Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہمیں    ’’ مومنین  ‘‘  کا نام نہ دیا گیا تھا اور جیسے ہی آپ نے اسلام قبول فرمایا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں    ’’ مومنین ‘‘   کا معزز نام عطا فرمادیا۔([1])

(6).....کفار کی قوت ٹوٹ گئی:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمشرف با اسلام ہوئے تو مشرکین نے غمزدہ ہو کر کہا:   ’’ آج ہم آدھے ہوگئے ۔ ‘‘  ([2])

(7).....مسلمانوں   کی قوت میں   اضافہ ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مسلمان ہوجانے کے بعد ہم کفار کا بھرپور مقابلہ کیا کرتے تھے۔([3])

فاروقِ اعظم کا راہ خدامیں   تکلیفیں   سہنے کاجذبہ:

حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود ارشاد فرمایا:  ’’  میں   جب بھی کسی مسلمان کو راہ خدا میں   تکالیف سہتے ہوئے تو دیکھتا تو کہتا:  یہ کیا بات ہوئی کہ دیگر مسلمان تو راہ خدا میں   تکلیفیں   سہیں   ،  ان پر باتیں   کسی جائیں   اور میں   اس سعادت سے محروم رہوں۔ ‘‘  ([4])

دعا حضرت نے کی جن کے اسلام لانے کی

ظہور دیں   کے وہ پہلے نشاں   فاروقِ اعظم تھے

مسلمان کیا فرشتے بھی خوش ہوئے جن کے اسلام لانے پر

وہ حق کی شان غیظ دشمناں   فاروقِ اعظم تھے

پڑھی جانے لگیں   ساری نمازیں   خانہ حق میں 

مسلمانوں   کی اس شوکت کی جاں   فاروقِ اعظم تھے

اِسلام بروزقیامت فاروقِ اعظم سے مصافحہ کرے گا:

حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ کل بروز قیامت اسلام آئے گا تو خلق خدا غور سے اسے دیکھے گی یہاں   تک کہ وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پہنچے گا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑ کر عرش کے درمیانی حصے پر چڑھے گا ،  پھر بارگاہِ خداوندی میں   یوں   عرض کرے گا:   ’’ اِیْ رَبِّ! اِنِّیْ کُنْتُ خَفِیًّا وَاَھَانَ وَھٰذَا اَظْھَرَنِیْ فَکَافَئَہُ یعنی اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! میں   بالکل چھپا ہوا تھا اور کفار میری توہین کرتے تھے لیکن اس شخص نے مجھے بالکل ظاہر کردیا اور کفار کا مقابلہ کیا۔ ‘‘   یہ سن کر رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے فرشتے حاضر ہوں   گے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں   جنت میں   داخل کردیں   گے حالانکہ اس وقت لوگ اپنے حساب کتاب میں   مشغول ہوں   گے۔([5])

آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر قبول اسلام کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں  : (۱) وہ لوگ جنہوں   نے عہدِ رسالت و عہدِ صدیقی میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔(۲) وہ جنہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے دورِ خلافت میں   قبولِ اسلام کیا۔یقیناً دوسری قسم کے لوگوں   کی تعداد پہلی قسم سے بہت زیادہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   بلامبالغہ لاکھوں   لوگوں   نے قبولِ اسلام کیا۔ البتہ کتب احادیث وسیر وتواریخ میں   دونوں   اَقسام کے مسلمانوں   کا بہت ہی کم تذکرہ ملتا ہے۔چند ایسے مسلمانوں   کے اسمائے مبارکہ پیش خدمت ہیں   جن کا تفصیلی تذکرہ اسماء الرجال کی کتب میں   موجود ہے:

٭…حضرت سیِّدُنا اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  ۔(سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے غلام)

یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نہایت ہی قریبی اور خاص الخاص خادم تھے۔ سفرو حضر میں   عموماً یہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ مختلف واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اِنہیں   سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مشیر کی حیثیت حاصل تھی۔نیز سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مشہور واقعہ جس میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عوام الناس ورعایا کی خیر خواہی کے لیے رات کو مدینہ منورہ کے علاقائی دورے کے لیے روانہ ہوئے ،  اُس میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہی غلام یعنی حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   ساتھ تھے۔ بیوہ خاتون کے لیے غلے کے گودام سے جب سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے راشن لیا اور اِنہیں   فرمایا کہ یہ سامان میری پیٹھ پرڈال دوتو اِنہوں   نے اُس سامان کو خود اٹھانے کی پیش کش کی لیکن سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فکر آخرت کا ذہن دیتے ہوئے اِن کی مدنی تربیت فرمائی۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ سے تقویٰ وپرہیزگاری کی خصوصی تربیت اور فیضان حاصل کرتے رہتےتھے۔

 



[1]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۲۸۴۔

[2]     مستدرک  حاکم  ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  قتال عمر مع المشرکین۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۳۸ ،  حدیث: ۴۵۵۰۔

[3]     صفۃ الصفوۃ ،  ج۱ ،  الجزء: ۱ ،  ص۱۴۲۔

[4]     مسند بزار ،  اسلم مولی عمر عن عمر ،  ج۱ ،  ص۴۰۳ ،  حدیث: ۲۷۹۔

[5]     مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ،  الباب الحادی عشر ، ص۲۳۔



Total Pages: 349

Go To