Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کی رحلت پر اسلام روئے گا:

حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ میرے پاس جبریل امین(عَلَیْہِ السَّلَام ) آئےتومیں   نے انہیں   کہا:  ’’  اَخْبِرْنِيْ عَنْ فَضَائِلِ عُمَرَ وَمَاذَا لَهُ عِنْدَ اللہِ تَعَالٰىیعنی عمر فاروق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی فضیلت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   ان کی قدرو قیمت بیان کرو۔ ‘‘   وہ کہنے لگے :  ’’ لَوْجَلَسْتُ مَعَكَ قَدْرَ مَا لَبِثَ نُوْحٌ فِيْ قَوْمِهٖ لَمْ اَسْتَطِعْ اَنْ اَخْبَرَكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ وَمَا لَهُ عِنْدَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ یعنییارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں   حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر جتنا وقت آپ کے پاس بیٹھوں   تو بھی عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل اور بارگاہِ الٰہی میں   آپ کا مقام و مرتبہ بیان نہیں   کرسکتا۔ ‘‘  پھر جبریل امین (عَلَیْہِ السَّلَام ) نے کہا:  ’’ لَيَبْكِيَنَّ الْاِسْلَامُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكَ عَلٰى مَوْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اسلام دو مرتبہ روئے گا ایک تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحلت پراور دوسری مرتبہ عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رحلت پر۔ ‘‘  ([1])

 آسمانی کتب میں   آپ کی تعریف:

حضرت سیِّدُنا کعب الاحبا ر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ ملک شام میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے میری ملاقات ہوئی تو میں   نے کہا:   ’’ کتاب اللہ میں   لکھا ہے کہ ایسے شہر جن میں   بنی اسرائیل کا بسیرا ہوگا ان کی فتح ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر ہوگی جو نیکوکار ،  مسلمانوں   پر رحیم ،  کافروں   پر عذابِ الیم اور ظاہر و باطن میں   ایک جیسا ہوگا ،  اس کے قول و فعل میں   تضاد نہیں   ہوگا ،  اپنے اور بیگانے اس کی نظر میں   برابر ہوں   گے ،  اور اس کے ساتھ راتوں   کو عبادت کرنے والے ،  دن کو روزہ رکھنے والے اور لوگوں   کی غم خواری کرنے والے ہوں   گے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اَحَقٌ مَا تَقُوْلُ؟یعنی جو آپ کہہ رہے ہیں   کیا یہ سچ ہے؟ ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جو میری بات سن رہا ہے! یہ بالکل سچ ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَعَزَّنَا وَكَرَّمَنَا وَشَرَّفَنَا وَرَحِمَنَا بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَرَحْمْتِهِ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ یعنی تمام تعریفیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہیں   جس نے ہمیں   عزت فضیلت اور شرافت بخشی اور ہمارے پیارے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور اپنی رحمت کے صدقے رحم فرمایا جو ہر شے کو محیط ہے۔‘‘([2])

فاروقِ اعظم پر رب کا خصوصی کرم

روز عرفہ فاروقِ اعظم پر خصوصی کرم:

حضرت سیِّدُنا بلال بن رباح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے روز عرفات مجھ سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے بلال ! لوگوں   کوخاموش کرائو۔ ‘‘   جب سب خاموش ہوگئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ آج   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم پر کرم فرمایا ہے ،  تمہاری نیکیوں   کے سبب تمہارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں   اور جتنا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا ثواب عطا فرمایا ہے ،  تو تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی برکت پر یہاں   سے نکل کھڑے ہو ،  آج   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں   کے سامنے تمام اہل عرفہ ( حجاج کرام) پر عمومی کرم فرمایا ہے اور عمر بن خطاب پر خصوصی کرم فرمایا ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کا دین سب سے زیادہ ہے:

حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ میں   سویا ہوا تھا ،  میں   نے خواب دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں   جنہوں   نے قمیصیں   پہن رکھی ہیں  ۔ کسی کی قمیص صرف اس کے سینے تک ہے  ، کسی کی اس سے لمبی ہے۔ جب عمر بن خطاب پیش ہوئے تو ان کی قمیص زمین تک لمبی تھی۔ ‘‘   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ مبارک خواب سن کر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   سے کسی صحابی نے پوچھا:   ’’ مَا اَوَّلْتَ یَا نَبِیَّ اللہِ ذَالِکَ؟یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ‘‘  آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر مراد لی ہے؟ ‘‘  فرمایا:   ’’ دین۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم سے محبت کا صلہ

سیِّدُنا انس بن مالک کی شیخین سے محبت:

حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   ایک شخص نے عرض کی :  ’’ مَتَى السَّاعَةُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! قیامت کب قائم ہو گی؟ ‘‘   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس سے دریافت فرمایا :  ’’ وَمَاذَا اَعْدَدْتَ لَهَایعنی تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ ‘‘   تو اس نے عرض کی:  ’’ لَا شَيْءَ إِلَّا اَنِّي اُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !تیاری تو کچھ نہیں   کی ،  مگر میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے محبت کرتا ہوں  ۔ ‘‘   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :  ’’  اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَیعنی تم جس سے محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ہمیں   کسی چیز سے اتنی خوشی حاصل نہیں   ہوئی جتنی خوشی شہنشاہِ خوش خِصال ،  پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس فرمان سے ہوئی کہ ’’ تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ فَاَنَا اُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاَرْجُو اَنْ اَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي اِيَّاهُمْ وَاِنْ لَمْ اَعْمَلْ بِمِثْلِ اَعْمَالِهِمْیعنی میں   سیدعالم ،  نورمجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ،  حضرت سیِّدُنا ابوبکر اور حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ



[1]    تاریخ ابن عساکر ، ج۳۰ ، ص۱۲۲ ،  مسند ابی یعلی  ، مسند عمار بن یاسر  ،  ج۲ ،  ص۱۱۹ ،  حدیث: ۱۶۰۰ ، ص۱۷۹ ۔ ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۱۷ ملتقطا۔

[2]    تفسیر نظم الدرر ،  پ۲۶ ،  الفتح  ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ، ج۷ ، ص۲۱۷ ،  ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۱۹۔

[3]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۳۰۴۔

[4]    بخاری  ، کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۸ ،  حدیث: ۳۶۹۱۔



Total Pages: 349

Go To