Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور چوتھی طرف حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو بٹھا دیجئے۔پھر اس ہوا کو بلائیں   جسے اللہ تعالینے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے مسخر فرمایا تھا ،  کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کرے آپ اُس ہوا سے ارشاد فرمائیے کہ اِن چاروں   صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو اٹھائے اور اس غار تک لے جائے جہاں   اصحاب کہف آرام فرما ہیں  ۔ ‘‘  چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا ہی فرمایا۔توہوا نے آپ کی چادر مبارک کو اٹھایا  ، چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس پر آرام وسکون سے بیٹھے رہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چادر آنکھوں   سے اوجھل ہوگئی یہاں   تک کہ اصحاب کہف کے غار کے پاس ہوا نے چادر کو زمین پررکھ دیا۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نےغار کے قریب پہنچ کر منہ سے پتھر ہٹایا جیسے ہی روشنی اندر پہنچی تو اَصحاب کہف کے اُس عاشق کتے نے جو اُن کے ساتھ ہی آرام کررہاتھا ہلکی سی آوازنکالی ،  گویا اس نے غار میں   داخل ہونے والوں   کوبغیر اجازت داخلے سے خبردار کیا۔خطرے کی بو سونگ کر فوراً حملہ کرنے کے لیے باہر آیا لیکن جب اولیاء اللہ کے اس عاشق نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِن پیارے عشاق کو دیکھا تو اِن کے قدموں   کے بوسے لینے لگا اور بڑے پیار سے اپنی دم ہلانے لگا اورپھر سرکے اشارے سے اندر آنے کو کہا۔ چاروں   صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم غار کے اندر گئے اورسوئے ہوئے اصحاب کہف کو یوں   سلام کیا:   ’’  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ۔ ‘‘   

اللہ تعالٰی نے اپنے کرم سے اصحاب کہف کو بیدا ر فرمایااور انہوں   نے بھی جواباً سلام کیا۔ چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے اپنا تعارف کروایا اورفرمایا:  ’’ بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے نبی حضرت محمدبن عبد اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ لوگوں   کو سلام ارشاد فرمایا ہے۔ ‘‘   انہوں   نےکہا:  ’’ ہماری طرف سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جب تک زمین وآسمان ہیں   سلامتی نازل ہو اور آپ سب پر بھی ۔ ‘‘  پھر سب لوگ بیٹھ کر باتیں   کرتے رہے۔ اصحاب کہف سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لے آئے اور دین اسلام کو قبول کیا اور عرض کیا کہ :  ’’ ہماری طرف سے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگا ہ میں   سلام پیش کیجئے گا۔ ‘‘   پھر وہ اپنی اپنی جگہوں   پر دوبارہ لیٹ گئے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ظاہر ہونے تک نیند طاری فرمادی۔ کہا جاتاہے کہ حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب ظہور فرمائیں   گے تو انہیں   سلام کریں   گے اورایک بار پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو بیدار فرمائے گا اوراس کے بعد قیامت تک کے لیے سوجائیں   گے ۔بہرحال چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان چادر پر اپنی اپنی جگہ دوبارہ بیٹھ گئے اور ہوا انہیں   بارگاہِ رسالت میں   پہنچانے کے لیے چادر کو لے کر چل پڑی۔ 

اُدھر حضرت سیِّدُناجبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہوگئے اور ان چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ جو ہوا سب کچھ بیان کردیا۔اور جب چاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے استفسار کیا کہ ’’  اصحاب کہف سے ملاقات کیسی رہی اور انہوں   نے کیا کہا؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم نے انہیں   سلام کیا ،  انہوں   نے جواب دیا ،  پھر ہم نے انہیں   دین اسلام کی دعوت دی تو انہوں   نے اسے قبول کیا اور دین اسلام میں   داخل ہوگئے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی۔یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! انہوں   نے آپ کو سلام بھی عرض کیا ہے۔ ‘‘  یہ سن کر نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت خوش ہوئے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا فرمائی:   ’’ یَا اِلٰہَ الْعَالَمِیْن! میرے  ،  میرے رشتہ داروں   ،  میرے دوستوں   ،  میرے بھائیوں   ،  میرے محبین کے مابین کبھی جدائی نہ ڈالنا اور جو مجھ سے محبت کرتاہے  ،  میرے اہل بیت سے محبت کرتاہے ،  ان کا حامی ہے ،  اور جو میرے اصحاب سے محبت کرتاہے ان سب کی مغفرت فرما۔‘‘([1])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم اور سیِّدُنا اُوَیْسِ قَرَنِی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مشہور تابعی بزرگ ہیں   ،  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوقُطب اور اَبدالوں   کے سرداروں   میں   شمار کیا جاتاہے۔اگرچہ آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا زمانۂ مبارکہ پایا ہے لیکن چونکہ زیارت سے مشرف نہ ہوئے اِس لیے شرف صحابیت کو نہ پایا۔ البتہ اَکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے آپ کی ملاقات ثابت ہے ،  یہی وجہ ہے کہ آپ تابعی کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   وہ تابعی بزرگ ہیں   جن کا تذکرہ بارگاہِ رسالت میں   ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ حصولِ برکت کے لیے آپ کے فضائل پر تین اَحادیث پیش خدمت ہیں  :

(1) …حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک شامی بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ اُنہوں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:  ’’ اِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ اُوَیْسٌ یعنی بے شک تابعین میں   سے سب سے افضل تابعی وہ ہے جسے اُوَیس کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ ‘‘  ([2])

(2)…حضرت سیِّدُنا سلام بن مسکین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا:  ’’ خَلِيْلِىْ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ اُوَيْسُ الْقَرَنِىْ یعنی اِس اُمت میں   میرے خلیل (دوست) اُوَیس قرنی ہیں  ۔ ‘‘  ([3])

(3)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا:   ’’ سَيَكُوْنُ فِيْ اُمَّتِيْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقَرَنِيْ وَاِنَّ شَفَاعَتَهُ فِيْ اُمَّتِيْ مِثْلَ رَبِيْعَةَ وَمُضَرَ یعنی میری اُمت میں   ایک شخص ہوگا جس کا نام اُویس بن عبد اللہ قرنی ہوگا ،  بے شک اُس کی شفاعت میری اُمت کے حق میں   قبیلۂ ربیعہ اور قبیلۂ مضر کے اَفراد سے بھی زیادہ ہوگی۔ ‘‘  ([4])

 



[1]     ر وح البیان ،  پ ۱۵ ، الکھف ،  تحت الآیۃ:  ۲۱ ،  ج۵ ،  ص۲۳۱ ،  انوارِ آفتاب صداقت ،  ج۲ ،  ص۱۹۸ ،  فیضانِ صدیق اکبر ،  ص۶۱۲۔

[2]     مسلم ،  کتاب الفضائل ،  با ب من فضائل اویس القرنی ،  ص۱۳۷۵ ، حدیث: ۲۲۴ مختصرا۔

[3]     طبقات کبری ، بقیۃ طبقۃ من روی ۔۔۔الخ ،  ج۶ ،  ص۲۰۵ ،  الرقم: ۲۰۷۶۔

[4]     جمع الجوامع ، حرف السین ، ج۵ ، ص۱۵ ،  حدیث: ۱۳۰۸۴۔



Total Pages: 349

Go To