Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اَهْلِ اْلَجَنَّةِ یعنی عمر بن خطاب جنتی ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

ابھی ایک جنتی شخص آئے گا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُیعنی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا۔تو حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے۔ ‘‘  ([2])

جنت میں   پیارے آقا کی معیت:

حضرت سیِّدُنا زید بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا:   ’’  اَنْتَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِیعنی اے عمر!تم جنت میں   میرے ساتھ تین میں  سے تیسرے نمبر پر ہوں   گے۔ ‘‘   (یعنی دائیں   طرف سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  درمیان میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور بائیں   طرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) ([3])

فاروقِ اعظم اہل جنت کے آفتاب :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا :   ’’ عُمَرُ سِرَاجُ اَھْلِ الْجَنَّۃِیعنی عمر فاروق اہل جنت کے لیے آفتاب ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

مولاعلی مشکل کشا کی تصدیق:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ  ’’ عمر بن خطاب اہل جنت کا آفتاب ہیں  ۔ ‘‘   جب یہ بات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوئی تو وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ایک قافلےکے ساتھ حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا:   ’’ آپ نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سناہے کہعُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ یعنی عمر بن خطاب آفتاب ِ اہل جنت ہیں  ؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:  ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اُکْتُبْ لِیْ خَطَّکَ یعنی آپ اپنے ہاتھ سے مجھے یہ لکھ دیں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے تحریر لکھ دی:  ’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم هٰذَا مَا ضَمِنَ عَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيْلَ عَنِ اللہِ تَعَالٰى اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَهْلِ الْجَنَّةِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا ، یہ وہ تحریر ہے جسے علی بن ابی طا لب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے روایت کرکے لکھا ہےاور حضور نبی ٔپاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے سنا اور انہوں   نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ فرمان عالیشان سنا کہ عمر بن خطاب اہل جنت کا آفتاب ہیں  ۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد کو دے دی اور انہیں  وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذًا اَنَا مُتُّ وَغَسَلْتُمُوْنِيْ وَكَفَّنْتُمُوْنِيْ فَادْرَجُوْا هٰذِهٖ مَعِيَ فِيْ كَفْنِيْ حَتَّى اَلْقِىَ بِهَا رَبِّيْیعنی جب میرا انتقال ہوجائے اور تم مجھے کفن اور غسل دے چکو تو اسے میرے کفن میں   رکھ دینا میں   اسے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   پیش کر دوں   گا۔ ‘‘   چنانچہ آپ کے انتقال کے بعدوہ تحریر آپ کے کفن میں   ڈال دی گئی۔([5])

فاروقِ اعظم کا جنت میں   تیار شدہ محل :

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا کہ میں   جنت میں   داخل ہوا وہاں   میں   نے سونے اور جواہرات سے بنا ہواایک محل دیکھا۔ میں   نے پوچھا:  ’’ یہ محل کس کا ہے ؟ ‘‘   کہا گیا:   ’’ یہ عمر فاروق کا محل ہے۔ ‘‘  تو میں   نے اس میں   داخل ہونا چاہا ،  مگر اے عمر ! مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میرے ماں   باپ آپ پرقربان! کیا میں   آپ پر غیرت کھائوں   گا؟ ‘‘  ([6])

قرشی نوجوان کا جنتی محل:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا کہ میں   نے جنت میں   ایک محل دیکھا تومیں   نے کہا:   ’’ یہ کس کا ہے؟ ‘‘  بتایا گیا کہ  ’’ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے۔ ‘‘   میں   نے پوچھا :  ’’ وہ نوجوان کون ہے؟ ‘‘   کہا گیا :  ’’ عمر بن خطاب ہے۔ ‘‘  ([7])

یہ محل کس کا ہے۔۔۔؟

 



[1]    صحیح ابن حبان  ،  کتاب اخبارہ عن۔۔۔الخ ، مناقب الصحابۃ  ، ذکر اثبات الجنۃ لعمر ، الجزء: ۹ ،  ج۶ ،  ص۱۸ ،  حدیث: ۶۸۴۵۔

[2]    ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۸ ،  حدیث: ۳۷۱۴۔

[3]    تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ، ص۱۶۵۔

[4]    تاریخ ابن عساکر ، ج۴۴ ، ص۱۶۶۔

[5]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۳۱۱۔

[6]    بخاری  ، کتاب النکاح  ، باب الغیرۃ ،  ج۳ ،  ص۴۷۰ ،  حدیث: ۵۲۲۶۔

[7]    مسند امام احمد  ، مسند انس بن مالک  ، ج۴ ،  ص۲۱۵ ،  حدیث: ۱۲۰۴۶۔



Total Pages: 349

Go To