Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اس سے استفادہ اسی صورت میں   ممکن ہے جبکہ اس کے شرائط و آداب بھی ملحوظِ خاطر رہیں   ورنہ عین ممکن ہے کہ دعا کرنا فائدہ مند نہ ہو۔دعا کے فضائل وآداب اور اس سے متعلقہ احکام پر مشتمل دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 326صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فضائل دعا ‘‘   کا مطالعہ فرمائیے۔

یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصلاحی اقوال زریں   ،  نصیحت آموز خطبات ،  فکر آخرت سے بھرپور وصیتیں   اور عجزوانکساری سے معمور دعاؤں   سے فیضیاب فرما ،  ہمیں   ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جتنا دنیا میں   رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے ،  اور جتنا آخرت میں   رہتا ہے اتنا آخرت کی تیار کرنے کی توفیق مرحمت فرما ،  یَا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   معاف فرمادے ،  ہم سے ہمیشہ کے لیے راضی ہو جا ،  کل بروز قیامت اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب فرما ،  ہمیں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما ،  سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما ،  سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شفاعت نصیب فرما ،  مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی شفاعت نصیب فرما ،  ہمیں   جنت الفردوس میں   ان تمام مقدس ہستیوں   کا پڑوس نصیب فرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

عفو کر اور صدا کے لیے راضی ہو جا

گر کرم کر دے تو جنّت میں   رہوں   گا یا رب

گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی

ہائے میں   نار جہنم میں   جلوں   گا یارب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پانچوا باب

فاروقِ اعظم عہد ِ رسالت میں

اس با ب میں ملاحظہ کیجئے

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہد رسالت میں مبارک کردار

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فضائل میں انفرا دیت

دو فضائل جو فقط سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی کو حاصل ہوئے۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فضائل میں شراکت

دو فضائل جن میں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ  دیگر صحابہ اکرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان شریک ہیں۔
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور بارگاہ رسالت میں مدنی مکالمے

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اصحاب کہف سے ملاقت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیدنا اویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ملاقت

٭…٭…٭…٭…٭…٭

فاروقِ اعظم عہدِرسالت میں 

فاروقِ اعظم بارگاہِ نبوی وصدیقی کے تربیت یافتہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً ایسا ہوتاہے کہ جب کسی حاکم کو حکمرانی مل جائے تو اُس کے طور طریقے کھل کر سامنے آجاتے ہیں   اور بسا اوقات ایسی باتیں   بھی اُس سے صادر ہوجاتی ہیں   جو حکمرانی سے پہلے اُس میں   موجود نہ تھیں   ،  یقیناً مخلص حکمران وہی ہے جس کا کردار حکمرانی ملنے سے پہلے اور بعد دونوں   صورتوں   میں   یکساں   رہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی ذات مبارکہ ایسی ہی تھی کہ عَہدِرسالت وعَہدِ صدیقی دونوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں   کی تائیدوتوثیق حاصل رہی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا کردار آپ کی سیرتِ طیبہ کی بہترین عکاسی کرتاہے ،  اِن دونوں   اَدوار میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی سیرتِ طیبہ کو دیکھنے اور بعد میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے اپنے عہد میں   آپ کی سیرت کو دیکھنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں   ہوجاتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بارگاہِ رسالت اور بارگاہِ صدیقی کے تربیت یافتہ تھے۔کبھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِن دونوں   کی مخالفت نہ کی بلکہ اپنے وصالِ ظاہری تک اِنہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسی بے مثال حکمرانی کی جو قیامت تک آنے والےتمام حکمرانوں   کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ رسالت میں   حیاتِ طیبہ کے بے شمار پہلو ہیں   ،  بعض تو ایسے ہیں   جنہیں   پورے باب کی حیثیت حاصل ہے ،  اِنہیں   باب ہی کے طور پر بیان کیا گیا ہے مثلاً:

٭…فاروقِ اعظم کا قبولِ اسلام                                              ٭…فاروقِ اعظم کی ہجرت

٭…فاروقِ اعظم کا عشق رسول                                              ٭…فاروقِ اعظم کے غزوات وسرایا

اِن کے علاوہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ رسالت کے کئی روشن پہلو ہیں  ۔ تفصیل درج ذیل ہے:

 



Total Pages: 349

Go To