Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک چھپر کے نیچے بارگاہِ الٰہی میں   سجدہ ریز ہیں  ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! تم نے بہت اچھا کیا مجھ کو سجدے میں   دیکھ کر تم ایک طرف ہوگئے۔ ابھی جبریل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی امت میں   سے جو شخص آپ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔ ‘‘  ([1])

دنیا ومافیہاسے محبوب:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ہشام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ہم سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پاس بیٹھے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں   پکڑ رکھا تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اِلَّا مِنْ نَفْسِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں  ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:   ’’ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَنہیں   عمر اس رب عَزَّ وَجَلَّکی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے!(تمہاری محبت اس وقت تک کامل نہیں   ہو گی)جب تک میں   تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ وَاللّٰهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ نَفْسِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! خدا کی قسم! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں  ۔  ‘‘  یہ سن کر نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ الْآنَ يَا عُمَرُیعنی اے عمر! اب(تمہاری محبت کامل ہوگئی۔) ([2])

عشق ومحبت کا دوسرا رخ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب تک آپ نے جتنے بھی اقوال وواقعات ملاحظہ کیے وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے عشق ومحبت سے متعلق تھے ،  اب آپ وہ احادیث مبارکہ وواقعات ملاحظہ کیجئے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت والفت سے متعلق ہیں  ۔

احادیثِ فضائلِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بے شمار فضائل ومناقب احادیث مبارکہ میں   بیان ہوئے ہیں  ۔اور سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام  تو بارگاہِ رسالت میں   یہ عرض کرتے ہیں  :   ’’ لَوْ جَلَسْتُ مَعَكَ مِثْلَ مَا جَلَسَ نُوْحٌ فِيْ قَوْمِه مَا بَلَغْتُ فَضَائِلَ عُمَر وَلَيَبْكِيَنَّ الْاِسْلَامُ بَعْدَ مَوْتِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلٰى عُمَر یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھ کر اتناعرصہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان کروں   جتنا حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم میں   (تبلیغ کے لیے)ٹھہرے رہے(یعنی نو سوپچاس سال) تب بھی حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان نہ کرسکوں   اور یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اسلام آپ کے وصال ظاہری کے بعد حضرت عمر کی وفات پر ضرور روئے گا۔ ‘‘   ([3])

بعد صدیق اکبرسب سے افضل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاءورسل بشر و رسل ملائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   ،  ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق ، ان کے بعدحضرت سیِّدُنا عثمان غنی  ،  ان کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا ، ان کے بعد عَشَرَۂ مُبَشَّرہکے بقیہ صحابۂ کرام ،  ان کے بعد باقی اہل بدر ،  ان کے بعد باقی اہل اُحد ،  ان کے بعد باقی اہل بیعت رضوان ،  پھر تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔([4])

صدیق ،  اولیں   ہیں   خلافت کے تاجدار

بعد ان کے عمر وعثمان وحیدر ہیں   بالیقین

اللہ اللہ ان کی عظمت اور شانِ سربلند

انبیاء کے بعد ان کا کوئی بھی ہمسر نہیں 

فاروقِ اعظم بعد صدیق اکبر سب سے افضل:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’ ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ میں   سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شمار کرتےان کے بعدحضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اور ان کے بعد حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو۔ ‘‘  ([5])

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت کے ضمن میں   کئی فضائل بیان ہوچکے ہیں  ۔اب وہ فضائل بیان کیے جاتے ہیں   جو کسی باب کے ضمن میں   بیان نہیں   کیے گئے۔

 



[1]    معجم اوسط ،  بقیۃ ذکرمن اسمہ محمد ،  ج۵ ،  ص۶۸ ،  حدیث: ۶۶۰۲۔

[2]    بخاری  ، کتاب الایمان والنذور ، باب کیف کانت یمین النبی  ، ج۴ ،  ص۲۸۳ ،  حدیث: ۶۶۳۲۔

[3]    اللالی المصنوعۃ ،  ج۱ ،  ص۲۷۸ ،  لسان المیزان ،  حرف الحاء من اسمہ الحبیب ،  ج۲ ،  ص۳۰۸ ،  الرقم:  ۲۲۹۱۔

[4]    منح الروض الازھر ،  ص۳۴۴ ملتقطا ،  بہارشریعت ،  ج۱ ،  حصہ۱ ،  ص۲۴۱۔

[5]    بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب فضل ابی بکر بعد النبی ،  ج۲ ،  ص۵۱۸ ،  حدیث: ۳۶۵۵۔



Total Pages: 349

Go To