Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

نکلااور مجھے دیکھا تو خوش ہوکر بولا:  ’’ خوش آمدید بھانجے کہو کیسے آنا ہوا؟ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ تمہیں   یہ بتانے آیا ہوں   کہ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کلمہ پڑھ لیا ہے اور ان کا لایا ہوا پیغام تسلیم کرلیا ہے۔ ‘‘  جیسے ہی اس نے یہ سنا تو یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کرلیا کہ ’’  اللہ بُرا کرے تیر ا اور تیرے عقیدے کا۔ ‘‘  مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ([1])

اِظہار اِسلام کا انوکھا انداز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب اسلام لائے تو کفار قریش کو فوری طور پر اس کا علم نہ ہوسکا۔ آپ نے سوچا اہل مکہ میں   اسلام کے خلاف کون سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کرنے والا ہے؟ بتایا گیا:   ’’ جمیل بن معمر جمحی۔ ‘‘  ([2])آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس گئے۔حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں   کہ  ’’ میں   بھی اپنے والد گرامی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے پیچھے ہولیا اور میں   اس وقت مکمل ہوش وحواس اور فہم وشعور بھی رکھتا تھا۔ ‘‘  جیسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے پاس پہنچے تو اس سے کہا:  ’’ میں   اسلام لاچکا ہوں  ۔ ‘‘   اتنا سننا تھا کہ وہ مسجد حرام جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ،  اور قریش کی تمام مجالس میں   جاکر بلند آواز سے یوں   پکارنے لگا:   ’’ سنو! عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے جھڑک کرارشاد فرمایا:  ’’ كَذَبَ وَلٰكِنِّيْ اَسْلَمْتُ وَآمَنْتُ بِاللّٰهِ وَصَدَّقْتُ رَسُوْلَهُ یعنی اے لوگو!یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایا ہوں   ،  اور میں   نے اس کے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی ہے۔‘‘  ([3])

قبولِ اسلام کے بعد راہ خدا میں   تکالیف

قبول اسلام کے بعدکفار کی طرف سے تکالیف:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب کفار قریش کے سامنے اپنے اسلام کا کھل کر اظہار فرمایا تو تمام کفار آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر ٹوٹ پڑے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی خوب ڈٹ کر مقابلہ کیایہاں   تک کہ سورج ڈھل گیا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہان سے مقابلہ کرتے کرتے نڈھال ہو کر بیٹھ گئے۔ کفار پھر بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو تکلیفیں   پہنچا رہے تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:   ’’ اِفْعَلُوْا مَا بَدَاَ لَكُمْ فَوَاللہِ لَوْ كُنَّا ثَلَاثُ مِئَةَ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْتُمُوْهَا لَنَا اَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْیعنی تم جو کرسکتے ہو کرلو ،  اگر ہم (یعنی مسلمان)تین سو کے قریب ہوتے تو ہمارے درمیان فیصلہ ہوجاتا۔یاتو مکہ کی سرداری ہمیں   مل جاتی یا تمہارے پاس ہی رہتی۔ ‘‘  یہی باتیں   ہورہی تھیں   کہ اچانک وہاں   ایک شخص آگیا ،  جس نے ایک ریشمی حلہ اور قومسی قمیص پہنی ہوئی تھی ، وہ کہنے لگا:   ’’ کیا بات ہے؟ ‘‘   اسے بتایا گیا کہ عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا:   ’’ فَمَهْ اِمْرُؤٌ اِخْتَارَ دِيْناً لِنَفْسِهٖ اَفَتَظُنُّوْنَ اِنَّ بَنِيْ عَدِيْ تُسَلِّمُ اَيَّكُمْ صَاحِبَهُمْ ؟یعنی اسے چھوڑدو ،  ایک شخص نے جب نیا دین اپنے لیے پسند کرلیا ہےتو یہ اس کی مرضی ہے ،  تم کیا سمجھتے ہو کہ بنو عدی اپنے سرداروں   کو تمہارے حوالے کردیں   گے۔ ‘‘  یہ سننا تھا کہ آناً فاناً سب کفارآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےیوں   دور ہوگئے جیسے کسی چیز سےکپڑا کھینچ لیا جائے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ بعد میں   میں   نے مدینہ طیبہ آکر اپنے والدگرامی سے پوچھا:   ’’ يَا اَبَتِ مَنِ الرَّجُلُ الَّذِيْ رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ ؟یعنی اے ابّا جان ! وہ کون شخص تھا جس نے اس دن لوگوں   کو آپ سے دور کیا تھا؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ بیٹے وہ (میرا خالو)عاص بن وائل تھا۔ ‘‘  ([4])

راہ خدامیں   تکالیف اٹھانے کی خواہش:

حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ كَانَ الرَّجُلُ اِذَا اَسْلَمَ فَعَلِمَ بِهِ النَّاسُ يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْیعنی جب بھی کوئی اسلام  لاتا ہے تو اس کے ذریعے خود سے لڑنے پیٹنے والوں   کو جان لیتا ہے۔ ‘‘   بہرحال میں   اسلام لانے کے بعد ایک شخص کے گھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ،  اندر سے آواز آئی:  ’’  کون ؟ ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  عمربن خطاب۔ ‘‘  یہ سنتے ہی وہ شخص باہر نکل آیا۔ میں   نے کہا:  ’’ اَعَلِمْتَ اَنِّي قَدْ صَبَوْتُ ؟یعنی کیا تمہیں   معلوم ہے کہ میں   مسلمان ہوچکا ہوں  ؟ ‘‘   اس نے کہا:  ’’ واقعی ؟ ‘‘   میں   نے کہا :  ’’ ہاں   واقعی۔ ‘‘   وہ کہنے لگا:   ’’ ایسا نہ کرو۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ کیوں  ؟ ‘‘   وہ کہنے لگا:  ’’ بس نہ کرو۔ ‘‘   یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کرلیا۔ میں   نے کہا:   ’’ عجیب بات ہے۔ ‘‘   اس کے بعد میں  قریش کے ایک اوربڑے سردار کے پاس پہنچا ،  دروازہ کھٹکھٹایا تووہ بولا :  ’’ کون ؟ ‘‘   میں  نے کہا:  ’’ عمر بن خطاب۔ ‘‘   یہ سن کر وہ باہر آیا۔ میں   نے کہا:   ’’ اَعَلِمْتَ اَنِّي قَدْ صَبَوْتُ ؟یعنی کیا تمہیں   معلوم ہے کہ میں   مسلمان ہوچکا ہوں   ؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’ کیا واقعی۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ ہاں   یقیناً۔ ‘‘   کہنے لگا:   ’’ ایسا نہ کرو۔ ‘‘   اور ساتھ ہی اس نے دروازہ بند کرلیا۔میں   نے سوچا ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے۔چنانچہ مجھے ایک شخص نے مشورہ دیا کہ اگر تم اپنا اسلام تمام لوگوں   تک پہنچانا چاہتے ہو تو فلاں   شخص جب حرم میں   موجود ہو اس کے پاس جانا اور اسے بتانا ، وہ تمہارے اسلام کی خبر لوگوں   میں   پھیلا دے گا۔ تو میں   نے ایسے ہی کیا اورحرم میں   جاکر اس شخص کو تلاش کیا اور اپنے اسلام کا جب میں   نے اسے بتایا تو اس نے کہا:   ’’ واقعی مسلمان ہوگئے ہو تم؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ ہاں  ۔ ‘‘   تو اس نے بلند آواز سے پکارا:   ’’ اَلا اِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَایعنی اے لوگو ! سنو عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ ‘‘   بس پھرکیا تھا لوگوں   نے مجھے مارنا شروع کردیا ، میں  نے بھی لوگوں   کو بہت مارا۔ اتنے میں  میرا خالو عاص بن وائل وہاں   آگیا اس نے پوچھا:   ’’ یہ لوگ کیوں   جمع ہیں  ؟ ‘‘   بتایا گیا کہ عمر بن خطاب اپنے آباء کے دین سے پھر گیا ہے اور لوگ اس کے پیچھے پڑے ہیں  ۔ وہ شخص حجرۂ اسود کے قریب کھڑے ہو کر زور سے



[1]     سیرۃ  ابن ھشام ، ذکرقوۃ عمرفی۔۔۔الخ  ، ج۱ ، ص۳۲۴۔

[2]     یہ بعد میں   فتح مکہ کے موقع پر اسلام لے آئے تھے ،  غزوہ حنین میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شرکت فرمائی ،  ان کو  ’’ ذُوالْقَلْبَیْن ‘‘   یعنی دو دل والا کے لقب سے پکارا جاتا تھا ،  قرآن پاک میں   ایک جوف میں   دو دل کی ممانعت والی آیت مبارکہ انہیں   کے بارے میں   نازل ہوئی تھی۔(اسد الغابۃ ،  جمیل بن معمر ،  ج۱ ،  ص۴۳۳)

[3]     صحیح ابن حبان  ،  ذکر وصف اسلام عمر۔۔۔الخ ،  الجزء: ۹ ،  ج۶ ،  ص۱۶ ،  حدیث: ۶۸۴۰ ملتقطا۔

[4]     صحیح ابن حبان  ، ذکر وصف اسلام عمر۔۔۔الخ ،  الجزء: ۹ ،  ج۶ ،  ص۱۶ ،  حدیث: ۶۸۴۰۔



Total Pages: 349

Go To