Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کاایک تکیہ تھاجس میں   کھجورکی چھال بھری ہوئی تھی ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس قدموں   کی طرف  ’’ سلم  ‘‘  درخت کے پتوں   کاڈھیرلگا ہوا تھا اورسرِاقدس کے پاس چمڑا لٹک رہا تھا۔میں   نے دیکھاکہ اُمت کے غمخوارآقا ،  دوعالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلوپرچٹا ئی کے نشان ثبت ہو گئے تھے ۔یہ دیکھ کرمیں   رونے لگا۔ ‘‘  نورکے پیکر ، تمام نبیوں   کے سَرْوَر ، دو جہاں   کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر!کیوں   روتے ہو؟ ‘‘  میں   نےعرض کی:  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!قیصروکسرٰی دنیا کی آسائشوں   اورنعمتوں   میں   ہیں   جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں  ؟ ‘‘  توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ اے عمر! کیا تم اس پرراضی نہیں   کہ اُن کے لئے دنیاکی عارضی نعمتیں   ہوں   اور تمہارے لئے آخرت کی ابدی راحتیں  ؟ ‘‘   ([1])

رسول اللہ کا ذکر کرتے تو رونے لگ جاتے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ذکر کرتے تو عشق رسول سے بے تاب ہو کر رونے لگتے اور فرماتے:   ’’ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو لوگوں   میں   سب سے زیادہ رحم دل اور یتیم کے لیے والد کی طرح ،  بیوہ عورت کے لیے شفیق گھروالےکی طرح اور لوگوں   میں   دلی طور پرسب سے زیادہ بہادر تھے ،  وہ تو نکھرے نکھرے چہرے والے ،  مہکتی خوشبو والے اور حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ مکرم تھے ،  اولین وآخرین میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مثل کوئی نہیں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا عقیدۂ محبت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ محبت کے کیا کہنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تو بلا تکلف تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے اپنے آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بندہ یعنی غلام اور خدمت گار فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب منصب خلافت پر فائز ہوئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے برسر منبر فرمایا:   ’’ کُنْتُ مَعْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ عَبْدَہُ وَخَادِمَہُ یعنی میں   حضور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت بابرکت سے فیض یافتہ رہا ہوں   پس میں   حضور کا بندہ (غلام) اور خدمت گار رہا ہوں  ۔ ‘‘  ([3])

ہم کوتووہ پسند جسے آئے تو پسند

جوچیز رسول اللہ کو پسند نہیں   مجھے بھی پسند نہیں   :

            حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   دیباج سے بنا ہوا قبا ( چُوغہ) پیش کیا گیا  ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے ایک بار پہنا اور پھر اتار کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیج دیا اور ارشاد فرمایا کہ:   ’’ مجھے جبریل امین نے اس کے پہننے سے منع کردیا ہے۔ ‘‘  یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ كَرِهْتَ اَمْرًا وَاَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو چیز آپ نے ناپسند فرمائی وہ مجھے عطا فرمادی ،  جو چیز آپ ہی کو ناپسند ہے میں   اس کا کیا کروں  ؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’ اے عمر! میں   نے تمہیں   پہننے کے لیے نہیں   بلکہ بیچنے کے لیے دیا ہے۔ ‘‘   چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے دو ہزار درہم میں   بیچ دیا۔ ([4])

فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کی ناراضگی کا خوف

رسول اللہ کے غضب سے خدا کی پناہ:

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضور سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی:   ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ تورات کانسخہ ہے۔ ‘‘   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے پڑھنا شروع کردیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرہ مبارک شدتِ جلال کی و جہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہا تھا لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی خبر نہ تھی کہ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں   روئیں  ! تم تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ انورکی حالت نہیں   دیکھ رہے۔ ‘‘  تب حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کو دیکھا اور فوراً کہا:   ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَضِیْنَابِاللّٰہِ رَبّاً وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَبِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے خدا کی پناہ! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔ ‘‘   سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت



[1]     مسلم ، کتاب الطلاق ، باب فی الایلاء...الخ ، ص۷۸۶ ،  حدیث: ۳۱۔

[2]     جمع الجوامع ،  ج۱۰ ،  ص۱۶ ،  حدیث: ۳۳۔

[3]     مستدرک حاکم ،  کتاب العلم ، خطبۃ عمر بعد ماولی۔۔۔الخ ، ج۱ ، ص۳۳۲ ، حدیث: ۴۴۵ملتقطا۔

[4]     مسلم  ، کتاب اللباس والزینۃ  ، تحریم استعمال اناء الذھب ۔۔۔الخ ، ص۱۱۴۹ ،  حدیث: ۱۶۔



Total Pages: 349

Go To