Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ترجمہ:  ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نیکی اور صلہ رحمی کا حکم ارشاد فرماتے ہیں   اور لوگوں   کو بتوں   کی پوجا سے روکتے ہیں  ۔ ‘‘ 

ان اشعار کو سن کر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اسلام کے ساتھ محبت میں   مزید اضافہ ہوگیا۔([1])

(4)...... ’’ ضمار  ‘‘  نامی بت کا نبی کریم کی رسالت کی شہادت دینا:

جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بچھڑے اور بکری سے آگے نکلے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گذر  ’’ ضمار  ‘‘  پر سے ہوا یہ ایک بت کا نام ہے کفار اس کی پرستش کرتے تھے آپ نے اس بت سے اشعار سنے جن میں   ایمان پر شوق دلایا گیا تھا اور سیِّد عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کرنے پر ڈرایا گیا تھا۔ وہ پانچ اشعار درج ذیل ہیں  :

اَوْدَی الضَّمَارُ وَکَانَ یُعْبَدُ مُدَّۃً ...... قَبْلَ الْکِتَابِ وَقَبْلَ بَعْثِ مُحَمَّدٍ

ترجمہ:  ’’ ضمار (بت)برباد ہوگیا حالانکہ اس کی اس وقت سے عبادت کی جارہی تھی جب کہ قرآن مجید ابھی

نازل نہ ہوا تھا اور حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت بھی نہ ہوئی تھی۔ ‘‘ 

اِنَّ الَّذِیْ وَرِثَ النُّبُوَّۃَ وَالْھُدَی ...... بَعْدَ ابْنِ مَرْیَمَ مِنْ قُرَیْشٍ مُّھْتَدِیْ

ترجمہ:  ’’ حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد جو نبوت اور ہدایت کا اب وارث ہے وہ قبیلہ قریش کا ہدایت دینے والا ایک شخص ہے۔ ‘‘ 

سَیَقُوْلُ مَنْ عَبَدَ الضَّمَارَ وَمِثْلَہُ ...... لَیْتَ الضَّمَارَ وَمِثْلَہُ لَمْ یُعْبَدْ

ترجمہ:  ’’ وہ دن دور نہیں   جب ضمار اور اس کی مانند دیگر بتوں   کی پرستش کرنے والے کہہ اٹھیں   گے کہ کاش! ضمار اور دیگر بتوں   کی عبادت نہ کی جاتی۔ ‘‘ 

وَاصْبِرْ اَبَا حَفْصٍ فَاِنَّکَ آمِرٌ ...... یَّاْتِیْکَ عِزٌّ غَیْرُ عِزِّ بَنِیْ عَدِیْ

ترجمہ:  ’’ اے ابو حفص! اپنے موجودہ اِرادے سے ہاتھ روک لے ،  تجھے حکومت ملے گی اور بنو عدی کی دی ہوئی موجودہ عزت کے علاوہ بھی تجھے بڑی عزت نصیب ہوگی۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب بت کے یہ اشعار سنے تو آپ کے تعجب میں   مزید اضافہ ہوگیا اور اسلام کی محبت آپ کے دل میں   اور زیادہ ہوگئی۔([2])

(5)......فاروقِ اعظم اور ایک خوفناک چیخ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام میں   معاونت کا ایک اور واقعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود ہی بیان فرمایا کہ ایک بار میں   بت خانے میں   بتوں   کے قریب سویا ہوا تھا کہ ایک شخص بتوں   کے چڑھاوے کے لیے ایک بچھڑا لایا اور اسے ذبح کردیا۔ اچانک ایک زوردار اور خوفناک چیخ سنائی دی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ چیخنے والا کون ہے۔کوئی کہہ رہا تھا:   ’’ يَا جَلِيحُ اَمْرٌ نَجِيحٌ رَجُلٌ فَصِيحٌ يَقُولُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اے شخص! کتنی اہم بات ہے کہ ایک فصیح وبلیغ شخص کہ رہا ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   ۔ ‘‘   یہ آواز سن کر سب لوگ بھاگ گئے۔ البتہ میں   وہیں   پہ موجود رہا۔ میں   نے سوچا یہ کیا راز ہے میں   ضرور جاننے کی کوشش کروں   گا۔اچانک پھر وہی آواز

 دوبارہ آئی کہ :  ’’ يَا جَلِيحُ اَمْرٌ نَجِيحٌ رَجُلٌ فَصِيحٌ يَقُولُ لَااِلَهَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اے شخص! کتنی اہم بات ہے کہ ایک فصیح وبلیغ شخص کہہ رہا ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   ۔ ‘‘  بعد میں   معلو م ہوا کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اسلام کی دعوت دے رہے ہیں  ۔اس واقعے سے بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا دل اسلام کی طرف راغب ہوگیا۔([3])

قبول اسلام کے چند  واقعات

(1)......فاروقِ اعظم کے قبول اسلام کا ابتدائی واقعہ:

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے کی ابتداء آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   کہ ایک رات میری ہمشیرہ دردِ زِہ میں   مبتلا ہوئیں  ۔ لہٰذا رات گزارنے کی غرض سے میں   اپنے گھر سے نکل کر کعبۃ اللہ شریف کے پردوں   کے پیچھے چلا گیا۔ میں   نے دیکھا کہ حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائےاور سیدھے حطیمِ کعبہ میں   داخل ہوگئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو اُونی کپڑے اوڑھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رب عَزَّ وَجَلَّنے جب تک چاہا نماز ادا فرمائی اور واپس تشریف لے گئے۔ اسی دوران میں   نے ایک پر اثر اور غیر مانوس کلام سنا جو اس سے قبل کبھی نہ سنا تھا۔ میں   فوراً کعبۃ اللہ شریف کے پردوں   سے نکل کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری موجودگی کو محسوس فرمایا تو پوچھا:   ’’ کون ہے؟ ‘‘  میں   نے عرض کیا:   ’’ عمر بن خطاب۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ يَا عُمَرُ  مَا تَدَعُنْي لَيْلاً  وَلَانَهَارًایعنی اے عمر! تم رات دن کسی وقت بھی میرا تعاقب کرنے سے باز نہیں   آتے۔ ‘‘   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ فَخَشِيتُ اَنْ يَدْعُوَ عَلَيَّ یعنی میں   اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے کوئی بددعا نہ دے دیں   لہٰذا میں   نے فوراً کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کلمۂ شہادت سن کر ارشاد فرمایا:   ’’ اُسْتُرْهُ یعنی اے عمر! اسے ابھی پوشیدہ رکھو۔ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ لَاُعْلِنَنَّهُ كَمَا اَعْلَنْتُ الشِّرْكَیعنی اے میرے کریم آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث



[1]     شرح زرقانی علی المواھب  ،  اسلام الفاروق ،  ج۲ ،  ص۱۰ ملتقطا۔

[2]     شرح زرقانی علی المواھب ،  اسلام الفاروق ،  ج۲ ،  ص۱۰۔

[3]     بخاری ،  کتاب مناقب الانصار ،  باب اسلام عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۵۷۸ ،  حدیث: ۳۸۶۶ ملتقظا۔



Total Pages: 349

Go To