Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کہا:   ’’ روتی کیوں   ہو ،  کیا میں   نے تمہیں   ڈرایا نہ تھا؟ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہیں   طلاق دے دی؟ ‘‘  کہنے لگی:   ’’ مجھے معلوم نہیں   ،  مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے مہمان خانے میں   ہم سے جدا ہو کر بیٹھ گئے ہیں  ۔ ‘‘   تو میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حبشی غلام کے پاس آیا اور کہا کہ  ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میرے داخل ہونے کی اجازت مانگو۔ ‘‘   وہ واپس آیا تو کہنے لگا:   ’’ میں   نے آپ کا ذکر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کردیا ہے مگر آپ نے کوئی جواب نہیں   دیا۔ ‘‘   میں   اٹھ کر مسجد نبوی چلا آیا۔ کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  منبر کے قریب افسردہ بیٹھے تھےاور چند صحابہ تو رو بھی رہے تھے۔میں   تھوڑی دیر وہاں   بیٹھا۔پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں   نے غلام کے پاس آکر کہاکہ  ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میرے داخل ہونے کی اجازت مانگو۔ ‘‘   وہ واپس آیا تو کہنے لگا:   ’’ میں   نے آپ کا ذکر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کردیا ہے مگر آپ نے کوئی جواب نہیں   دیا۔ ‘‘   میں   کچھ کہے بغیر خاموشی سے واپس پلٹا تو پیچھے سے غلام نے مجھے آواز دی کہ  ’’ آپ اندر آجائیے! اجازت مل گئی ہے۔ ‘‘  چنانچہ میں   اندر گیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو سلام کیا۔ آپ ایک چٹائی پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر واضح نظر آرہے تھے۔ میں   نے کھڑے کھڑے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیاآپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور فرمایا:   ’’ نہیں  ۔ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ اللہ اکبر۔  ‘‘ 

پھر میں   کھڑے کھڑے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دلجوئی کے لیے عرض گزار ہوا:  ’’ اَسْتَاْنِسُ يَا رَسُولَ اللّٰهِیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   آپ کے ساتھ باتیں   کرکے آپ کو مانوس کرنا چاہتاہوں  ۔ہم قریش جب مکہ مکرمہ میں   تھے تو اپنی عورتوں   پر غالب تھے۔ اوریہاں   مدینہ منورہ میں   آکر ہمارا ایسی قوم سے واسطہ پڑا جن پر عورتیں   غالب ہیں۔ ‘‘  یہ سن کر حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائے۔میں   نے کہا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   حفصہ کے پاس گیا تھا اور اسے کہا:  آپ اپنے ساتھ والی (یعنی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پر کبھی رشک نہ کرناکیونکہ وہ تم سے زیادہ حسین اور شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسندیدہ زوجہ ہے۔ ‘‘  یہ سن کر سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  دوبارہ مسکرادیئے۔ جب میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دوبارہ مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا اور کمرے میں   نگاہ دوڑائی تو سوائے تین چمڑوں  کے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ میں   نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! دعا فرمائیں     اللہعَزَّ وَجَلَّآپ کی امت پر کشادگی کرے ،  فارس اور روم پر   اللہعَزَّ وَجَلَّنے وسعت فرمائی ہے حالانکہ وہ لوگ تو   اللہعَزَّ وَجَلَّکی عبادت بھی نہیں   کرتے۔ ‘‘   یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیدھے ہو کر تشریف فرما ہوگئے۔ پھر فرمایا:  ’’ اے ابن خطاب! یہ وہ قومیں   ہیں   جنہیں   دنیا ہی میں   نعمتیں   دے دی گئی ہیں  ۔آخرت میں   ان کا حصہ نہیں  ۔ ‘‘ 

ایک روایت میں   یوں   ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام سے ایک بار یوں   بھی کہا تھا کہ:  ’’  اے رباح! ( غلام کا نام) میرے لیے اجازت مانگو۔ مجھے گمان ہے کہ شاید رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ سمجھے ہیں   کہ میں   حفصہ کی (حمایت میں  )بات کرنے آیا ہوں  ۔خدا کی قسم! اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حکم فرمائیں   تو میں   اپنی بیٹی حفصہ کی گردن اڑا دوں  ۔ ‘‘  پھر آگے مکمل واقعہ ہے۔([1])

علم وحکمت کے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس طویل حدیث پاک سے علم وحکمت کے بے شمار مدنی پھول چننے کوملتے ہیں   ،  چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں   انہیں   اپنے دل کے مدنی گلدستے میں   سجالیجئے:

٭…حصول علم دین کا حریص ہونا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت ہے۔ اسی لیے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ کے دوست انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باری باری دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں   حاضر ہوتےتھے۔

٭…علم کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنےاور اہل وعیال کی کفالت کا انتظام بھی کرنا چاہیے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ایک دن حصول علم کے لیے جاتے تھے اور ایک دن رزق حلال میں   مشغول رہتے۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ایک دوسرے کو حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے احوال اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث سے مطلع کرتے رہتے تھے ،  جیسے اس انصاری صحابی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو مطلع کیا ۔

٭…اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ والد کا اپنی بیٹی کے گھر اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر داخل ہونا جائز ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لے گئے۔

٭…طالب علم کو چاہیے کہ اپنے استاد سے کھڑے ہو کر سوال کرے کہ اسی میں   علم اور صاحب علم (یعنی استاد) کی تعظیم وادب ہے۔ جیساکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کھڑے کھڑے رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے استفسار فرمایا۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اپنے محبوب آقا ،  مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میٹھی میٹھی باتیں   سننے کے شیدائی تھے اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاموشی ان کے



[1]    بخاری ، کتاب النکاح  ، باب موعظۃ الرجل ابنتہ لحال زوجھا  ، ج۳ ،  ص۴۶۰ ،  حدیث: ۵۱۹۱ ملتقطا۔

مسلم  ، کتاب الطلاق  ، باب فی الایلاء   واعتزال النساء ، ص۷۸۵ ،  حدیث: ۳۰۔



Total Pages: 349

Go To