Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

لیے نہایت ہی تکلیف دہ تھی۔ جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خاموشی کی اس حالت میں   دیکھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رہا نہ گیا۔تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کا یہ طرز عمل تھا کہ وہ اپنے رؤف رحیم ،  رحمۃ اللعالمین آقا کی رحمت ہی کو طلب کرتے ہیں   اور پیاری پیاری مسکراہٹوں   سے لطف اندوز ہوتے تھے نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے پناہ مانگتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضگی رب کی ناراضگی ہے اور رب کی ناراضگی میں   تو ہلاکت ہی ہے۔

٭…اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گفتگو کے ذریعے دل جوئی کرنا بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت ہے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گفتگو کے ذریعے دِل جوئی کی۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

رسول اللہ کی گستاخی پر غیرت فاروقِ اعظم:

`حضرت سیِّدُنا ابو حمید ساعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ  سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے عمدہ کھجوریں   ادھار لیں  ۔ وہ شخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اپنے حق کا تقاضا کرنے لگا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ آج تو کچھ میسر نہیں   ،  اگر چاہو تو کچھ دن مہلت دو جب بھی کچھ میسر آئے گا ہم تمہارا قرض لوٹا دیں   گے۔ ‘‘  وہ کہنے لگا:   ’’ ہائے دھوکہ! ‘‘  یہ سننا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور آپ کا رنگ متغیر ہوگیا۔آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ دَعْنَا يَا عُمَرُ! فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًایعنی اے عمر! چھوڑ دو کیونکہ حق دار کو بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چند اصحاب کو حضرت سیدتنا خولہ بنت حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس بھیجا تاکہ معلوم کرکے آئیں   کہ ان کے پاس کچھ کھجوریں   وغیرہ ہیں   یا نہیں  ؟ معلوم ہوا کہ ان کے پاس کھجوریں   ہیں   ،  پھر ان کھجوروں   سے قرض کی ادائیگی کردی گئی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقرض لینے والے کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا کہ  ’’ کیاتمہارے قرض کی ادائیگی مکمل ہوگئی ہے؟ ‘‘  عرض کی:   ’’ جی حضور! آپ نے قرض کی ادائیگی کردی ہے اور مجھے تکلیف سے نجات دے دی ہے۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ بے شک اللہعَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ بندے وہی ہیں   جو اپنے قرض کی ادائیگی کرنے والے اور تکلیف سے نجات دینے والے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

رسول اللہ کی بارگاہ کا ادب واحترام

سرکار کی بارگاہ میں   آواز بلند نہ کرتے :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:  (ٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ) (پ۲۶ ،  الحجرات: ۲)ترجمۂ کنزالایمان :   ’’ اے ایمان والو اپنی آوازیں   اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ ‘‘  اس آیت کے نازل ہونے پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کلام کرتے تو اتنی دھیمی آواز سے بات کرتے کہ آپ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی اور پوچھنا پڑھتا تھا کہ کیا کہہ رہے ہیں  ؟ تب   اللہعَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:  ( اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)) (پ۲۶ ،  الحجرات: ۳ )ترجمۂ کنزالایمان:   ’’  بیشک وہ جو اپنی آوازیں   پست کرتے ہیں   رسول اللہ کے پاس وہ ہیں   جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ ‘‘  ([3])

رسول اللہ کی تعظیم اور ادب واحترام:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک بار میں   حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اونٹنی پر شریک سفر تھا۔ بسا اوقات میں   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آگے ہوجاتا تھا تو میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے ڈانٹتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اے عبداللہ ! کسی شخص کو یہ زیب نہیں   دیتا کہ وہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے آگے ہو۔ ‘‘  ([4])

پیارے آقا کے لیے پانی لے کر پیچھے دوڑ پڑے:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوڑ کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تک پہنچ گئے۔کیا دیکھتے ہیں   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    عمدۃ القاری ، کتاب النکاح ،  باب موعظۃ الرجل۔۔۔الخ ،  ج۱۴ ،  ص۱۶۴ ،  تحت الحدیث: ۵۱۹۱ ملتقطا۔

[2]    معجم صغیر  ، باب المیم  ، من اسمہ محمد  ، ج۲ ،  ص۹۸ ،  حدیث: ۱۰۴۲۔

[3]    بخاری  ، کتا ب التفسیر  ، سورۃ الحجرات  ، ج۳ ،  ص۳۳۱ ،  حدیث: ۴۸۴۵ مختصرا۔

[4]    بخاری  ، کتاب الھبۃوفضلھا۔۔۔الخ ،  من اھدی لہ ھدیۃ۔۔۔الخ ، ج۲ ،  ص۱۷۹ ،  حدیث: ۲۶۱۰ مختصرا۔



Total Pages: 349

Go To