Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہوگئی۔ اِس طرح کے کئی واقعات کتب احادیث میں   موجود ہیں  ۔ غزوۂ فتح مکہ کے بارے میں   آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   سے مشاورت کی اورعمل فاروقِ اعظم کی رائے کے مطابق ہوا۔([1])

فاروقِ اعظم مدینہ منورہ کے عامل صدقات تھے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو عہدِ رسالت میں   یہ بھی فضیلت حاصل تھی کہ آپ کو حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ کے صدقات پر عامل مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابن سعدی مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی   سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے صدقات پر عامل بنایا ،  جب میں   نے اپنا کام مکمل کرلیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے اُس کی اجرت دینے کا اِرادہ کیا۔ میں   نے عرض کیا:  ’’ اِنَّمَا عَمِلْتُ لِلّٰهِ وَاَجْرِي عَلَى اللّٰهِ یعنی اے امیر المؤمنین! میں   نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کام کیا ہے اور مجھے اِس کا اَجر بھی وہی دے گا۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ خُذْ مَا اُعْطِيتَ یعنی جو تمہیں   دیا جارہا ہے وہ لے لو۔ ‘‘   پھر فرمایا کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے مبارک عہد میں   مجھے بھی صدقات پر عامل مقرر کیا گیا بعداَزاں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اِس کی اَجرت عطا فرمانے کا ارادہ کیاتو میں   نے بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہی عرض کیا جو تم نے مجھ سے کہا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذَا اُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ اَنْ تَسْاَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ یعنی اے عمر!جب تمہیں   کوئی چیز تمہارے مانگے بغیر ہی مل رہی ہو تو اُسے لے لو ،  اب تمہاری مرضی کہ اُسے خود کھالو یا رَاہ خدا میں   صدقہ کردو۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی حجۃ الوداع میں   رفاقت مصطفےٰ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  قبولِ اسلام سے لے کر سفر وحضر ہر جگہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی معیت میں   رہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں   جو آخری حج ادا فرمایا جس میں   قرآن پاک کانزول بھی مکمل ہوگیا اُسے  ’’ حجۃ الوداع ‘‘   کہتے ہیں   ،  اُس میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھرپور رفاقت مصطفےٰ نصیب ہوئی۔ اِسی حج کے موقع پر تکمیل دین کی آیات بھی نازل ہوئیں    ،  اُس وقت بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں   تھے ،  یہی وجہ ہے کہ بعد میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جب اِن آیات کے بارے میں   کوئی استفسار کرتا تو آپ اُس کی وضاحت فرماتے کہ یہ آیات حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھیں  ۔ چنانچہ ،

٭…حضرت سیِّدُنا طارق بن شھاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ قوم یہودمیں   سے ایک شخص (یعنی حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے اور ایمان لے آئے تھے) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے اور عرض کیا:   ’’ اِنَّكُمْ تَقْرَؤُوْنَ آيَةً فِيْ كِتَابِكُمْ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُوْدِ نَزَلَتْ لَا تَّخَذْنَا ذٰلِكَ الْيَوْمَ عِيْداً یعنی اے امیر المؤمنین! آپ لوگ اپنی کتاب یعنی قرآن پاک میں   ایک ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں   کہ اگر وہی آیت یہود پر نازل ہوتی تو اُس آیت کے نزول کے دن کو وہ عید مناتے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ وہ کون سی آیت ہے؟ ‘‘   اُنہوں   نے سورۂ مائدہ کی آیت مبارکہ تلاوت کی۔ جسے سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِى اُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَاَيْنَ رَسُولُ اللّٰهِ حِيْنَ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جُمْعَۃٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ بِعَرَفَۃَیعنی میں   اس دن اس وقت اور اس مقام کو اچھی طرح جانتا ہوں    ،  وہ جمعہ کی رات تھی اور ہم سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ مقام عرفہ میں   تھے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم عہدِ رسالت میں   فیصلےکیا کرتے تھے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   کہتے ہیں   کہ مجھ سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مَا يَمْنَعُكَ مِنَ الْقَضَاءِ وَقَدْ كَانَ اَبُوْكَ يَقْضِيْ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی اے عبد اللہ بن عمر!تمہیں   لوگوں   کے فیصلے کرنے سے کیا چیز روکتی ہے ، تمہارے والد امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں   فیصلے کیا کرتے تھے۔ ‘‘  میں   نے عرض کیا:   ’’ حضور!نہ میں   اپنے والد گرامی کی طرح ہوں   اور نہ ہی آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرح ہیں   ۔میرے والد گرامی پر جب کسی بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا تو وہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھ لیتے اور حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو کوئی اشکال ہوتا تو وہ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام  کے واسطے سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے پوچھ لیتے تھے۔ اور مجھےعہدۂ قضاء کی بالکل تمنا نہیں   ہے۔کیونکہ میں   نے رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کویہ فرماتے سنا ہے کہ :  ’’ مَنْ كَانَ قَاضِياً فَقَضٰى بِالْجَهْلِ كَانَ مِنْ اَهْلِ النَّارِ وَمَنْ كَانَ قَاضِياًفَقَضٰى بِالْجَوْرِ كَانَ مِنْ اَهْلِ النَّارِ وَمَنْ كَانَ قَاضِياً عَالِماً يَقْضِيْ بِحَقٍّ اَوْ بِعَدْلٍ سَاَلَ التَّفَلُّتَ كَفَافاً یعنی جو قاضی جہالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ جہنمی ہے اور جو قاضی ظلم وزیادتی کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ بھی جہنمی ہے اور جو قاضی عالم ہو اور حق کے ساتھ فیصلہ کرے یا عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرےتو اس نے برابری کی بنیاد پر جاں   بخشی کا سوال کیا۔ ‘‘   

یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمانے لگے:   ’’ اے عبد اللہ! یہ حدیث ہمارے قاضیوں   کو نہ سنانا ،  نہیں   تو وہ منصب قضاء چھوڑ دیں   گے اور ہمارے کام کے نہ رہیں   گے۔ ‘‘  ([4])

 



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب المغازی ، حدیث فتح مکۃ ، ج۸ ، ص۵۴۲ ، حدیث: ۵۳۔

[2]     مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب اباحۃ الاخذ۔۔۔الخ ،  ص۵۲۰ ،  حدیث: ۱۱۲۔

[3]     مسلم ،  کتاب التفسیر ،  ص۱۶۰۹ ،  حدیث: ۵۔ بخاری ،  کتاب الایمان ،  باب زیادۃ الایمان ونقصانہ ،  ج۱ ،  ص۲۸ ،  حدیث: ۴۵۔

[4]     صحیح ابن حبان  ، کتاب القضاء ، ذکرالزجر عن دخول المرءفی قضاء۔۔۔الخ ، ج۷ ،  ص۲۵۷ ، حدیث: ۵۰۳۴ ،  ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۳۵۔



Total Pages: 349

Go To