Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(18)… ’’ فاروقِ اعظم کی محبت ایمان کی ضمانت ہے۔ ‘‘   ([1])

(19)… ’’ سیِّدُنا ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام کے ماں   باپ ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا علمی ذوق وشوق:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہدِ رسالت میں   ایک پہلو نہایت ہی شاندا ر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مقابلے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بلا جھجک علمی سوالات کرلیا کرتے تھے ،  آپ کے علم دوست ہونے پر یہ بالکل واضح دلیل ہے ،  یہی وجہ ہے کہ علم نبوی کا کثیر حصہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں   آیا۔ ذخیرہ اَحادیث ایسی بے شمار احادیث سے بھرا ہوا ہے جن میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت سے علمی خزانے حاصل کرتے نظر آتے ہیں  ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مختلف علوم کے بارے میں   جاننے کے لیے اسی کتاب کا موضوع  ’’ اَوصافِ فاروقِ اعظم ‘‘  ص ۲۰۱کا مطالعہ کیجئے۔

فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول تھے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مشیر ووزیر ہونے کے ساتھ یہ بھی ایک عظیم شرف حاصل کیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ’’ مزاج شناس رسول ‘‘   تھے۔ اللہ

عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُخِ اَنور کی مختلف حیثیتوں   کی پہچان میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مہارت حاصل تھی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رُخِ مصطفےٰ کو دیکھ کر فوراً پہچان جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اَوقات ایک ہی بات کو کوئی اور صحابی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھتا مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزاج سے آشنا نہ ہونے کے سبب صحیح طریقے سے سوال نہ کر پاتااور وہی سوال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کرتے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس کا تفصیلی جواب اِرشاد فرماتے۔ مثلاً صحیح مسلم کی مشہور حدیث پاک ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں   ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   ایک شخص نے روزے کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجلال میں   آگئے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً مزاجِ رسول کو سمجھا اور وہی سوال کسی اور انداز میں   کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس کا تفصیلی جواب اِرشاد فرمایا۔([3])

فاروقِ اعظم رسول اللہ کو مانوس کرتے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عہدِ رسالت میں   نہ صرف یہ سعادت حاصل تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول تھے  ، اگر کبھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں   ہوتے تو آپرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِس طرح مانوس کرتے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال ،  جمال میں   تبدیل ہوجایا کرتا۔ مثلاًمذکورہ بالا روزے سے متعلق سوال والی روایت ہی کو پڑھ لیجئے کہ جیسے ہی اُس شخص نے روزے کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں   آگئے لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً ہی ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا وہ جلال ،  جمال میں   تبدیل ہوگیا۔ اِسی طرح بخاری شریف کی ایک طویل روایت ہے جس کاخلاصہ کچھ یوں   ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   یہ مشہورہوگیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اَزواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے  ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کبیدہ خاطر (رنجیدہ)پایاتو اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے:   ’’ اَسْتَاْنِسُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   آپ سے انسیت بھری گفتگو کرنا چاہتاہوں  ۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایسی پیاری گفتگو کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ملال جاتا رہا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خوش ہوگئے۔([4])

فاروقِ اعظم بارگاہِ رسالت کے مشیر:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رسالت میں   ایک اور ایسا عظیم مقام ومرتبہ بھی حاصل تھا جس میں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ کوئی آپ کا شریک نہ تھا ،  وہ یہ کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت کے مشیر تھے۔حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مختلف اُمور پر مُشَاوَرَت فرماتے رہتے تھے  ،  بلکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مُشاورت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ارشادہوتا ہے:  (وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ-) (پ۴ ،  آل عمران: ۱۵۹) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور کاموں   میں   اُن سے مشورہ لو۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اِس آیت میں   جن سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اُن سے مراد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔([5])

اور بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے مشورے کے مطابق وہ کام ہوا۔بلکہ آپ نے جو رائے پیش کی اُسے بارگاہِ رب العلمین وبارگاہِ رسالت دونوں   سے تائید حاصل



[1]     کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضل الشیخین۔۔۔الخ ،  الجزء:  ۱۳ ،  ج۷ ،  ص۸ ،  حدیث:  ۳۶۱۱۔

[2]     تاریخ الاسلام للذھبی ،  ج۳ ،  ص۲۷۴۔

[3]     مسلم ،  کتاب الصیام ،  استحباب صیام ثلاثۃ ایام۔۔۔الخ ،  ص۵۸۹ ،  حدیث: ۱۹۶۔

[4]     بخاری ،  کتاب المظالم والغضب ،  باب الغرفۃ والعلیۃ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۱۳۳ ،  حدیث: ۲۴۶۸ ملتقطا۔

[5]

Total Pages: 349

Go To