینے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ہاتھ پر مدائن فتح کیا اور مال غنیمت مدینہ منورہ میں   آیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسجد نبوی میں   چٹائیاں   بچھوائیں   اور سارا مال غنیمت ان پر ڈھیر کروادیا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مال لینے جمع ہوگئے ۔سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:  

٭… ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَعْطِنِيْ حَقِّيْ مِمَّا اَفَاءَ اللہُ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَیعنی اے امیر المومنین !   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو مسلمانوں   کو مال عطا فرمایا ہے اس میں   سے میرا حصہ مجھے عطا فرمادیں  ۔ ‘‘ 

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔ ‘‘  ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک ہزار درہم انہیں   دے دیے۔ انہوں   نے اپنا حصہ لیا اور چلے گئے۔

 



[1]    شعب الایمان  ،   باب فی حب النبی ،  فصل فی براءتہ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۱۸۹ ،  حدیث: ۱۵۰۵۔



Total Pages: 349

Go To