Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فرمایا! میں   ضرور کلمۂ شہادت کا ویسے ہی اعلان کروں   گا جیسے قبول اسلام سے قبل اپنے شرک کا اعلان کرتا رہا تھا۔ ‘‘  ([1])

(2)......فاروقِ اعظم کےاسلام لانے کا تفصیلی واقعہ :

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بارحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہاتھ میں   ننگی تلوار لیے باہر نکلے  ،  گلی سے گزر رہے تھے کہ قبیلہ بنوزہرہ کے ایک شخص سے سامنا ہوگیا ،  اس نے پوچھا:  ’’ اے عمر! کہاں   کا ارادہ ہے؟ ‘‘   کہا:  ’’  میں   محمدبن عبد اللہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو قتل کرنے جارہا ہوں  ۔ ‘‘   اس نے کہا:  ’’  اگر تم نے محمدبن عبد اللہ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو شہید کردیا تو بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے تمہیں   کیسے امن حاصل ہوگا؟ ‘‘   سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا:  ’’  لگتا ہے تم بھی اپنا دین تبدیل کرکے مسلمان ہوگئے ہو؟ ‘‘   اس نے کہا:  ’’  اے عمر ! کیا میں   تمہیں   اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتائوں   ؟ تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی دونوں   تمہارا دین چھوڑکر مسلمان ہوچکے ہیں  ۔ ‘‘   یہ سننا تھا کہ مزید طیش میں   آگئے اور اپنے بہن وبہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔آپ کی بہن حضرت سیدتنا اُمّ جمیل فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر میں   اس وقت حضرت سیِّدُنا خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی موجود تھےاور دونوں   کو قرآن مجید پڑھارہے تھے ،  جیسے ہی انہیں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آنے کی خبر ہوئی تو فوراً چھپ گئے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجیسے ہی اندر آئے توپوچھا:  ’’ مجھے کچھ پڑھنے کی بھنبھناہٹ آرہی تھی ،  تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ ‘‘  دونوں   نے جواب دیا:   ’’ ہمارے مابین تو کوئی گفتگو نہیں   ہوئی۔ ‘‘  آپ نے فرمایا:  ’’ مجھے لگتا ہے کہ تم دونوں   اپنا دین ترک کرچکے ہو۔ ‘‘  آپ کے بہنوئی بولے:  ’’  کیا حق تمہارے عقیدہ کے برخلاف نہیں   ہے؟ ‘‘   یہ سنتے ہی آپ اپنے بہنوئی پر پل پڑے اور انہیں   خوب مارا پیٹا۔آپ کی بہن غضب ناک ہو کر بولیں  :  ’’  اے عمر ! حق وہ نہیں   جو تمہارا عقیدہ ہے ،  اور سن لو میرا اعلان یہ ہے:  اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ ‘‘  جب آپ پر حق واضح ہونے لگا تو پوچھا:  ’’  جو کتاب تم لوگ پڑھ رہے تھے میرے پاس لاؤمیں   بھی پڑھنا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘   بہن نے کہا:  ’’  اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں  ۔تم وضو یا غسل کرلو پھر اسے پڑھ سکتے ہو۔آپ نے اٹھ کر وضو کیا ،   اورپھر قرآن پاک کی سورۃ طہ پڑھنا شروع کردی ۔جیسے جیسے قرآن پاک پڑھتے گئے اسلام کی محبت دل میں   اترتی گئی۔کہنے لگے:  ’’  مجھے محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس لے چلو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےجو چھپے بیٹھے تھے جب یہ سنا تو باہر نکل آئے اور بولے:  ’’ اے عمر! تمہیں   بشارت ہو مجھے یقین ہے کہ تم ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعا کا ثمر ہو کیونکہ جمعرات کی رات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل یہی دعا فرماتے رہے ہیں   : اَللّٰھُمَّ اَعِزِّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ اَوْبِعَمْرٍوبْنِ الْھِشَامیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! دین اسلام کو عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام (ابوجہل)کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ‘‘   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان دنوں   صفا پہاڑی کے دامن میں   واقع دار ارقم کے اندر جلوہ فرما  تھے۔حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں   آئے تو دروازہ پر حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ  ، حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  موجود تھے۔حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی آمد کا سن کر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  گھبراگئے۔حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ اگر عمر اچھی نیت سے آرہاہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی سلامتی چاہی تو بچ جائے گا ،  ورنہ اس کا قتل کوئی بڑی بات نہیں  ۔ ‘‘  اس وقت صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  صحن میں   اور حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے کمرے میں   تشریف فرما تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہرتشریف لائےاور سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا گریبان اور تلوار کی حمائل پکڑ کرارشاد فرمایا:  ’’  اے عمر! کیا تم اس وقت باز آئو گے جب ولید بن مغیرہ کی طرح اللہ عزوجل تمہاری ذلت میں   آیت نازل فرمائے گا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں   دعا فرمائی:   ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر کو راہ ِ اسلام نصیب فرما۔اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ عمر بن خطاب ہے ،  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ ‘‘  یہ سننا تھا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبے ساختہ پکار اٹھے:   ’’ میں   گواہی دیتا ہوں   کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں  ۔  ‘‘  اوراسلام قبول کرلیا۔([2])

اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا

دلہن بن کے نکلی دعائے محمد

اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا

بڑھی ناز سے جب دعائے محمد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

رسول اللہ کی دعا کا پس منظر:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام کے لیے جو حضورنبی رحمت ،  شفیعِ اُمت  ، حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دعا مانگی تھی اس کا پس منظر اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے والد گرامی رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے تفصیلاً بیان فرمایا ہے۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں   ہے:

 ’’ جب کفار مکہ نے مسلمانوں   کو ستا نا شروع کیا تو بعض مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی حبشہ ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ ہجرت کے ارادے سے گھر سے نکلے ،  ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ مکہ مکرمہ کے ایک مشہور شخص ابن دغنہ سے ملاقات ہوگئی ،  وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو واپس مکہ مکرمہ لے آیا اور تمام کفار کے



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب اول ما فعل ومن فعلہ ،  ج۸ ،  ص۳۴۲ ،  حدیث: ۱۴۷۔

[2]     مستدرک حاکم  ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب استقامۃ فاطمۃ علی الاسلام ،  ج۵ ،  ص۷۹ ،  حدیث: ۶۹۸۱ ملخصا۔ اتحاف الخیرۃ المھرۃ  ،  کتاب علامات النبوۃ  ، فضائل عمر بن الخطاب ،  ج۹ ،  ص۲۲۱ ،  حدیث:  ۸۸۶۵  ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To