Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیوار کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:  ’’  اس دیوار کے پیچھے مجھے جنت ودوزخ دکھائی گئی ہے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کی تصدیق

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ،  تاجدارِ رسالت ،  شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک رات مکہ مکرمہ میں   کھڑے ہو کر تین مرتبہ ارشاد فرمایا :  ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! کیا میں   نے تیرا پیغام نہيں   پہنچادیا ؟ ‘‘   تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوگئے چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبے حد درد مند تھے لہٰذا عرض کی :   ’’ جی ہاں  ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   کی رغبت دلائی ،  اس معاملہ میں   خوب کوشش کی اور خیرخواہی سے کام لیا۔ ‘‘   توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ ایمان ضرور غالب آئے گا یہاں   تک کہ کفر اپنی جگہوں   کی طرف لوٹ جائے گا اور سمندر اسلام سے بھر جائیں   گے اور لوگوں   پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں   وہ قرآن پاک سیکھیں   گے اور اس کی قراء ت کریں   گے ،  پھر کہیں   گے ہم نے قرآن پاک پڑھا اور دوسروں   کو سکھا یا تو ہم سے بہتر کون ہے؟ کیا ان لوگوں   میں   کوئی بھلائی ہے؟ ‘‘  ([2])

رسول اللہ کی تصدیق اور فاروقِ اعظم

عمر نے سچ کہا:

امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک دن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ،  بی بی آمنہ کے پھول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابوبکر! باہر جاکر لوگوں   میں   یہ اعلان کردو کہ جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں   تو اس پر جنت واجب ہوگئی۔ ‘‘  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ جیسے ہی میں   باہر نکلا تو راستے میں   میری ملاقات حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوگئی۔انہوں   نے مجھ سے استفسار کیا تو میں   نے انہیں   بتادیا کہ میں   اس بات کا اعلان کرنے جارہاہوں  ۔یہ سن کر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:   ’’ آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   دوبارہ جائیے اور عرض کیجئے کہ لوگوں   کو عمل کرنے دیں   کیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ اس پر تکیہ نہ کربیٹھیں  ۔ ‘‘   سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوکر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  والی ساری بات عرض کردی تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ صَدَقَ عُمَرُ یعنی عمر نے سچ کہا۔ ‘‘   پھر میں   رک گیا۔([3])

فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کی اطاعت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات مبارکہ سے حقیقی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جاسکتاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اتباع کا جذبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نس نس میں   بسا ہوا تھا۔ اور کیوں   نہ ہوتا کہ خود رب عَزَّ وَجَلَّ نے بھی اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار ارشاد فرمایا۔ چنانچہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:  (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)) (پ۳ ،  آل عمران: ۳۱) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں   دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے  ۔ ‘‘ 

کسی سے کوئی چیز نہ لو:

محبوبِ رَبُّ العزت ،  محسنِ انسانیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سيدناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو کوئی چيز بھيجی تو انہوں   نے اسے لوٹا ديا۔ ‘‘   توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے استفسار فرمایا:   ’’ اے عمر!تم نے وہ چيز کيوں   لوٹا دی؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:   ’’ کيا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہميں   نہيں   بتايا کہ آدمی کی بھلائی اسی ميں   ہےکہ وہ کسی سےکوئی چيز نہ لے؟ ‘‘   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمايا:   ’’ یہ حکم تو سوال کرنےکی صورت ميں   ہے اور جو چيز سوال کے بغير حاصل ہو وہ تو رزق ہے جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے عطا فرمايا ہے۔ ‘‘   تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:   ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں   ميری جان ہے! ميں   کسی سےکوئی شئے نہ مانگوں   گا اور جو چيز سوال کئے بغير ميرے پاس آئے گی اسے لے ليا کروں   گا۔ ‘‘  ([4])

رسول اللہ کی اتباع وپیروی:  

حضرت سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک بار میں   حضرت سیِّدُنا شرحبیل بن سمط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ سترہ یا اٹھارہ میل دورعلاقۂ ’’ حِمْص ‘‘   کے  ’’ دُوْمِیْن ‘‘   نامی ایک گاؤں   کے پاس گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں   دو رکعت نماز ادا کی۔ میں   نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں   نے کہا:  ’’ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو مقام  ’’ ذوالحلیفہ  ‘‘  میں   اسی طرح دو رکعت نماز ادا کی۔ میں   نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں   نے ارشاد فرمایا:  ’’ اِنَّمَا اَفْعَلُ كَمَا رَاَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ



[1]     مسند ابی یعلی ،  ابوسفیان عن انس ،  ج۳ ،  ص۲۹۸ ،  حدیث: ۳۶۷۸۔

[2]     معجم کبیر ، ھند بنت الحارث۔۔۔الخ ، ج۱۲ ،  ص۱۹۴ ،  حدیث: ۱۳۰۱۹۔

[3]     جمع الجوامع ،  ج۱۰ ،  ص۱۱ ،  حدیث: ۲۱۔

[4]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب البیوع و الاقضیۃ ، فی الرجل یھدی الی۔۔۔الخ ، ج۵ ، ص۲۳۱ ، حدیث: ۶۔کنز العمال ، کتاب الزکاۃ ، فصل فی آداب الاخذ ۔۔۔الخ  ، الجزء : ۶  ، ج۳ ،  ص۲۶۹ ،  حدیث: ۱۷۱۴۷۔



Total Pages: 349

Go To