Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے11القابات مع وجوہات پیش خدمت ہیں  :

(1)لقب  ’’ فاروق ‘‘   اور اس کی وجوہات

 ’’ فاروق ‘‘   لقب اللہ نے عطا فرمایا:

حضرت سیِّدُنا نزال بن سبرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کیا :  ’’ اےامیر المومنین ! ہمیں  سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ شخصیت ہیں   جنہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے  ’’ فاروق ‘‘   لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا۔ ‘‘  ([1])

 ’’ فاروق ‘‘   لقب بارگاہِ رسالت سے عطا ہوا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا کہ ’’  آپ کو فاروق کیوں   کہا جاتا ہے؟ ‘‘   اِرشاد فرمایا:  ’’  حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھ سے تین روز قبل اِسلام لائے ۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا سینہ اِسلام کے لیے کھول دیا اور میں   بے ساختہ پکار اُٹھا:   ’’ اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اسی کے ہیں   سب اچھے نام۔ ‘‘   اس وقت ساری روئے زمین پر حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بڑھ کر کوئی شخصیت میرے لیے محبوب نہ تھی۔میں   نے پوچھا:  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں   تشریف فرماہیں  ؟ ‘‘   میری ہمشیرہ نے کہا:  ’’  دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں   جو صفا پہاڑ ی کے نزدیک ہے۔ ‘‘   حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  گھر کے اندرصحن میں   اور دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  آگے کمرے میں   تشریف فرما تھے۔میں   نے دروازہ پر دستک دی تو میری آمد پر سب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اکٹھے ہوگئے۔حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے :  ’’ کیا بات ہے؟ ‘‘   وہ کہنے لگے:  ’’  عمر آگیا ہے۔ ‘‘  یہ سن کر خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  باہر تشریف لے آئےاور جیسے ہی میں   اندر داخل ہوا میرا گریبان پکڑا اور زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا:   ’’ عمر !تم باز نہیں   آئو گے تو میں   بے ساختہ پکار اُٹھا:  ’’ اَشْھَدُاَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا  اللہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ یعنی میں   گواہی دیتا ہوں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   وہ اکیلا ہے ،  اس کا کوئی شریک نہیں   اور میں   گواہی دیتا ہوں   کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں  ۔ ‘‘   یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز کعبۃ اللہ شریف میں   سنی گئی۔ میں   نے عرض کیا:  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا حیات اور موت دونوں   صورتوں   میں   ہم حق پر نہیں  ؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ کیوں   نہیں   ،    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تم لوگ حق پر ہو  ،  زندگی میں   بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ ‘‘   میں   نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر ہم چھپ چھپ کر کیوں   رہ رہے ہیں  ؟ اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں   گے۔ ‘‘   چنانچہ ہم دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری دو صفیں   تھیں   ،  اگلی صف میں   حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور پچھلی صف میں   مَیں   تھااور میری حالت یہ تھی کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا۔ ہم مسجدِ حرام میں   داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف  طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا۔اس دن خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے میرا نام  ’’ فاروق ‘‘   رکھ دیا ،  کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے سبب سے حق و باطل میں   امتیاز فرمادیا۔([2])

فاروق کا لقب کس نے دیا؟

حضرت سیِّدُنا ابو عمرو وذکوان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے پوچھا:   ’’ مَنْ سَمَّی عُمَرَ الْفَارُوْقَ؟ یعنی حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ اَلنَّبِیُّ یعنی غیب کی خبریں   دینے والے (نبی )نے۔ ‘‘  ([3])

حق وباطل میں   فرق کرنے کے سبب  ’’ فاروق ‘‘  :

حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے کہا:  ’’  فیصلے کے لیے تمہارے نبی محمد بن عبداللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چلتے ہیں  ۔ ‘‘   منافق بولا:   ’’ نہیں   بلکہ یہودیوں   کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جانا چاہیے۔ ‘‘  یہود ی نے یہ بات نہ مانی اور حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ٌ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلا آیا اور بارگاہِ رسالت میں   پہنچ کر سارا ماجرا بیان کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودی کے حق میں   فیصلہ کردیا۔جب دونوں   باہر آئے تو منافق کہنے لگا:  ’’  عمر بن خطاب کے پاس چلتے ہیں  ۔ ‘‘  دونوں   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا اور یہودی نے یہ بھی وضاحت کردی کہ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ آپ کے نبی محمد بن عبد اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے حق میں   کردیا ہےاور اس فیصلے کے بعد یہ شخص آپ کے پاس آنے پر اصرار کرنے لگا تو ہم یہاں   آگئے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب یہ سارا معاملہ سنا تو ارشاد فرمایا:   ’’ تم دونوں   ذرا یہیں   ٹھہرو ،  میں   ابھی آتا ہوں  ۔ ‘‘   آپ اندرتشریف لے گئے اور تلوار نیام سے باہر نکالتے ہوئے واپس آئے اورفورا اس منافق کا سر تن سے جدا کردیااور ساتھ ہی ارشاد فرمایا:   ’’ ھٰکَذَا اَقْضِیْ بَیْنَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاءِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ یعنی جو



[1]     تاریخ ابن عساکر ، ج۴۴ ، ص۵۰۔

[2]     حلیۃ الاولیاء ،  عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۷۵ ،  الرقم:  ۹۳۔

[3]     اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۲۔



Total Pages: 349

Go To