Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اے عبداللہ بن سلام ! آپ نے میرے بیٹے کو یہ کہا ہے:  اے جہنم کے تالے کے بیٹے۔ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:  ’’  جی ہاں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ كَيْفَ عَلِمْتَ اَنِّيْ فِيْ جَهَنَّمَیعنی تمہیں   میرے جہنمی بلکہ جہنم کا تالہ ہونے کی خبر کیسے ہوئی؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:  ’’ مَعَاذَ اللہِ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْ تَكُوْنَ فِيْ جَهَنَّمَ وَلَكِنَّكَ قُفْلُ جَهَنَّمیعنی اے امیر المومنین! میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جہنمی نہیں   کہابلکہ جہنم کا تالا کہاہے۔ ‘‘   فرمایا اس کاکیا مطلب؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا کہ مجھے میر ے والد گرامی نے اپنے والد اور داداسے روایت کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے سن کر یہ بات ارشاد فرمائی:

٭ ’’ يَكُوْنُ فِيْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت میں   ایک شخص آئے گا ،  جسے لوگ عمر بن خطاب کہیں   گے۔ ‘‘ 

٭ ’’ اَحْسَنُ النَّاسِ دِيْناً وَاَحْسَنُهُمْ يَقِيْناً مَا دَامَ بَيْنَهُمُ الدِّيْنُ عَالِي وَالدِّيْنُ فَاشٍ وہ سب سے بہتردین و یقین والا ہوگا ،  جب تک دنیا والوں  میں   رہے گا ان کا دین غالب اوریقین محکم رہے گا۔ ‘‘ 

٭ ’’ وَاسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى مِنَ الدِّيْنِ فَجَهَنَّمُ مُقْفَلَةٌ  لوگ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہیں   گے اور جہنم کو تالہ لگارہے گا۔ ‘‘ 

٭ ’’ فَاِذَا مَاتَ عُمَرُ يَرِقُّ الدِّيْنُ وَيَقِلُّ الْيَقِيْنُ وَتَقِلُّ اَعْمَارُ الصَّالِحِيْنَ وَافْتَرَقَ النَّاسُ عَلَى فِرَقِ مِّنَ الْاَهْوَاءِ جب وہ چلا جائے گا دین کمزور ہوجائے گا ،  یقین کم ہوجائے گا ،  صالحین کی عمریں   کم ہوجائیں   گی اور لوگ گروہ در گروہ ہوجائیں   گے۔ ‘‘ 

٭ ’’ فُتِحَتْ اَقْفَالُ جَهَنَّمَ فَيَدْخُلُ فِيْ جَهَنَّمَ مِنَ الْآدَمِيِّيْنَ كَثِيْرٌ جہنم کے تالے ٹوٹ جائیں   گے اور لوگ اس میں   داخل ہونا شروع ہوجائیں   گے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم لوگوں   کو جہنم سے بچانے والے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن دینار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا:  ’’  سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہہ رہے ہیں  :  ’’ اِنَّكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ النَّارِیعنی سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جہنم کے دروازوں   میں   ایک دروازہ پر ہیں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ سن کر خوف طاری ہوا اور بار بار کہنے لگے:  ’’  جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا ،  جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور کہا:   ’’  مَرَّةًفِی الْجَنَّۃِ وَمَرَّۃً فِی النَّارِیعنی کیا کوئی شخص بیک وقت جنت اور جہنم دونوں  میں   جاسکتا ہے؟ ( یعنی مجھے نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے جنت کی بشارت دی ہے اور آپ مجھے جہنم کے دروازے پر کھڑا کررہے ہیں  ۔)انہوں   نے عرض کیا:   ’’  اے امیر المومنین! کیا بات ہے اور میرے بارے میں   آپ کو کیا خبر پہنچی ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’  مجھے فلاں   شخص نے بتایا ہے کہ تم نے میرے متعلق یہ کہا ہے۔ ‘‘   انہوں  نے عرض کیا:  ’’ اَجَلْ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ اِنِّيْ لَاَجِدُكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ النَّارِ قَدْ سَدَدَّتَهُ اَنْ يَدْخُلَیعنی جی ہاں   میں   نے یہ کہا ہے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا منصب بھی یہی ہے۔ خدا کی قسم! آپ نے جہنم کا دروازہ بند کررکھا ہے اور کسی کو اندر نہیں   جانے دیا یعنی لوگوں   کو اسلام کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ جہنم میں   جانے سے بچ گئے ہیں  ۔ ‘‘   یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پریشانی جاتی رہی۔([2])

جہنم کے دروازہ پر:

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زوجہ مقدسہ حضرت سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بلایاجو امیر المومنین مولی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  وحضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی لاڈلی شہزادی تھیں   اور وہ رو رہی تھیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رونے کا سبب پوچھا تو عرض کیا:  ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! هٰذَا الْيَهُوْدِيُّ يَقُوْلُ اِنَّكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ جَهَنَّمیعنی اے امیر المومنین! یہ یہودی کعب احبار کہتا ہے کہ آپ جہنم کے دروازوں   سے ایک دروازے پر ہیں  ۔ ‘‘  (حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اجلہ ائمہ تابعین وعلمائے کتابین واعلم علمائے توریت سے ہیں   ،  پہلے یہودی تھے ،  خلافت فاروقی میں   مشرف باسلام ہوئے  ،  شاہزادیٔ مولا علی کا اس وقت غصے کی حالت میں   انہیں   اس لفظ سے تعبیر فرمانابربنائے نازک مزاجی تھا کہ لازمہ شاہزادگی ہے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن) امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مَا شَاءَ اللہُ وَاللہِ اِنِّيْ لَاَرْجُوْ اَنْ يَّكُوْنَ رَبِّيْ خَلَقَنِيْ سَعِيْدًایعنی جو رب عَزَّ وَجَلَّ چاہے۔خدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ میرے رب نے مجھے سعید (یعنی خوش بخت)پیدا کیا ہے۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا بھیجا  ،  انہوں   نے حاضرہوکر عرض کی:   ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ ،  وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يَنْسَلَخْ ذُوْ الْحِجَّةِ حَتّٰى تَدْخُلَ الْجَنَّةَیعنی امیرالمومنین ! مجھ پر جلدی نہ فرمائیں   ،  اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! ذی الحجہ کا مہینہ ختم نہ ہونے پائے گا کہ آپ جنت میں   تشریف لے جائیں   گے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حیران ہو کر ارشاد فرمایا:   ’’ اَيَّ شَيْءٍ هٰذَا مَرَّةً فِي الْجَنَّةِ وَمَرَّةً فِي الَّنارِ؟یعنی اے کعب!یہ کیا بات ہوئی کبھی تو جہنمی کہتے ہو ،  کبھی جنتی کہتے ہو؟ ‘‘   عرض کی :   ’’ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ! اِنَّا لَنَجِدُكَ فِيْ كِتَابِ اللہِ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ جَهَنَّمَ تَمْنَعُ النَّاسَ اَنْ يَقْعُوْا فِيْهَا ،  فَاِذًا مُتَّ لَمْ يَزَالُوْا يَقْتَحِمُوْنَ فِيْهَا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِیعنی یا امیرالمومنین! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں   میری جان ہے! آپ کو کتاب اللہ میں   جہنم کے دروازوں   سے ایک دروازے پر پاتے ہیں   کہ آپ لوگوں   کو جہنم میں   گرنے سے روکے ہوئے ہیں   ،  جب آپ انتقال فرمائیں   گے تو قیامت تک لوگ جہنم میں   گرتے رہیں   گے۔ ‘‘  ([3])

 



[1]    تاریخ ابن عساکر ،    ج۴۴ ،  ص۳۳۴۔

[2]    ریاض النضرۃ  ، ج۲ ،  ص۳۰۷۔

[3]    طبقات کبرٰی  ،  ذکر استخلاف عمر  ،  ج۳ ،  ص۲۵۳ ،  فتاویٰ رضویہ ،  ج۳۰ ،  ص۶۱۲۔



Total Pages: 349

Go To