Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…ایک بارحضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرماتھے ،  مدنی مکالمہ شروع ہو گیا ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا:  

٭… ’’  اَلْکَوَاکِبُ اَمَانٌ لِاَھْلِ السَّمَاءِ فَاِذَانْتَثَرَتْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَھْلِ السَّمَاءِ یعنی ستارے آسمان والوں   کے لیے اَمان ہیں   جب یہ جھڑ جائیں   گےتو تقدیر آسمان والوں   پر غالب آجائے گی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَھْلُ بَیْتِیْ اَمَانٌ لِاُمَّتِیْ فَاِذَا زَالَ اَھْلُ بَیْتِیْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اُمَّتِیْ یعنی میرے اہل بیت میری اُمت کے لیے اَمان ہیں   اور جب یہ دنیا سے چلے جائیں   گے تو میری اُمت پر قضاء غالب آجائے گی۔‘‘ 

٭… ’’ وَاَنَا اَمَانٌ لِاَصْحَابِیْ فَاِذَا ذَھَبْتُ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَصْحَابِیْ یعنی میں   خود اپنے صحابہ کے لیے اَمان ہوں   اور جب میں   اِس دنیا سے چلا جاؤں   گا تو قضاء میرے صحابہ پر غالب آجائے گی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَالْجِبَالُ اَمَانٌ لِاَھْلِ الْاَرْضِ فَاِذَا ذَھَبَتْ کَانَ الْقَضَاءُ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ یعنی پہاڑ زمین والوں   کے لیے اَمان ہیں   اور جب یہ پہاڑ ختم ہو جائیں   گے تو قضاء اُن پر غالب آجائے گی۔ ‘‘ 

٭خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ اَرْبَعَۃٌ تَمَامُھَا بِاَرْبَعَۃٍ یعنی چار۴ چیزیں   چار ۴چیزوں   کے ساتھ مکمل ہوتی ہیں  ۔ ‘‘  ٭… ’’ تَمَامُ الصَّلَاۃِ بِسَجْدَتَیِ السَّھْوِ ناقص نماز سجدۂ سہو کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالصَّوْمُ بِصَدْقَۃِ الْفِطْرِ اور روزہ صدقہ فطر کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالْحَجُّ بِالْھَدْیَۃِ اور حج قربانی کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔ ‘‘   ٭…  ’’ وَالْاِیْمَانُ بِالْجِھَادِ اور ایمان جہاد کے ساتھ مکمل ہوتاہے۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ اَلْبُحُوْرُ اَرْبَعَۃٌ یعنی سمندر چار ہیں  ۔ ‘‘  ٭… ’’ اَلْھَوٰی بَحْرُ الذُّنُوْبِ خواہشات گناہوں   کا سمندر ہیں۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالنَّفْسُ بَحْرُ الشَّھَوَاتِ اور نفس شہوتوں   کا سمندرہے۔ ‘‘  ٭… ’’  وَالْمَوْتُ بَحْرُ الْاَعْمَارِ اور موت عُمروں   کا سمندر ہے۔ ‘‘  ٭… ’’  وَالْقَبْرُ بَحْرُ النَّدَامَاتِ اور قبر ندامتوں   کا سمند رہے۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:

٭… ’’ وَجَدْتُّ حَلَاوَۃَ الْعِبَادَۃِ فِیْ اَرْبَعَۃِ اَشْیَاءٍ یعنی عبادت کی لذت کو میں   نے چار چیزوں   میں   پایا۔ ‘‘   ٭… ’’ اَوَّلُھَا فِیْ اَدَاءِ فَرَائِضِ اللہِ تَعَالٰی پہلی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی میں  ۔ ‘‘   ٭… ’’ وَالثَّانِیْ فِیْ اِجْتِنَابِ مَحَارِمِ اللہِ تَعَالٰی دوسری   اللہ

 عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں   سے بچنے میں  ۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالثَّالِثُ فِی الْاَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ ابْتِغَاءَ ثَوَابِ اللہِ تیسری   حصول ثواب کی خاطر نیکی کا حکم کرنے میں  ۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالرَّابِعُ فِی النَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ اتِّقَاءَ غَضَبِ اللہِ چوتھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب سے ڈرتے ہوئے برائی سے منع کرنے میں  ۔ ‘‘ 

٭…نیز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

٭… ’’ اَرْبَعَۃٌ ظَاھِرُھُنَّ فَضِیْلَۃٌ وَبَاطِنُھُنَّ فَرِیْضَۃٌ یعنی چار چیزیں   ایسی ہیں   جن کا ظاہر فضیلت والی بات ہے اور باطن فرض ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ مُخَالَطَۃُ الصَّالِحِیْنَ فَضِیْلَۃٌ وَالْاِقْتِدَاءُ بِھِمْ فَرِیْضَۃٌ یعنی نیک لوگوں   سے ملتے رہنا فضیلت والی بات ہے لیکن اُن کی اِقتداء کرنا فرض ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ فَضِیْلَۃٌ وَالْعَمَلُ بِہ فَرِیْضَۃٌ اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا فضیلت کی بات ہے لیکن اِس پر عمل کرنا فرض ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ وَزِیَارَۃُ الْقُبُوْرِ فَضِیْلَۃٌ وَالْاِسْتِعْدَادُ لَھَا فَرِیْضَۃٌ اور قبروں   کی زیارت کرنا فضیلت والی بات ہے لیکن اِس کی تیاری کرنا فرض ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ وَعَیَادَۃُ الْمَرِیْضِ فَضِیْلَۃٌ وَاتِّحَاذِ الْوَصِیَّۃِ مِنْہُ فَرِیْضَۃٌاور مریض کی عیادت کرنا فضیلت والی بات ہے لیکن اِس کی شرعی وصیت کو پورا کرنا فرض ہے۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ مَنِ اشْتَاقَ اِلَی الْجَنَّۃِ سَارِعْ اِلَی الْخَیْرَاتِ یعنی جس نے جنت کی خواہش کی ،  اس نے نیکیاں   کرنے میں   جلدی کی۔ ‘‘  ٭… ’’ وَمَنِ اشْفَقَ مِنَ النَّارِ اِنْتَھٰی عَنِ الشَّھَوَاتِ اور جس نے جہنم سے نجات کی خواہش کی ،  وہ شہوات سے رک گیا ۔ ‘‘  ٭… ’’ وَمَنْ تَیَقَّنَ بِالْمَوْتِ اِنْھَدَمَتْ عَلَیْہِ الَّلذَّاتُ اور جسے موت کا یقین ہو گیا ،  اُس کی لذتیں   ختم ہو گئیں  ۔ ‘‘  ٭… ’’ وَمَنْ عَرَفَ الدُّنْیَا ھَانَتْ عَلَیْہِ الْمُصِیْبَاتُ اور جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا  ،  اس پر مصیبتیں   آسان ہوگئیں  ۔ ‘‘    ([1])

فاروقِ اعظم کی اَصحاب کہف سے ملاقات

ایک دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   اَصحاب کہف سے ملاقات کی آرزو کی تواسی وقت حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اوربارگاہِ رسالت میں   عرض کی کہ  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ انہیں   دنیا میں   ظاہراً نہیں   دیکھ پائیں   گے ،  البتہ اپنے اکابر صحابہ میں   چار صحابیوں   کو ان کے پاس بھیج دیں   تاکہ وہ آپ کا پیغام اُن تک پہنچائیں   اور انہیں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لانے کی دعوت دیں  ۔ ‘‘   نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ اے جبریل! اس کی کیا صورت ہوگی ،  میں   اپنے صحابہ کوان کے پاس کیسے بھیجوں   اور ان کے پاس جانے کا حکم کس کو دوں  ؟ ‘‘  سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایسا کریں  آپ اپنی چادر مبارک کو بچھائیں   اورایک طرف حضرت  ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  دوسری طرف حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  تیسری طرف



[1]     المنبھات  ،  ص۳۵ ،  ماخوذا۔



Total Pages: 349

Go To