Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

 

فاروقِ اعظم کی اُخروی شان

سب سے پہلے نامۂ اعمال فاروقِ اعظم کو دیا جائے گا:

حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ میں   نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سناکہ روزِ قیامت سب لوگ جمع ہوں   گے۔ عمر بن خطاب ایک جگہ کھڑے ہوں   گے ،  ان کے پاس کوئی چیز آئے گی جو ان کی ہم شکل ہوگی اور کہے گی:  ’’  اے عمر ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو میری طرف سے بہتر جزا عطا فرمائے۔ ‘‘   وہ پوچھیں   گے:  ’’  تم کون ہو؟ ‘‘   وہ کہے گی:  ’’  میں   اسلام ہوں  ۔ اے عمر! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو بہتر جزا دے۔ ‘‘   اس کے بعد ندا آئے گی:  ’’  خبردار ! عمربن خطاب سے پہلے کسی کو نامۂ اعمال نہ دیا جائے ،  چنانچہ آپ کو سیدھے ہاتھ میں   نامۂ اعمال دے کر جنت کی طرف روانہ کردیا جائے گا۔ ‘‘   شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ فرمان جنت نشان سن کرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت روئے اور اپنے سارےغلام آزاد کردیئے۔ ‘‘  ([1])

سب سے پہلے حق عمر کو سلام کرے گا:

حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ کل بروز قیامت سب سے پہلے حق عمر فاروق کو سلام کرے گااور ان سے مصافحہ کرے گا اور ب سے پہلے ان ہی کا ہاتھ پکڑ کر ان کو جنت میں   داخل کردے گا۔ ‘‘  ([2])

حق سے مراد یاتو وہ فرشتہ ہے جس کے ذریعے صواب یعنی درست بات کا الہام کیا جاتا ہے یا وہ حق مراد ہے جو باطل کی ضد ہوتاہے۔ حق کا سلام ومصافحہ کرنا ان کے لیے مشورہ وغیرہ میں   ظاہر ہونے سے کنایہ ہے یا یہ مراد ہے کہ کل بروز قیامت اس کو جسم دے دیا جائے گا اور وہ ہاتھ پکڑ کر آپ کو جنت میں   لے جائے گا۔([3])

قیامت والو! فاروقِ اعظم کو پہچان لو:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ روزِ قیامت ندا آئے گی:   ’’  اَیْنَ الْفَارُوْقْ یعنی فاروق کہاں   ہیں  ؟ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو پیش کیا جائے گا۔پھر کہا جائےگا:   ’’ مَرْحَباً بِكَ يَا اَبَا حَفْصٍ هٰذَا كِتَابُكَ اِنْ شِئْتَ فَاقْرَاْهُ وَاِنْ شِئْتَ فَلَا فَقَدْ غُفِرْتَ لَكَیعنی اے ابو حفص! یہ تمہارا اعمال نامہ ہے ،  چاہو تو پڑھو ،  چاہو تو رہنے دو میں   نے تمہیں   بخش دیا گیا ہے۔ ‘‘   اسلام کہے گا :  ’’ يَا رَبِّ هٰذَا عُمَرُ اَعَزَّنِيْ فِيْ دَارِ الدُّنْيَا فَاَعِزْهُ فِيْ عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِیعنی یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ عمر ہیں   ،  جنہوں   نے دنیا میں   مجھے معزز کیا ،  تو انہیں   قیامت کے میدان میں   معزز فرما۔ ‘‘   اس کے ساتھ ہی آپ کو ایک نورانی اُونٹنی پر بٹھا یاجائے گا ،  اور دوایسے جبے پہنادیئے جائیں   گے کہ اگر ان میں   سے ایک بھی دنیا میں   کھول دیاجائے تو اس کی مہک سے سارا جہان معطر ہوجائے  ، آپ کی سواری کے آگے ستر ہزار جھنڈے لہراتے چلے جارہے ہوں   گے۔ پھر آواز آئے گی :  ’’ يٰاَهْلَ الْمَوْقَفِ هٰذَا عُمَرُ فَاعْرِفُوْهُ یعنی یہ عمر ہیں  ۔ قیامت والو! انہیں   پہچان لو۔ ‘‘  ([4])

بارگاہِ رسالت سے عطاکردہ بشارتیں 

فاروقِ اعظم کے لیے بارگاہِ نبوی سے مغفرت کی بشارت:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تکیہ لگائے تشریف فرماتھے۔آپ نے وہ تکیہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دے دیاتوسیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:   ’’ صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوْلُهُ یعنی رَبُّ الْعَالَمِیْن اور رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سچ فرمایا۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ اے ابو عبداللہ ! ہمیں   بھی بتاؤ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا فرمایا۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’ میں   سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایسے ہی تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ حضورسرورِکونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے وہ تکیہ مجھے عطا فرمایا اورارشاد فرمایا:   ’’ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلٰى اَخِيْهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي لَهُ وِسَادَةً اِكْرَامًا لَهُ اِلَّا غَفَرَ اللہُ لَهُیعنی کوئی بھی مسلمان اپنے بھائی کے پاس جائے اوروہ اس کی تکریم کرتے ہوئے اپنا تکیہ اُسے دے دے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مغفرت فرمادیتاہے ۔ ‘‘  ([5])

بارگاہِ رسالت سے جنت کی بشارت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے  ،  کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نےارشاد فرمایا:   ’’ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ



[1]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۰۷۔

[2]    ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضل عمر ،  ج۱ ،  ص۷۶ ،  حدیث: ۱۰۴۔

[3]    حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضل عمر ،  ج۱ ،  ص۷۶ ،  تحت الحدیث: ۱۰۴ ملخصا۔

[4]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۱۸۔

[5]    مستدرک  حاکم ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ  ،  باب تکریم المسلم ۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۷۸۳ ،  حدیث: ۶۶۰۱۔



Total Pages: 349

Go To