Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آستین کاٹنے کے بعد کُرتے کی حالت یہ تھی کہ اس سے بعض دھاگے باہر نکل نکل کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قدموں   کے بوسے لیتے رہتے تھے۔([1])

فاروقِ اعظم اور رسول اللہ وخلیفۂ رسول اللہ کی اتباع:

حضرت سیِّدُنا ابو وائل شقیق بن سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   ایک کرسی پر سیِّدُنا شیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کعبۃ اللہ شریف میں   بیٹھا ہوا تھا ،  تو شبیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہنے لگےکہ اسی جگہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمانے لگے:   ’’ میرا رادہ ہے کہ کعبے میں   موجود رہم ودینار ،  مال وزر تقسیم کردوں  ۔ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’ حضور! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دونوں   دوست (یعنی نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) تو ایسا نہیں   کرتے تھے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ وہ  دونوں   شخصیتیں   ہیں   ہی ایسی کہ جن کی پیروی کرنی چاہیے۔ (یعنی میں   ان دونوں   کی اتباع میں   اب یہ مال تقسیم نہیں   کروں   گا۔) ([2])

بعض روایات میں   یہ الفاظ ہیں   کہ فرمایا:  ’’  میں   یہاں   سے اس وقت تک نہیں   جائوں   گا جب تک غریب مسلمانوں   میں   کعبۃاللہ شریف کا سارا مال تقسیم نہ کردوں  ۔ ‘‘  میں   نے کہا:  ’’  آپ ایسا نہیں   کرسکتے۔ ‘‘   فرمایا:  ’’  کیوں  ؟ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’  اس لیے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا مقام سب نے دیکھ لیا ہے اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمل بھی کسی سے مخفی نہیں   ،  وہ مال کی حاجت بھی رکھتے تھے پھر بھی یہ مال انہوں   نے تقسیم نہیں   کیا۔ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاٹھے اور حرم شریف سے باہر نکل گئے۔ ‘‘  (یعنی آپ نے مال تقسیم کرنے کا ارادہ ترک فرمادیا۔) ([3])

فاروقِ اعظم کی رسول اللہ سے والہانہ محبت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں   کہ مجھے اس بات کی خواہش تھی کہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے معلوم کروں   کہ یہ آیت مبارکہ کن دو ازواج مطہرات کے بارے میں   نازل ہوئی ہے:  (اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ-)  (پ۲۸ ،  التحریم: ۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ نبی کی دونوں   بیبیو اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں  ۔ ‘‘   حتی کہ میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ حج کیا ،  پھر ہم ایک راستے پر جارہے تھے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قضائے حاجت کے لیے ایک طرف ہوگئے۔ جب فارغ ہوکر تشریف لائے تو میں   نے برتن لے کر آپ کو وضو کروایا۔ پھر میں   نے آپ سے وہی بات پوچھ لی کہ یہ آیت مبارکہ کن دو ازواج مطہرات کے بارے میں   نازل ہوئی ہے۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عبد اللہ بن عباس! بڑے تعجب کی بات ہے اب تک تمہیں   معلوم نہیں   کہ یہ آیت کن دوازواج کے بارے میں   نازل ہوئی ہے؟ ‘‘   پھر فرمایا:  ’’ حفصہ اورعائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے بارے میں  ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس واقعے کو تفصیلاً بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

میں   اور میرے ایک پڑوسی انصاری صحابی (حضرت سیِّدُنا عتبان بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)ہم دونوں   محلۂ بنوامیہ بن زید میں   رہتے تھے اور دونوں   کا یہ معمول تھا کہ ایک دن میں   بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوتا اور دوسرے دن وہ۔ میں   جو بھی بارگاہِ رسالت سے علم حاصل کرتا وحی ہوتی یاکوئی بھی بات ہوتی تو میں   انہیں   بتادیتااسی طرح وہ مجھے بتا دیتے۔ ہم قریش جب مکہ مکرمہ میں   تھے تو اپنی عورتوں   پر غالب تھے۔ اوریہاں   مدینہ منورہ میں   آکر ہمارا ایسی قوم سے واسطہ پڑا جن پر عورتیں   غالب ہیں  ۔ان سے ہماری عورتوں   نے بھی خود سری سیکھ لی ہے۔ میں   ایک دن اپنی زوجہ پر کسی بات کے سبب غصے ہو رہا تھاتو وہ آگے سے تکرار کرنے لگی۔ میں   نے کہا:   ’’ یہ عادت تمہیں   کہاں   سے پڑ گئی؟ ‘‘   وہ کہنے لگی:   ’’ میری تکرار آپ کو بُری لگتی ہے۔ خدا کی قسم ! دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اَزواج مطہرات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے تکرار کرلیتی ہیں   اور پورا پورا دن آپس میں   بات نہیں   ہوتی۔ ‘‘  یہ سن کر میں   اپنی بیٹی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زوجہ (حضرت سیدتنا)حفصہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے پاس آیا اور انہیں   کہا:   ’’ کیا یہ سچ ہے کہ تم ازواج میں   سے اگر کوئی نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے تکرار کرلیتی ہے تو دن بھر آپ سے کلام نہیں   کرتی؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ تم نامراد ہوئیں   اور خسارے میں   ہو۔کیا تمہیں   اس بات کی کوئی فکر نہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ناراض کرنے سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی ناراض ہوجائے گا اور پھر صرف ہلاکت ہی ہوگی۔ اے بیٹی ! تم کبھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تکرار نہ کرنا ،  آپ سے کوئی چیز مت مانگنا ،  جو حاجت ہو مجھے بتانا میں   پوری کردوں   گا ،  اور اپنے ساتھ والی (یعنی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پر کبھی رشک نہ کرناکیونکہ وہ تم سے زیادہ حسین اور خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسندیدہ زوجہ ہیں  ۔ ‘‘ 

اُن دِنوں   ہم آپس میں   یہ باتیں   کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ ہم پرحملے کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں   کو تیار کررہا ہے۔ایک رات میرا وہی دوست میرے گھر آیا اور دروازے پر بہت زور سے دستک دینے لگاساتھ ہی مجھے آوازیں   بھی دینے لگا۔میں   حیران ہوکر باہر آیا اور اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے کہا:  ’’  ایک بہت بڑا حادثہ رو نما ہو گیا ہے۔ ‘‘ 

میں   نے پوچھا :  ’’ کیا ہوا؟ کیا غسان نے حملہ کردیا ہے؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’ نہیں   بلکہ اس سے بھی ہولناک رو پیش آیاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ حفصہ برباد اور نامراد ہوگئی ،  مجھے یہی کچھ ہوجانے کا خدشہ تھا۔ ‘‘   چنانچہ میں   حفصہ کے پاس آیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں  نے



[1]    مستدرک حاکم ،  کتاب اللباس ،  کان نبی اللہ۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۲۷۵ ،  حدیث: ۷۴۹۸۔

[2]    بخاری  ، کتاب الحج ، باب کسوۃ الکعبۃ ،  ج۱ ،  ص ۵۳۶ ،  حدیث:  ۱۵۹۴۔

                                                عمدۃ القاری ،  کتاب الحج ،  باب کسوۃ الکعبۃ ،  ج۷ ،  ص۱۶۰ ،  تحت الحدیث: ۱۵۹۴۔

[3]    ابن ماجہ  ، کتاب المناسک  ، باب مال الکعبۃ ، ج۳ ،  ص۵۲۲ ،  حدیث: ۳۱۱۶۔



Total Pages: 349

Go To