Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  ۔(سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے غلام)

٭…حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب ۔

٭…حضرت سیِّدُنا رُفَیْل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ۔

٭…حضرت سیِّدُنا ھُرْمُزَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان ۔([1])

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور ان سب کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

ساتواں باب ۔۔۔حصہ اول

فاروقِ اعظم کا عشق رسول

(رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذاتِ مبارکہ سے محبت)

اس باب میں ملا حظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا عقیدۂ محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی نارضگی کا خوف

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی تصدیق

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تصدیق  اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی اطاعت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی آیڈیل شخصیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ رسالت کا ادب و احترام

احادیث فضائل فاروقِ اعظم  ،  بعد صدیق اکبر سب سے افضل

فضائل فاروق اعظم بزبان سروردو عالم  ،  سیِّدُنا فاروق اعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   ’’  محدَّث ‘‘   ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی اُخروی  شان  ،  بارگاہ ِ رسالت سے عطا کردہ بشارتیں ،

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فتنوں کو روکنے کا تالااور دروازہ ہیں  ،  آپ جہنم سے بچانے والے ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  پر ربّ کا خصوصی کرم ،  آپ کی نارضگی ربّ کی ناراضگی

٭…٭…٭…٭…٭…٭

فاروقِ اعظم کا عشقِ رسول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان میں   والدین  ،  اولاد ، بھائی بہن ،  زوجہ ،  خاندان  ،  مال  ،  تجارت اور مکان وغیرہ ان تمام چیزوں   سے محبت فطری چیز ہے۔ لیکن رب تعالیٰ اپنے بندوں   کو آگاہ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر ان تمام چیزوں   کی محبت میری اور میرے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے بڑھ جائے تو گویا تم خطرے کی حد میں   داخل ہوچکےا ور بہت جلد تمہیں   میراغضب اپنی لپیٹ میں   لے لے گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک مومن کے لئے حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نہ صرف فرض ہے بلکہ سب سے قریبی رشتہ داروں   اور سب سے قیمتی متاع پر مقدم ہے۔ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’   لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنیعنی تم میں   کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں   ہوسکتا جب تک کہ میں   اس کے نزدیک اس کے والدین ،  اولاد اور تمام لوگوں   سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں  ۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبت جب حد سے بڑھ جائے تو عشق کا رنگ اختیار کرلیتی ہے ، عشق کی تاثیر بڑی حیرت انگیز ہے۔عشق نے بڑی بڑی مشکلات میں   عقل انسانی کی رہنمائی کی ہے۔ عشق نے بہت سی لاعلاج بیماریوں   کا کامیاب علاج کیا ہے۔ عشق کے کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں  ۔دیکھیے! مدینۂ منورہ کا پر آشوب ماحول ہے ،  نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوچکا ہے ،  ماحول سوگوار ہے ،  ہر آنکھ اشکبار ہے ،  کیونکہ جانِ کائنات ربِّ کائنات کے لقاء کاسفر اختیار کرچکی ہے ،  تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ



[1]     فتوح الشام ،  ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس ،  ج۱ ،  ص۲۳۵۔الاصابۃ ،  الرفیل ،  ج۲ ،  ص۴۲۸ ،  الرقم:  ۲۷۴۷۔الاصابۃ ،  الھرمزان الفارسی ،  ج۶ ،  ص۴۴۸ ،  الرقم:  ۹۰۶۶۔

[2]     بخاری ، کتاب الایمان  ،  باب حب الرسول ۔۔۔الخ ، ج۱ ،  ص۱۷ ،  حدیث: ۱۵۔



Total Pages: 349

Go To