Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

الرِّضْوَان  کو یقین ہوچکاہے کہ حضور نبی ٔ رحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعی دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں   ،  لیکن ایک عاشق ایسا بھی تھا جس کے عشق اور عقل میں   مناظرہ جاری تھا ،  عقل اس بات پر مصر تھی کہ محبوب واقعی تشریف لے جاچکے ہیں   ،  عشق پکار پکار کر کہہ رہا تھایہ نہیں   ہوسکتا ،  یہ نہیں   ہوسکتا۔ بالآخر عشق کے دلائل کا عقل پر غلبہ ہواتو تلوار نکال لی اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے درمیان جا کر اپنے عشق کا فیصلہ سنا دیا کہ اگر کسی نے بھی یہ کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وصال فرماگئے ہیں   تو اس کی گردن اڑادوں   گا۔یہ کیسا عاشق ہے جو اپنی آنکھوں   کے مشاہدے کوبھی عشق کے ترازو میں   تول رہا ہے؟ یہ کیسا عاشق ہے جو عقل کے دلائل کو عشق کے دلائل سے مات دے رہاہے؟ یہ عاشق صادق کون ہے؟یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یہ وہی عاشق ہیں   جن کے اسلام کی دعا خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کی ،  پوری کائنات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مرید ہے  ،  مگر یہ وہی عاشق ہیں   جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرید ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی مراد بھی ہیں   ،  یہ وہی عاشق ہیں   جنہیں   رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مانگا۔ جی ہاں  ! اس عاشقِ صادق کو اسی کامل عشق کے طفیل دنیا میں   اختیار و اقتدار اور آخرت میں   عزت و وقار ملا۔ یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق کا کمال تھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی اور کٹھن سے کٹھن وقت میں   بھی اتباع رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے انحراف گوارا نہ تھا۔ وہ ہر مرحلے میں   اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نقش پا ڈھونڈتے اور اُسی کو مشعلِ راہ بناکر فاتح وکامراں  رہتے۔گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنا مقصدِ حیات اِس بات کو بنا لیا تھا کہ :

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں   چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں 

محمد کی محبت دین حق کی شرطِ اوّل ہے

اِسی میں   ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق کی محفل میں   شریک ہوں    ، فتح و ظفر جن کے قدم چومتی تھی ،  عشق رسول جن کی متاع زندگی ،  اتباع رسول جن کا سرمایۂ حیات ،  اور جہاں   بانی جن کی تقدیر بن چکی تھی۔ ہم دیکھیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی ذات سے اُن کا کیسا والہانہ تعلق تھا۔ اگرہم اپنی نگاہ بصیرت تیز کریں   اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشقِ رسول کے واقعات میں   ان کی چلتی پھرتی زندگی دیکھیں   ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدس میں   اُن کی مقدس و باعظمت اَداؤں   کا مشاہدہ کریں   ،  چشمِ تصور سے لوحِ دل پر اُن کے پاکیز ہ عشق کا نقشہ اتاریں   ،  تو ہوسکتاہے اُن کا کچھ فیضانِ عشق ہمارے اوپر بھی جلوہ بارہو ،  عشق فاروقِ اعظم کی حیرت انگیز تاثیر ہمارے قافلۂ حیات کو بھی علم و ہنر ،  جہد و عمل اور فلاح و ظفر سے آشنا کر دے ۔ آئیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشقِ رسول سے بھرے ہوئے دولت خانے کے روشن دروازوں  کو کھولتے ہیں   ،  جس دروازے کوبھی کھولا جائے اس سے ایک ایسی نایاب خوشبو آتی ہے جو مشام جاں   کو معطر ومنور کردیتی ہے۔اے کاش! رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے ہمیں   بھی عشقِ فاروقِ اعظم کا ایک قطرہ نصیب ہوجائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

واضح رہے کہ محبت کا یہ تقاضا ہے کہ جس سے محبت کی جائے پھر فقط اس کی ذات ہی تک محبت کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کی آل اولاد ،  اس کے گھروالوں   ،  اس کے دوستوں   ،  عزیزواقرباء الغرض جو چیز اس سے منسوب ہوجائے اس سے بھی محبت کی جائے۔نیز محبت میں   اگر اس کا دوسرا رخ بھی شامل ہو جائے تو یہ دو طرفہ محبت مزید طاقتور ہوجاتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ محبت کے اسی درجہ پر فائز تھے کہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نہ صرف ذات مبارکہ بلکہ آپ سے منسوب ہر چیزسے محبت کرتے تھے۔نیز آپ کی محبت میں   دوسرا رخ بھی شامل تھا کہ جہاں   آپ کو دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے عشق حقیقی تھا وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بے حد پیار ومحبت فرمایا کرتے تھے ،  اسی طرح جہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی آل ،  اولاد ،  ازواج ،  عزیزواقرباء ودیگر لوگوں   سے محبت فرماتے تھے تو وہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے والہانہ محبت کرتے تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے  ’’ عشق رسول ‘‘   کے باب کو چند حصوں  میں   تقسیم کیا گیا ہے ، پھر ہر حصے میں   متعلقہ محبت کے دوسرے رخ کو بھی بطریق احسن بیان کیا گیاہے۔ تفصیل کچھ یوں   ہے:

(1)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ سے محبت۔

(2)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت سے محبت۔

(3)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات سے محبت۔

(4)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب سے محبت۔

 

(5)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلقات سے محبت۔

 رسول اللہ کی ذات سے محبت

فاروقِ اعظم کی عشق رسول میں   گریہ وزاری:

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک طویل حدیث مروی ہے  ،  جس کا کچھ مضمون یوں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشادفرماتے ہیں  :  ’’ مالکِ کون ومکان ، مکی مدنی سلطان  ،  رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسی چٹائی پرآرام فرما رہے تھے جس پرکچھ نہ بچھا ہوا تھا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک سر کے نیچے چمڑے



Total Pages: 349

Go To