Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم اور نبوی مدنی مکالمے

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے تمام علمی معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فیضان تھے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت سے قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بارگاہِ رسالت میں   بسا اوقات کئی علمی مکالمے بھی ہوا کرتا تھے جن میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھرپور شرکت فرمایا کرتے۔ حصولِ برکت کے لیے صرف دو۲ مُکَالمے پیش خدمت ہیں  :

فاروقِ اعظم اور بارگاہِ رسالت کی تین محبوب چیزیں  :

ایک بار حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے اَصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے  ،  آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مدنی مکالمہ شروع فرمایا۔سب سے پہلے خود ہی ارشاد فرمایا:

٭…  ’’ حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلَاثٌ اَلطِّیْبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِیعنی مجھے تمہاری دنیا میں   تین چیزیں   پسند ہیں   ،  خوشبو لگانا ،  بیویاں   اور نماز میری آنکھوں   کی ٹھنڈک ہے۔‘‘ 

٭…  یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:

٭… ’’ صَدَقْتَ یَارَسُوْلَ اللہِ! وَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اَلنَّظْرُ اِلَی وَجْہِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رُخِ روشن کی زیارت کرنا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاِنْفَاقُ مَالِیْ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمْ اور اپنا مال دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی ذات مبارکہ پر نچھاور کرنا ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَنْ یَکُوْنَ اِبْنَتِیْ تَحْتَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور اپنی بیٹی کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نکاح میں   دینا۔ ‘‘ 

٭…  یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ صدیقی میں   عرض کیا:

٭… ’’ صَدَقْتَ یَا اَبَابَکْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی اے صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی نیکی کا حکم دینا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ اور برائی سے منع کرنا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَالثَّوْبُ الخَلَقُ اور پرانے کپڑے پہننا۔ ‘‘ 

٭…یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ فاروقی میں   عرض کیا:

٭… ’’ صَدَقْتَ یَا عُمَرُوَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی اے فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ! آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اِشْبَاعُ الْجِیْعَانِ یعنی بھوکے کا پیٹ بھرنا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَکِسْوَۃُ الْعُرْیَانِ  اور ننگے کو کپڑے پہنانا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا۔ ‘‘ 

٭…یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ عثمانی میں   عرض کیا:

٭… ’’ صَدَقْتَ یَا عُثْمَانُ وَحُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ثَلَاثٌ یعنی اے عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ !آپ نے سچ فرمایا اور مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں   محبوب ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اَلْخِدْمَۃُ لِلضَّیْفِ یعنی مہمان کی خدمت کرنا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالصَّوْمُ فِی الصَّیْفِاورگرمیوں   میں   روزے رکھنا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالضَّرْبُ بِالسَّیْفِ اور تلوار کے ساتھ جہاد کرنا۔‘‘ 

٭…بارگاہِ رسالت کے اِس علمی وروحانی مدنی مکالمے کو سن کر سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے:  ’’ اَرْسَلَنِیَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِمَا سَمِعَ مَقَالَتَکُمْ وَاَمَرَکَ اَنْ تَسْاَلَنِیْ عَمَّا اَحَبُّ اِنْ کُنْتُ مِنَ الدُّنْیَا یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ تبارک وتعالٰی نے آپ حضرات کا یہ مدنی مکالمہ سن کر آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے بھی یہ استفسار فرمائیں   کہ اگر میں   دنیا والوں   میں   سے ہوتا تو مجھے کون سی چیزیں   محبوب ہوتیں  ۔ ‘‘   دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِستفسار فرمایا:   ’’ مَا تُحِبُّ اِنْ کُنْتَ مِنْ اَھْلِ الدُّنْیَا یعنی اے جبریل! اگر تم دنیا والوں   میں   سے ہوتے تو تمہیں   کون سی چیزیں   محبوب ہوتیں۔ ‘‘  عرض کی:

٭… ’’ اِرْشَادُ الضَّالِّیْنَ یعنی راہ بھولنے والوں   کو راہ دکھانا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَمُوَانَسَۃُ الْغُرَبَاءِ الْقَانِتِیْنَ اور فرمانبرداراجنبیوں   سے ہمدردی کرنا۔ ‘‘   ٭… ’’ وَمُعَاوَنَۃُ اَھْلِ الْعَیَالِ الْمُعْسِرِیْنَ اور تنگ دستوں   کی مدد کرنا۔ ‘‘ 

٭…سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام پھر عرض گزار ہوئے:  ’’  یُحِبُّ رَبُّ الْعِزَّۃِ جَلَّ جَلَالَہُ مِنْ عِبَادِہ ثَلَاثَ خِصَالٍ یعنی اللہ رَبُّ الْعِزَّتْ جَلَّ جَلَالُہُ کوبھی اپنے بندوں   کی تین خصلتیں   محبوب ہیں  ۔‘‘ 

٭… ’’ بَذْلُ الْاِسْتِطَاعَۃِ یعنی (نیکیوں   کے معاملے میں  ) اپنی طاقت کو خرچ کرنا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالْبُکَاءُ عِنْدَ النَّدَامَۃِ اور ندامت کے وقت رونا۔ ‘‘  ٭… ’’ وَالصَّبْرُ عِنْدَ الْفَاقَۃِ اور فاقے کی حالت میں   صبرکرنا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور بارگاہِ رسالت کی چار چیزیں  :

 



[1]     المنبھات  ،  ص۲۷۔



Total Pages: 349

Go To