Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ترجمہ:  ’’ اس نے ہمیں   پیدا کیا لیکن ہائے افسوس!ہم اسی کو جھٹلانے لگے  ،  اس غیب کی خبریں   دینے والے (نبی) نے سچی باتیں   بتائیں   کہ جس کے پاس خبریں   ہیں  ۔ ‘‘ 

وَقَدْ ظَلَمْتُ ابْنَةَ الْخَطَّابِ ثُمَّ هَدىٰ ...... رَبِّيْ عَشِيَّةً قَالُوْا قَدْ صَبَا عُمَرُ

ترجمہ:  ’’ اور آہ!میں   نے( اپنی بہن) خطاب کی بیٹی (حضرت سیدتنا فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)پر ظلم کیا ،  پھر میرے پروردگار نے مجھے شام کے وقت ہدایت عطا فرمائی ،  اس پر کافر کہنے لگے عمر نے دین بدل لیا ۔ ‘‘ 

وَقَدْ نَدِمْتُ عَلٰى مَا كَانَ مِنْ زُلَلٍ ...... بِظُلْمِهَا حِيْنَ تُتْلٰى عِنْدَهَا السُّوَرُ

ترجمہ:  ’’ اوریہ جو غلطی مجھ سے سرزد ہوئی میں   اس پر نادم ہوں   کہ میں   نے (اپنی بہن پر)اس وقت ظلم وزیادتی کی  جب اس کے پاس قرآن مجید کی سورتیں   تلاوت کی جارہی تھیں  ۔ ‘‘ 

لَمَّا دَعَتْ رَبَّهَا ذَا الْعَرْشِ جَاهِدَةً ...... وَالدَّمْعُ مِنْ عَيْنِهَا عَجْلَانَ يَبْتَدِرُ

ترجمہ:  ’’ جب اس نے عرش کے مالک اپنے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ سے پوری کوشش سے دعا کی تو اس وقت اس کی آنکھوں   سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔ ‘‘ 

اَيْقَنْتُ اَنَّ الَّذِيْ تَدْعُوْهُ خَالِقُهَا ...... فَكَادَ يَسْبِقُنِيْ مِنْ عِبْرَةٍ دُرَرُ

ترجمہ:  ’’ جسے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ جس سے وہ دعائیں   مانگ رہی ہے وہ اس کا خالق ہے تو جلد ہی میری آنکھوں   میں   بھی موتیوں   جیسے آنسو ابھر آئے۔ ‘‘ 

فَقُلْتُ اَشْهَدُ اَنَّ اللّٰهَ خَالِقُنَا ...... وَاَنَّ اَحْمَدَ فِيْنَا الْيَوْمَ مُشْتَهَرُ

ترجمہ:  ’’ تواس پر میں   بے ساختہ پکار اٹھا کہ میں   گواہی دیتاہوں   کہ ہمارا خالق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے اور حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول بن کرظاہر ہوچکے ہیں  ۔ ‘‘ 

نَبِيُّ صِدْقٍ اَتٰى بِالْحَقِّ مِنْ ثِقَةٍ ...... وَافِى الْاَمَانَةِ مَا فِيْ عَوْدِهٰ خَوَرُ

ترجمہ:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسچے نبی حق لے کر آئے ہیں   ایسی قابل اعتمادشخصیت ( حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ) کے واسطے سے جو امانت کو درست پہنچانے والے ہیں   اوران کے بار بار آنے میں   کوئی نقصان نہیں   ہے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کے قبول اسلام کا سبب حقیقی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام کے اسباب تو بہت سے ہیں   لیکن قبول اسلام کا سبب حقیقی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے حق میں   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وہ دعا تھی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے قبول اسلام کے لیے مانگی تھی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسی دعا کا ثمرہ ہیں  ۔

دعائے محمد عطائے خدا ہے … صحابہ کا سردار فاروقِ اعظم

فاروقِ اعظم نےکب اسلام قبول فرمایا؟

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام کے تین دن بعد ایمان لائے۔تاریخ کے اعتبار سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہماہ ذوالحجہ ۶ بعثت نبوی(بمطابق۶۱۷عیسوی جمعرات) کوعین جوانی کی حالت میں   مشرف بااسلام ہوئے۔([2])

فاروقِ اعظم اللہکے محبوب ہیں  :

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یوں   دعا فرمائی:   ’’ اللَّهُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ اِلَيْكَ بِاَبِي جَهْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں   سے جو تجھے محبوب ہے اس کے ذریعے اسلا م کو عزت عطا فرما۔ ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔([3])

فاروقِ اعظم مراد رسول ہیں  :

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   یوں   دعا فرمائی:   ’’ اللَّهُمَّ اَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! خصوصاًعمر بن خطاب کے ساتھ اسلام کو عزت عطا فرما۔([4])

معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ ہیں   جنہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگ کر لیا ہےاور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمرادِ رسول  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  ۔

 



[1]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۴۳۔

[2]     طبقات کبری ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۰۴۔

[3]     ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۳ ،  حدیث: ۳۷۰۱۔

[4]     ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضل عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۷۷ ،  حدیث: ۱۰۵۔



Total Pages: 349

Go To