Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کے اسلام پر آسمان والوں   کی خوشی :

(1)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے اور عرض کیا:   ’’ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ اَھْلُ السَّمَآءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

(2)حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ لَقَدْ فَرِحَ اَھْلُ السَّمَاءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَ یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبولِ اسلام پر آسمان والے بھی خوش ہوگئے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم چالیسویں   مسلمان ہیں  :

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر انتالیس افراد اسلام لاچکے تھے حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مسلمان ہونے پر چالیس کی تعداد مکمل ہوگئ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیج کر یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:  (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠) (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ‘‘  ([3])

اُنتالیس صحابہ کرام کے اسمائے مبارکہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے قبل اسلام لانے والے انتالیس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں  :   ’’ (1) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بكرصدیق (2) حضرت سیِّدُنا عثمان غنی (3) حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا (4) حضرت سیِّدُنا زبيربن عوام(5) حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ (6) حضرت سیِّدُنا سعدبن ابی وقاص (7) حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف (8) حضرت سیِّدُنا سعيدبن زید(9) حضرت سیِّدُنا ابو عبيدہ بن جراح (10) حضرت سیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب (11) حضرت سیِّدُنا عبيدہ بن حارث(12) حضرت سیِّدُنا جعفر بن ابي طالب(13) حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمير(14) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود(15) حضرت سیِّدُنا عياش بن ابي ربيعہ (16) حضرت سیِّدُنا ابو ذرغفاری (17) حضرت سیِّدُنا ابو سلمہ بن عبد الاسد(18) حضرت سیِّدُنا عثمان بن مظعون(19) حضرت سیِّدُنا زيد بن حارثہ(20) حضرت سیِّدُنا بلال حبشی (21) حضرت سیِّدُنا خباب بن ارت(22) حضرت سیِّدُنا مقداد بن عمرو(23) حضرت سیِّدُنا صهيب(24) حضرت سیِّدُنا عمار بن ياسر(25) حضرت سیِّدُنا عامر بن فهيرہ(26) حضرت سیِّدُنا عمرو بن عبسہ(27) حضرت سیِّدُنا نعيم بن عبد اللہ نحام(28) حضرت سیِّدُناحاطب بن حارث جمحي(29) حضرت سیِّدُنا خالد بن سعيد بن عاص(30) حضرت سیِّدُنا خالد بن بكير (31) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جحش(32) حضرت سیِّدُنا ابو احمد عبد بن جحش(33) حضرت سیِّدُنا عامر بن بكير

(34) حضرت سیِّدُنا عتبة بن غزوان(35) حضرت سیِّدُنا ارقم بن ابو ارقم (36) حضرت سیِّدُنا انيس بن جنادہ غفاری (37) حضرت سیِّدُنا واقد بن عبد اللہ (38) حضرت سیِّدُنا عامر بن ربيعہ(39) حضرت سیِّدُنا سائب بن عثمان رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کی قوت ایمانی اور دجال

 فاروقِ اعظم کی قوتِ ایمانی پر صحابہ کرام کا اتفاق:

حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   دجال کے متعلق بتایا کرتے تھے کہ اسے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گااور اسے اختیا ردیا جائے گا کہ اسے مار دے یا زندہ رکھے تو دجال اس سے کہے گا کہ ’’  اَلَسْتُ بِرَبِّکَ؟یعنی بتاکیا میں   تیرا رب نہیں   ہوں  ؟ ‘‘   وہ شخص جواب دے گا:   ’’ مَا كُنْتُ فِيْ نَفْسِيْ اَكْذِبُ مِنْكَ السَّاعَةَیعنی اے دجال ! میں   تجھ سے ایک لمحہ بھی جھوٹ نہیں   بولوں   گا۔ ‘‘  (یعنی میرا رب اللہ عَزَّ وَجَلَّہے) حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’ فَمَا كُنَّا نَرٰى اِلَّا اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتّٰى مَاتَہم سب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہی گمان تھا کہ دجال کو جس شخص پر مسلط کردیا جائے گا وہ یقیناً سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی ہوں   گے ۔لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کا اظہار واعلان اسلام

کفار کے گھروں   میں   اعلان اسلام :

حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعض گھر والوں   سے روایت کرتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایاکہ جس رات میں   ایمان لایا میں   نے سوچا کہ مکہ مکرمہ میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ مجھے اسے اپنے اسلام کی خبر دینی چاہیے۔میرے ذہن میں   آیا کہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن تو ابو جہل ہے۔اس کے پاس چلنا چاہیے۔لہٰذا جونہی صبح ہوئی میں   ابو جہل کے گھر پہنچا اور اس کا دروازہ کھٹکھٹا یا۔ ابوجہل باہر



[1]

Total Pages: 349

Go To