Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کو زندہ کرتے ہوئے اپنے ناموں   کے ساتھ کنیت رکھتے ہیں  ۔ کنیت عموماً بیٹے یا بیٹی وغیرہ کے نام پر رکھی جاتی ہے ،  بعض لوگ کسی خاص وصف کے ساتھ بھی کنیت رکھتے ہیں  ۔ البتہ کئی لوگوں   کی کنیت ان دونوں   سے مختلف ہوتی ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت بھی اسی قبیل سے ہے یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت آپ کی اولاد میں   سے کسی بیٹے یا بیٹی وغیرہ کے نام پر نہیں   ہے اور نہ ہی کسی خاص وصف کی وجہ سے ہے ، بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ کنیت بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ ،

فاروقِ اعظم کو بارگاہِ رسالت سے کنیت عطا ہوئی:

(1)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہدو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بدر کے دن اعلان فرمایا کہ تم میں   سے جو کوئی عباس سے ملے تو اُن سے اعراض کرے کیونکہ انہیں   ہم سے جنگ کرنے کے لیے زبردستی لایا گیا ہے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سنا تو فرط جذبات سے کہنے لگےکہ  ’’ ہم اپنے آباء ،  بھائیوں   اور رشتہ داروں   کو تو قتل کریں   اور عباس کو چھوڑ دیں  ہم ضرور اسے قتل کریں   گے۔ ‘‘  رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک جب یہ بات پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:   ’’ یَا اَبَا حَفْصٍ! یُضْرَبُ وَجْهُ عَمِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ بِالسَّیْفِ؟ یعنی اے ابو حفص!کیا رسول اللہ کے چچا پر تلواراٹھائی جائے گی؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جلال میں   ارشاد فرمایا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے حکم ارشاد فرمائیے میں   ابو حذیفہ کی گردن اڑادوں   گا۔ ‘‘  بہرحال بعد میں   حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس بات پر بہت شرمندہ ہوئے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھےکہ  ’’ بدر کے دن جو بات میں   نے کی تھی اس کے سبب میں   خوف زدہ رہتا ہوں   اور خواہش کرتا ہوں   کہ کاش! مجھے شہادت نصیب ہوجائے اور میری شہادت اس بات کا کفارہ ہوجائے ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جنگِ یمامہ میں   شہید ہو گئے۔

جنگِ بدر کے دن حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اسی کنیت  ’’ ابو حفص  ‘‘   کے ساتھ پکارااور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّہُ لَاَوَّلُ یَوْمٍ كَنَّانِیْ فِيْهِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ بِاَبِیْ حَفْصٍ یعنی یہ وہ پہلا دن تھا جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمحبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خود مجھے ابو حفص کنیت عطا فرمائی۔ ‘‘  ([1])

(2)…حضرت سیِّدُنا زید بن ابی اوفی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار مسجد نبوی میں   نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:   ’’ قَدْ كُنْتَ شَدِیْدَ الشَّغْبِ عَلَیْنَا اَبَا حَفْصٍ فَدَعَوْتُ اللہَ اَنْ یُّعِزَّ الدِّیْنَ بِكَ اَوْ بِاَبِیْ جَھْلٍ فَفَعَلَ اللہُ ذٰلِكَ بِكَ یعنی اے ابو حفص! اسلام لانے سے قبل تم ہم پر بہت سخت تھے  ،  پھر میں   نے رب عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کی کہ وہ تمہارے ذریعے یا ابو جہل کے ذریعے دین کو عزت عطافرمائے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے ذریعے دین کو عزت عطا فرمائی۔  ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی کنیت بامسمی ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عربی زبان میں    ’’ حفص ‘‘  شیر کے بچے کو کہتے ہیں   ،  اسی لیے شیر کی کنیت  ’’ ابو حفص ‘‘   ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی چونکہ اسلام کے شیر ہیں   اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبولِ اسلام سے لے کر وصالِ ظاہری تک جتنا فائدہ آپ کی ذات سے اِسلام کو ہوا اِتنا کسی اور خلیفہ یا حاکم سے نہ ہوا اِس وجہ سے آپ کی یہ کنیت آپ پر کلیۃ ً صادق آتی ہےاور آپ کو  ’’ ابو حفص ‘‘   کہا جاتاہے۔([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم  کے القابات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’ القابات ‘‘  جمع ہے  ’’ لقب ‘‘   کی ۔لقب سے مراد وہ نام ہے جو عوام میں   کسی خاص وصف کے باعث مشہور ہو جائے  ، نیز لقب اصل نام کے علاوہ وہ نام ہوتا ہے کہ جس میں   کسی خوبی یا کسی خامی کا پہلو نکلے۔قرآن پاک میں   برے القابات وناموں   سے پکارنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-)  (پ۲۶ ،   الحجرات: ۱۱) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔ ‘‘ 

صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں   فرماتے ہیں  :

 ’’ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سور کہنا بھی اسی میں   داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں   جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچّے ہوں   ممنوع نہیں   جیسے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر کا لقب  ’’ عتیق ‘‘   اور حضرت سیِّدُنا عمرکا  ’’ فاروق ‘‘   اور حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی کا  ’’ ذوالنورین ‘‘   اور حضرت سیِّدُنا علی کا  ’’ ابوتراب ‘‘   اور حضرت سیِّدُنا خالد کا  ’’ سیف اللہ ‘‘  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور جو القاب بمنزلۂِ عَلم ہوگئے (یعنی نام کی جگہ لے لی) اور صاحبِ القاب کو ناگوار نہیں   وہ القاب بھی ممنوع نہیں   جیسے کہ اعمش  ،  اعرج ۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھی کئی القابات ہیں  ۔بعض القابات تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے عطا ہوئے اور کئی ایسے القابات ہیں   جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کی مخصوص صفات کی عکاسی کرتے ہیں  ۔  ’’ فاروقِ اعظم  ‘‘  کے نو حروف کی نسبت سے



[1]     مستدرک  حاکم ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  ذکر مناقب ابی حذیفہ ،  ج۴ ،  ص۲۳۹ ،  حدیث: ۵۰۴۲ ۔

[2]     معجم کبیر ،   زید بن ابی اوفی اسلمی ،  ج۵ ،  ص۲۲۰ ،  حدیث: ۵۱۴۶۔

[3]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الثانی ،  ص۱۴۔



Total Pages: 349

Go To