Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ میں   نے خواب میں   ایک بار خود کو جنت میں   دیکھا ،  وہاں   ایک محل کی دیوار کے ساتھ ایک عورت وضوکررہی تھی ، میں   نے کہا :  ’’ یہ محل کس کا ہے ؟ ‘‘   وہ کہنے لگی:  ’’  عمر بن خطاب کا ہے۔ ‘‘   تو اے عمر ! مجھے تمہاری غیرت یاد آئی تو میں   واپس لوٹ آیا۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر رو پڑے ،  ہم بھی مجلس میں   بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگے:  ’’ اَوَعَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَغَار ُیعنی  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیا مجھے آپ پر غیرت آ سکتی ہے؟ ‘‘  ([1])

عربی نوجوان کا جنتی محل:

حضرت سیِّدُنا بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صبح کے وقت حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور فرمایا:  ’’ يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي اِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ اَمَامِيیعنی ا ے بلال! تم جنت میں   مجھ سے پہلے کیسے چلے گئے؟ میں   جنت میں   جب بھی گیا ہوں   تمہارے قدموں   کی آہٹ میرے آگے ہوتی ہے۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا:   ’’  آج رات میں   جنت میں   گیا تو تمہارے قدموں  کی آواز میرے آگے آگے تھی ،  میں   نے وہاں   ایک بہت بلند سونے کا محل دیکھا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنتی فرشتوں   اور اپنے درمیان ہونے والے مکالمے کویوں   بیان فرمایا:  

٭…میں   نے کہا:   ’’ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُیعنی یہ محل کس کا ہے؟  ‘‘ 

                        جنتی فرشتے کہنے لگے :  ’’ لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِیعنی عرب کے ایک آدمی کا ہے۔ ‘‘ 

٭…میں   نے کہا:   ’’ اَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ یعنی عربی تو میں   بھی ہوں   پھریہ کس کا ہے؟ ‘‘ 

                        وہ کہنے لگے:  ’’ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍیعنی وہ آدمی قرشی بھی ہے۔ ‘‘ 

٭…میں   نے کہا :  ’’ اَنَا قُرَشِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُیعنی قرشی تو میں   بھی ہوں   پھریہ کس کا ہے؟ ‘‘   

                        وہ کہنے لگے:   ’’ لِرَجُلٍ مِنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍیعنی وہ شخص امت محمدیہ میں  سے ہے۔ ‘‘ 

٭…میں   نے کہا:   ’’ اَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْریعنی محمد تومیں   ہوں  پھر یہ میرے کس امتی کا ہے؟ ‘‘ 

                        وہ کہنے لگے :  ’’ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا:  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایک عمل تو یہ ہے کہ میں   ہمیشہ اذان کے بعد دو رکعت پڑھتا ہوں   اور دوسرا عمل یہ ہے کہ جس وقت بھی وضو ٹوٹے پھر سے وضو کرلیتا ہوں   اور میں   نے یوں   سمجھ لیا ہے کہ ہر وضو کے بعد دو رکعت پڑھنا میرے لیے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ضروری ہے۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’  انہی دو عملوں   کے سبب تمہارا یہ مقام ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کے رفیق جنت:

حضرت سیِّدُناابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے  ، ایک مرتبہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد  فرمایا:  ’’ اَلَا اُبَشِّرُکِ یعنی اے عائشہ!کیا میں   تمہیں   خوشخبری نہ دوں  ؟ ‘‘  عرض کی:  ’’ کیوں   نہیں   یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایا:  

٭… ’’ تمہارے والد یعنی ابوبکرجنتی ہیں   اور جنت میں   ان کے رفیق حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ عمر جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ عثمان جنتی ہیں   ان کارفیق میں   خود ہوں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ علی جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت یحیٰی بن زکریا عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭…  ’’ طلحہ جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت داود عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’  زبیر جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’  سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت سلیمان بن داود عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭…  ’’ سعید بن زید جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت موسیٰ بن عمران عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’  عبد الرحمن بن عوف جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ السَّلَام ہوں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں   ان کے رفیق حضرت سیِّدُنا ادریسعَلَیْہِ السَّلَامہوں   گے۔ ‘‘ 

 



[1]    بخاری  ، کتاب النکاح ،  باب الغیرۃ ،  ج۳ ،  ص۴۷۰ ،  حدیث: ۵۲۲۷۔

[2]    ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۵ ،  حدیث: ۳۷۰۹۔



Total Pages: 349

Go To