Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

خوشی ومسرت میں   تبدیل نہ کردوں   تب تک چین سے نہ بیٹھوں   گا اور نہ ہی واپس اپنے گھر جاؤں   گا۔اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ میں   اپنے مقصد میں   کامیاب ہوگیا۔ ‘‘  بہرحال آقا اور خادم دونوں   مدینہ منورہ کی مبارک گلیوں   سے ہوتے ہوئے واپس اپنے گھر آگئے۔([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حکایت کو پڑھ کر ہرشخص کے ذہن میں   یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ …مدینہ منورہ کی سخت سردی کی رات میں   یہ کون تھا جو اپنے خادم کے ساتھ شہر مدینہ کا دورہ کرنے باہر نکلا؟ …یہ کون تھا جس نے اپنے اور خادم کے درمیان ہر امتیاز کو ختم کردیا تھا؟ …یہ کون تھا جو اپنے خادم کے ساتھ بھی حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتا تھا؟ …یہ کون تھا جس کے دل میں   پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دکھیاری امت کی خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا؟ …یہ کون تھاجس نے رات گئے ایک غریب ونادار عورت اور اس کے روتے بچوں   میں   خوشیاں   تقسیم کیں  ؟ … یہ کون تھا جس کی باتوں   کے ہر ہر لفظ سے خوف خدا ظاہر ہوتا تھا ؟ …یہ کون تھا جس نے اپنے ہاتھوں   سے بچوں   کو کھانا کھلایا؟ …یہ کون تھا جس نے بچوں   کے ساتھ کھیل کر ان کی دلجوئی کی اور انہیں   خوش کیا؟ …یہ کون تھا جس کے عمل کو دیکھ کر وہ خاتون بھی بے ساختہ پکار اٹھی کہ  ’’ تم ہی امیر المؤمنین ہونے کے حق دار ہو۔ ‘‘  ؟جی ہاں   میٹھے اسلامی بھائیو! پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دکھیاری امت کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ رکھنے والا یہ شخص کوئی اور نہیں   بلکہ خلیفۂ ثانی  ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم کا نسب

فاروقِ اعظم کا نسب :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا نسب کچھ یوں   ہے:   ’’ عمر بن خطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رياح بن عبد اللہ بن قُرْطْ بن رَزَاح بن عدي بن كعب بن لؤي قرشي عدوي ۔ ‘‘  کعب بن لؤی پر جاکر نویں   پشت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا نسب دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نسب سے جا ملتا ہے۔([2])

فاروقِ اعظم کے نسب کی افضلیت:

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ عظیم سعادت حاصل ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا نسب نویں   پشت میں   حضرت سیِّدُنا کعب بن لؤی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر جاکر سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔

نقشۂ شجرۂ نسب

حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

خطاب

حضرت سیِّدُنا عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

نفیل

حضرت سیِّدُنا ہاشم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

عبد العزی

حضرت سیِّدُنا عبد مناف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

ریاح

حضرت سیِّدُنا قصی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

عبد اللہ

حضرت سیِّدُنا کلاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

قرط

حضرت سیِّدُنا مرۃ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

رزاح

-

عدی

حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

حضرت سیِّدُنا لؤی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

 



[1]     کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضائل الصحابۃ ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۸۹ ،  حدیث: ۳۵۹۷۳۔

                                                  الکامل فی التاریخ ،  ج۲ ،  ص۴۵۳ ،   فتاویٰ رضویہ ،  ج۲۲ ،  ص۳۸۹ ملخصاًومفھوماً۔

[2]     اسد الغابۃ ،  عمر بن خطاب ،  ج۴ ،  ص۱۵۶۔



Total Pages: 349

Go To