Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

پھرفرمایا:  ’’  اے عائشہ! میں   مرسلین کا سردار ہوں   اور تمہارے والد اَفْضَلُ الصِّدِّیْقِیْن (یعنی صدیقین میں   سب سے افضل) ہیں   اور تم اُمّ المومنین(یعنی تمام مومنوں   کی ماں  ) ہو۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم فتنوں   کوروکنے کا تالا ہیں 

فاروقِ اعظم کے ہوتے کوئی فتنہ نہیں   ہوگا:

حضرت سیِّدُنا حسن فردوسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملے اور مصافحہ کرتے ہوئے زور سے ان کا ہاتھ دبایا۔ سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے:   ’’ دَعْ يَدِيْ يَا قُفْلَ الْفِتْنَةِیعنی اے فتنے کے تالے! میرا ہاتھ چھوڑ دیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ اے ابوذر !فتنے کے تالے کا کیا مطلب ؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:  ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک دن سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اورہم ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   کی گردنیں   پھلانگ کر آگے آنے کے بجائے پیچھے ہی بیٹھنا پسند کیا۔چنانچہ آپ تمام کے پیچھے بیٹھ گئے۔ آپ کو دیکھ کر دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تُصِيْبُكُمْ فِتْنَةٌ مَّا دَامَ هٰذَا فِيْكُمْیعنی جب تک یہ عمر تمہارے درمیان موجود ہے ،  تمہیں   کوئی فتنہ نہیں   پہنچے گا۔ (یعنی فتنوں   کے دروازے پر تالا لگا رہے گا۔) ([2])

فاروقِ اعظم فتنوں   کوروکنے کا دروازہ ہیں 

فاروقِ اعظم فتنوں   کو روکنے والادروازہ ہیں  :

حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِیعنی فتنے کے بارے میں   کسی کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی کوئی حدیث یاد ہے؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ مجھے یاد ہے۔ ‘‘   فرمایا:  ’’ سناؤ تمہارا یہی منصب ہے۔ ‘‘   میں   نے حدیث سناتے ہوئے کہاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے میں   نے یہ سنا ہے کہ ’’ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْاَمْرُ وَالنَّهْيُیعنی انسان کا فتنہ اس کے اہل خانہ ،  مال ،  جان  ،  اولاد اور پڑوسیوں   کے بار ے میں   ہوتا ہے جو روزہ ،  نماز ،  صدقہ  ،  اور نیکی کے حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے مٹ جاتا ہے۔ ‘‘  یہ حدیث پاک سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’  لَيْسَ هَذَا اُرِيدُ وَلَكِنَّ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُیعنی یہ حدیث پاک نہیں   بلکہ میں   اس حدیث کی بات کررہاہوں   جس میں  اس فتنہ کی بات ہے جو سمندر کی طرح موج مارے گا۔ ‘‘   میں   نے کہا :  ’’ اے امیر المومنین ! آپ کا اس سے کیا واسطہ ،  ابھی تو اس فتنے کا دروازہ بند ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’  اَيُكْسَرُ اَمْ يُفْتَحُیعنی وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ يُكْسَرُیعنی توڑا جائے گا اور پھر کبھی بند نہیں   ہوسکے گا۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  فرماتے ہیں   کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بعد میں   پوچھا:   ’’ اَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَیعنی کیا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس دروازے کا علم تھا؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:  ’’ نَعَمْ! كَمَا اَنَّ دُوْنَ الْغَدِ اللَّيْلَةَجی ہاں   بالکل علم تھا بلکہ ایسے علم تھا جیسے کل دن سے پہلے رات کا آنا یقینی معلوم ہوتاہے اور ہاں  ! میں   نے انہیں   جو کچھ بتایا وہ کوئی غلط باتوں   کا مجموعہ نہیں   تھابلکہ بالکل صحیح باتیں   تھیں  ۔ ‘‘   بہرحال صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  فرماتے ہیں   کہ ہم حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کی ہیبت کے پیش نظر کوئی سوال نہ کرسکے البتہ ان کے غلام سیِّدُنا مسروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اَلْبَابُ عُمَرُیعنی فتنوں   کو روکنے والا وہ دروازہ خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم جہنم سے بچانے والےہیں 

فاروقِ اعظم جہنم کا تالاہیں  :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے جو آرام فرمارہے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن کا پاؤں   ہلا کر کہا:  ’’  کون ہو؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:  ’’  امیر المومنین کا بیٹا عبداللہ ہوں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:  ’’  قُمْ يَا اِبْنَ قُفْلِ جَهَنَّمیعنی اے جہنم کے تالے کے بیٹے! اٹھ جاؤ۔ ‘‘   اپنے والد محترم کے متعلق یہ الفاظ سن کر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اٹھے تو غصے سے اُن کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا ،  اٹھتے ہی اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ حاضر ہوئے اور عرض کیا:  ’’  يَا اَبَةِ اَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَ اِبْنُ سَلَامٍ لِيْیعنی اے ابا جان!کچھ سنا آپ نے!عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کیا کہا ہے؟ ‘‘   آپ نے فرمایا:   ’’ کیا بات ہے؟ انہوں   نے کیا کہا ہے؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’  انہوں   نے آپ کو جہنم کا تالا کہا ہے۔ ‘‘   

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْوَيْلُ لِعُمَرَ اَنَّ كَانَ بَعْدَ عِبَادَةِ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً وَمُصَاهَرَتُهُ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَايَاهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ بِالْاِقْتِصَادِ اَنْ يَّكُوْنَ مَصِيْرَهُ اِلٰى جَهَنَّمَ حَتّٰى يَعْنِيْ يَكُوْنُ قُفْلًا لِجَهَنَّمَیعنی عمر کا ٹھکانہ جہنم ہو بلکہ وہ اس کا تالا بن جائے تو اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ اگرچہ وہ چالیس سال تک عبادت کرتا رہے ،  اس کا رسول اللہ سے سسرالی رشتہ بھی ہو ،  لوگوں   کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ بھی کرے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سبز چادر زیب تن کی ،  فاروقی درہ کندھے پر رکھا اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچے۔استفسار فرمایا:   ’’ يَا اِبْنَ سَلَامٍ بَلَغَنِيْ اَنَّكَ قُلْتَ لِاِبْنِيْ قُمْ يَا اِبْنَ قُفْلِ جَهَنَّمیعنی



[1]    ریاض النضرۃ  ،  ج۱ ، ص۳۵۔

[2]    تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ،  ص۳۳۴۔

[3]    بخاری  ، کتاب مواقیت الصلوۃ  ، باب الصلوۃ کفارۃ ، ج۱ ،  ص۱۹۵ ،  حدیث: ۵۲۵۔



Total Pages: 349

Go To